ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعرات، 7 نومبر، 2013

صبیحہ صبا کے شعر میں نعت کی خوشبو ہے


جانے کوئی کب کہہ دے، جانا ہے مدینے میں 

کچھ پھول درودوں کے لانا ہے مدینے میں 

وہ گنبدِ خضراء بھی دیکھیں تو ذرا جا کر 
خوابوں کی وہ تعبیریں پانا ہے مدینے میں 
اللہ ہی تو واحد ہے،معبودِحقیقی ہے 
ہو کر ہمیں کعبے سے جانا ہے مدینے میں 
پیغامِ خداوندی جب آپ نے پہنچایا 
اک شکرگذاری کو جانا ہے مدینے میں 
جس شہرِ مقدس میں سجدے کئے آقا نے 
چل کر ہمیں مکے سے جانا ہے مدینے میں آقائے دو جہاں کے ساتھ اپنے تعلق کو جب ایک شاعر جذبہ و احساس کی سچائی،گہرائی اور فنکارانہ حسن کے ساتھ بیان کرتا ہے تو نعت کے تیور کیا سے کیا ہو جاتے ہیں۔


صبیحہ صبا کی شاعری میں خدا کے رسول کے حضور اس کی سپاس گذاری،اس کی بے پناہ عاجزی ہے۔وہ تصور میں تجلیِ ذات کی جھلمل دیکھتی ہیں اور خود کو آقائے دوجہاں کے قدموں میں پاتی ہیں۔ان کی لفظیات،ان کا اسلوب ہر اعتبار سے معیاری ہے۔وہ ان بہت ہی نرم و 
نازک جذبوں اور خیالوں کو بے ساختہ لفظوں کا لبادہ عطا کرنے کی پوری توفیق رکھتی ہیں۔ 
کبھی تو قدموں کی آہٹیں ہوں صبا کے دل کی زمین پر بھی 
عقیدتوں سے بنا لیا ہے حرا کے جیسا یہ غار دل میں ،،تیری صدا آئی،، اردو منزل ڈاٹ کام کی مدیراعلیٰ معروف شاعرہ صبیحہ صبا کا وہ مجموعہ کلام ہے جس کی تقریب ِ رونمائی کے موقع پر خط
اب کرتے ہوئے معروف ادیب و دانشور اشفاق احمد نے کہا کہ صبیحہ صبا کی غزل میں حوالے کے اعتبار سے نعت کا رنگ نمایاں ہے اس کی باتوں میں نعت کی خوشبو ملے گی۔شاعرہ کا چلن اور حوالہ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اس کا رخ اسی طرف ہے۔اشفاق احمد نے کہا کہ صبیحہ صبا کے اشعار خود اس کا تعارف ہیں۔اشفاق احمد نے درست اندازہ لگایا تھا خانوادہِ رسول سے براہِ راست تعلق کی بنا پر صبیحہ صبا مدحتِ رسول میں ڈوبی وہ شاعرہ ہے جس کی نعت سادگی سے عبارت ہے۔ آئی اے رچرڈز کا کہنا ہے کہ اچھی شاعری وہ ہے جہاں زبان کی ترتیب و تنظیم کے لئے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا ہو۔ شاعری کے لئے بہت ہی متنوع خیالات اور معتدل نظریات کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعری خاص طور پرغزل ایک انتہائی لطیف صنفِ سخن ہے۔ تجربات و مشاہدات کے لئے ایک بہت پیارے اور غیر معمولی حد تک معتدل لسانی عمل کی ضرورت ہے۔ زندگی کی رعنائیوں، رنگینیوں اور شادمانیوں کو اپنے من میں ڈوب کر ان کو حقیقت کا سراغ پانے کی حد تک تلاش کرنا پڑتا ہے۔ شاعری پر کسی قوم یا علاقے کے اجتماعی مزاج کے اثرات چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی مرتب ہوتے ہیں۔تقسیمِ ہند سے پہلے کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو ساری شاعری کا آہنگ ایک جیسا نظر آتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر قوم اور ہر علاقے کے اجتماعی مزاج کا پرَتو اس علاقے کی شاعری میں نظر آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہندی شاعری گیت کی مدھرتا کی لے پر رقص کرتی نظر آتی ہے جبکہ پاکستان میں شامل علاقوں میں عجز و انکسار، پیار اور محبت کی کھلی فضا کا رنگ ہے کشمیر اور سرحد کے پہاڑوں کا ترفع، پنجاب اور سندھ کے ریگستانوں کی وسعت کا عکس بھی ہے۔ دریاؤں کا ٹھاٹھیں مارتا جوش بھی ہے اورمیدانی علاقوں میں ان کا سست ر و ٹھہراؤ بھی۔پاکستان کی اردو شاعری مشاہدے، احساسات، تجربات اور کیفیات کو زبان کی ترتیب و تنظیم ایک جمالیاتی نظام کی ترکیب کا عنصر بنی دکھائی دیتی ہے۔ صبیحہ صبا کی شاعری کی اٹھان پنجاب کے شہر ساھیوال سے ہوئی۔ پنجاب کا خاص کلچر اور گھر کے ادب دوست اردو ماحول نے ان کی شاعری کو جہاں لطیف نازکی بخشی وہیں تجربات و مشاہدات کے معتدلانہ عمل نے پنجاب کے اجتماعی مزاج کی خوشبو کے رنگ ان کی شاعری میں بکھیر دئیے۔ صبیحہ صبا آج کے دور کی حساس شاعرہ ہیں ان کی یہ حساسیت ان کی شخصیت اور شاعری دونوں میں جھلکتی ہے۔ان کی شاعری کے پس منظر میں ان کے ذھنی رویوں کا عکس نمایاں ہے۔ 
دنیا ہوئی مشکل، یہی مشکل ہے ہماری 
دنیا کو ہے آسان بنانے کی ضرورت صبیحہ صبا دھیمے لہجے میں دل سے دل کی بات کرنے کا ہنر جانتی ہیں لیکن کبھی کبھی ان کا لب و لہجہ ان کے اندرونی کرب کی غمازی کرتا ہے 
سفاکی کا زہر انڈھیلا جاتا ہے 
انسانوں کے خون سے کھیلا جاتا ہے 
اپنی سوچ سے کام نہ لینے والوں کو 
پستی میں کچھ اور دھکیلا جاتا ہے 
لوگ ذرا سی ہمدردی کر جاتے ہیں 
کرب کو اپنے خود ہی جھیلا جاتا ہے 
اڑان خوب تر ہوئی جو پنچھیوں کی ڈار کی 
تو گھیر گھار کر کسی نے زیر دام کر دیا صبیحہ صبا کی شاعری میں ایک ایسی جاذبیت اور کشش ہے کہ پڑھنے والا اپنے من میں جہاں ایک کسک محسوس کرتا ہے وہیں اس دھرتی کی مٹی سے اٹھنے والی سوندھی سوندھی خوشبو کو بھی محسوس کرتا ہے۔ صبیحہ صبا نے اپنے اسلوبِ شعر کی تشکیل میں اپنے عہد کے مزاج کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔ صبیحہ صبا کی شاعری کا ایک موضوع وطن سے اظہارِ محبت بھی ہے جس کا اظہار وہ شاعرانہ حسن سے کرتی ہیں اور کہیں وہ محبت کے جذبات میں ڈوب جاتی ہیں۔ 
وطن سے مہر و وفا جسم و جاں کا رشتہ ہے 
وطن ہے باغ تو پھر باغباں کا رشتہ ہے 
وطن سے دور رہیں یا وطن میں بس جائیں 
یہ مہر باں سے کسی مہر باں کا رشتہ ہے 
شامل ہیں اسی ملک کی تعمیر میں ہم بھی 
یہ ملک ہے تصویر،تو تصویر میں ہم بھی 
سونا ہے ہر اک ذرہ مری دھرتی کا لیکن 
کیوں لوگ صبا ہیں یہاں نادار زیادہ 
وطن دل میں رہا دلدار ہو کر 
میں لوٹ آئی سمندر پار ہو کر 
کیوں سارے ثمر غیر کا ہوتے ہیں مقدر 
سب اپنی زمیں اپنے در وبام کے ہوتے صبیحہ صباکی شاعری کا مرکزی خیال وہی پریم رس ہے جو اردو شاعری کا خاصہ ہے۔ 
دل میں آجا دل برسائیں 
سوُنا تجھ بن یہ گھر سائیں 
تو کیا جانے اس دوری میں 
کیا بیتی ہے دل پر سائیں 
یاد ہی میرا سرمایہ ہے 
تو بھی یاد کیا کر سائیں 
دکھ کی آنچ ہے دھیمی دھیمی 
دکھ تو د ل کے اندر سائیں 
اس کو مل جاتی ہے منزل 
جس کو پیارا وہ در سائیں یا پھر یہ اشعار دیکھئیے 
اک تری یاد سے یادوں کے خزانے نکلے 
ذکر تیرا بھی محبت کے بہانے نکلے 
دل میں کچھ ٹوٹنے لگتا ہے ترے ذکر کے ساتھ 
چند آنسو تیری الفت کے بہانے نکلے 
یاد رکھنے کے لئے یاد سہانی لے جا 
اپنی نگری میں محبت کی کہانی لے جا 
کون کہتا ہے محبت کے نگر سُونے ہیں 
اک دھڑکتا ہوا دل ساتھ نشانی لے جا صبیحہ صبا کا سب سے اہم موضوع ہماری سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی، اس کے مسائل و مصائب کے حوالے سے ہے یہاں بھی ان کا انداز ایک درد مند دل رکھنے والے ذی روح کا سا ہے۔ 
پوری وادی میں بھر گئے شعلے 
جو بھی نکلا ہے جل کے نکلا ہے 
پڑ گیا ہے واسطہ طوفان سے 
خود ہی چھوڑی ہاتھ سے پتوار کیوں 
حالات اس طرح رہتے ہیں زمانے کے 
دیکھا ہے یہی ہم نے سلطان بدلتے ہیں صبیحہ صبا الفاظ سے تصویر کشی کرتی ہیں اور جس ماحول میں سانس لے رہی ہیں اور معاشرے کی جو تصویر دیکھتی ہیں اسے اپنے داخلی جذبات اور احساسات کی روشنی میں جلا دے کر قرطاس پر بکھیر دیتی ہیں۔ 
صرف ریشم نہیں تلوار بھی ہو سکتے ہیں 
یہ جو مظلوم ہیں خونخوار بھی ہو سکتے ہیں 
ہم کسی عہدِ وفا کے لئے پابند نہیں 
ہم ترے نام سے بیزار بھی ہو سکتے ہیں 
ہو مقدر میں اندھیرا یہ ضروری تو نہیں 
خوابِ غفلت سے وہ بیدار بھی ہو سکتے ہیں 
کسی مظلوم کے جھلسے ہوئے چہرے کی طرح 
یہ کسی اور کے رخسار بھی ہو سکتے ہیں 
میرے شہروں میں قیامت سی مچانے والے 
ہاتھ باندھے پس دیوار بھی ہو سکتے ہیں کسی بھی شاعر کا مطالعہ کیجئے اس کے ہاں ذات ہے یا کائنات، ہر شاعر نے اپنا کینوس خود بنایا ہے جو کہیں چھوٹا ہے کہیں بڑا۔اس قدر و قیمت کا انحصار شاعر کی فکر اور اس کے علم پر ہے۔صبیحہ صبا کو شروع سے ایک استوار فکر ملی۔مرد شاعری کرتے ہیں تو ان کو بھی اپنی ذات میں جھانکنا پڑتا ہے۔ صبیحہ صبا نے بھی من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پایا ہے۔


 اور آخر میں صبیحہ صبا کی ایک خوبصورت غزل: 
جھلسی ہو ئی اک درد کی ماری ہوئی دنیا 
اک ظلم کے آسیب سے ہاری ہوئی دنیا 
قدرت نے سجایا ہے اسے لالہ و گل سے 
کیا ہم نے دیا جب سے ہماری ہوئی دنیا 
جو ہو گیا دنیا کا وہ اپنا نہیں رہتا 
اپنے سے بھی ذیادہ جسے پیاری ہوئی دنیا 
اک کھیل تماشہ نہیں یہ چیز الگ ہے 
تم شوق سے لے لو کہ تمہاری ہوئی دنیا 
مٹھی میں دبی ریت کے مانند یہ بکھرے 
یاد آتی ہے رہ رہ کے گزاری ہوئی دینا 
گرتوں کو سنبھلنے کی یہ مہلت نہیں دیتی 
چڑھتے ہوئے سورج کی پجاری ہوئی دنیا 
ہے اتنی کشش اس میں کہ دیوانہ بنائے 
جیسے کہ ہو جنت سے اتاری ہوئی دنیا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں