ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


ہفتہ، 30 نومبر، 2013

جنرل کیانی جنرل راحیل ( جاہد احمد کے قلم سے)

مہذب اقوام میں منصب جتنا اونچا اور طاقت کی جتنی بہتات ہو ذمہ داری اتنی ہی زیادہ اور حساب اتنا ہی سخت ہوتا ہے۔ پر پاکستان کی تاریخ میں جسے جتنی زیادہ طاقت ملی اس نے نا ہی اس کا ناجائز استعمال کیا اورحساب کتاب میں تو ہم ازل سے ہی کمزور واقع ہوئے ہیں۔ 
بالآخر وزیرِ اعظم کم وزیرِ دفاع نواز شریف صاحب نے جنرل کیانی سے مشاورت کے بعد پاکستان کے نئے چیف آف آرمی سٹاف کے لئے لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کا چناؤ کر لیا۔ بے شک اس عہدے پر تقرری کے لئے جنرل راحیل شریف سینئر ترین جنرل نہیں تھے تو نواز شریف صاحب نے الیکشن سے پہلے کئے گئے اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے جنرل ہارون اسلم کو نظر انداز کیا اور ایک مرتبہ پھر اپنی دانش پر بھروسہ کر کے راحیل شریف کا انتخاب کیا ہے۔ خدا کرے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے حق میں درست ثابت ہو! جنرل ہارون اسلم کو نظر انداز کرنے کی بنیادی وجہ صرف یہی ہو سکتی ہے کہ9 199میں نواز گیا ہے تو یہ بھی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ شاید جنرل کیانی کی نظر میں بھی ہارون صاحب اس منصب کو سنبھالنے کے لئے موزوں شحصیت نہیں ہیں!!!بہر حال میرٹ حکومت کا تختہ الٹنے میں پرویز مشرف کا ساتھ دینے والوں میں یہ 
صاحب پیش پیش تھے۔ مزید یہ کہ کیونکہ یہ فیصلہ جنرل کیانی کی مشاورت سے کیا پر کئے گئے فیصلے مستقبل میں غلط بھی ثابت ہوں تو کم از کم یہ تسلی رہتی ہے کہ فیصلہ سازی مکمل میرٹ پر کی گئی تھی بصورتِ دیگر اپنے آپ کو کوسنے سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔پچھلی مرتبہ میرٹ پر عقل کو ترجیح دی تھی تو نتیجہ حکومت کے خاتمے اور دیس نکالے کی شکل میں کئی سال بھگتنا پڑا تھا! ویسے یہ امید تو رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں جمہوریت اتنی پروان چڑھ گئی ہے کہ فوج اور سیاست دان اپنی اپنی جگہ پر رہ کر کام کرنے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔ کیانی صاحب نے اپنے چھ سالہ دور میں جس انداز 

منگل، 26 نومبر، 2013

دوحہ،قطر، شاعری ہمسفر ۔۔۔۔رضی الدین رضی

شاعری کم و بیش پینتیس برس سے میری ہمسفر ہے ۔اس نے لڑکپن میں میرا ہاتھ تھاما توسفر کا آغازہوا۔یہ مجھے گلیوں گلیوں لیے پھری۔کبھی کی یادوں کے سہارے ۔کبھی کسی کے تقریب کے بہانے۔کبھی مشاعرے یا کسی کانفرنس میں ۔اور کبھی کسی کتاب کی تعارفی تقریب میں۔ملتان سے میں جتنی بار بھی باہر گیا ۔زیادہ تر شاعری ہی اس کا وسیلہ بنی۔صحافت کے ساتھ منسلک ہونے کے ناطے میرے لئے ملتان سے نکلنا کبھی بھی آسان نہیں رہا ۔اخبارات کے ڈیسک پر طویل ڈیوٹی کے دوران چھٹی لینا ہمیشہ مشکل ہوتا تھالیکن شاعری مجھے جب بھی آواز دیتی میں انتہائی کڑے حالاتِ کار کے باوجود اس کے ساتھ سفر پر نکل جاتا۔اس مرتبہ شاعری نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے دیارغیر لے گئی۔29اکتوبر کی صبح دوحہ ایئرپورٹ پر قدم رکھا تو ماضی کے بہت سے سفر 
نگاہوں میں گھوم گئے۔ایک نیا منظر ،نئے راستے اورنئے لوگ میرے منتظر تھے۔ 28اکتوبر کی شب لاہورایئرپورٹ سے 

سوموار، 25 نومبر، 2013

ناصر رضوی کے مجموعے حرف و صدا کی تقریبِ پذیرائی

صوفی تبسم اکیڈمی نے معروف شاعر ناصر رضوی کے شعری مجموعے حرف و صدا، کی پذیرائی کے لئے ایک تقریب کا اھتمام کیا جس کی صدارت عظیم ناول نگار، افسانہ نگار اور کالم نویس انتظار حسین نے کی۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر فوزیہ تبسم نے ادا کئے۔تقریب میں کتاب کے حوالے سے اظہارِ رائے کیا گیا۔ جبکہ ناصر رضوی سے ان کا ڈھیر سارا کلام سنا گیا اور انہیں داد وتحسین سے نوازا گیا Share This ... Share This

اتوار، 24 نومبر، 2013

نوید ملک کی کامنی


نوید ملک جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان شاعر ہے جو کامنی کے عنوان سے اپنے دوسرے نظمیہ شاعری کےمجموعے کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ نوید ملک کے پہلے مجموعہ شاعری،اک سفر اندھ امریکہ کے تخیل پرست شاعر،ایڈگر ایلن پو، کی طرح دکھائی دیا تھا۔ کامنی میں،نفس، ذھن اور ادراک وہ زمین ہے جس میں نوید ملک کے فن کے پھول کھلتے ہیں۔
قلم اداس تھا الفاظ بھی پریشاں تھے
دیارِ حرف میں کوئی دیا، جلا نہیں تھا
یہ تب کی بات ہے کوئی غزل ہوئی نہیں تھی
ترا جمال کسی شعر میں ڈھلا نہیں تھا
شاعری میں پہلی ترجیح غزل ہوتی ہے،لیکن نوید ملک کی کامنی نے اس کے دل و ذھن پر اس سایہ کیا تھا جب ابھی ابتدائے

جمعرات، 7 نومبر، 2013

صبیحہ صبا کے شعر میں نعت کی خوشبو ہے


جانے کوئی کب کہہ دے، جانا ہے مدینے میں 

کچھ پھول درودوں کے لانا ہے مدینے میں 

وہ گنبدِ خضراء بھی دیکھیں تو ذرا جا کر 
خوابوں کی وہ تعبیریں پانا ہے مدینے میں 
اللہ ہی تو واحد ہے،معبودِحقیقی ہے 
ہو کر ہمیں کعبے سے جانا ہے مدینے میں 
پیغامِ خداوندی جب آپ نے پہنچایا 
اک شکرگذاری کو جانا ہے مدینے میں 
جس شہرِ مقدس میں سجدے کئے آقا نے 
چل کر ہمیں مکے سے جانا ہے مدینے میں آقائے دو جہاں کے ساتھ اپنے تعلق کو جب ایک شاعر جذبہ و احساس کی سچائی،گہرائی اور فنکارانہ حسن کے ساتھ بیان کرتا ہے تو نعت کے تیور کیا سے کیا ہو جاتے ہیں۔

ہفتہ، 2 نومبر، 2013

مشرف عالم ذوقی کی کہانیاں اور جبلت

کہانی کہنے کا فن بلاشبہ قدیم تہذیبوں کے دریافت ریکارڈ سے بھی پرانا فن ہے۔ادیب معاشرے کا عکاس ہوتا ہے، کہانیاں معاشرے کے مشاہدے سے ہی جنم لیتی ہیں۔ایک پلاٹ اور چند کرداروں کے مابیں تعلق پیدا کرتی ہوئی خاص اسلوب میں لکھی گئی تحریر مختصر افسانے کے ضمن میں آتی ہے۔ناول کی نسبت افسانہ کم گنجلک ہوتا ہے۔۔ سماجی شعور کو بیدار کرنے کی غرض سے جو افسانہ نگار منظرِ عام پر آئے انہوں نے ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا جسے اس وقت کے تہذیبی رویوں کے مطابق فحش سمجھا گیا ان افسانہ نگاروں میں ایک نام سعادت حسن منٹو کا تھا جبکہ عصمت چغتائی اسی سلسلے کا دوسرا اہم نام ہے۔ایسے موضوعات کو افسانوی رنگ دینا جو کسی بھی معاشرے میں ناسور کی طرح پل رہے ہوں۔ منٹو اور عصمت چغتائی جیسے افسانہ نگاروں نے کھلے الفاظ یا علامتی انداز میں معاشرے کو سدہار کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ایک اور نام کرشن چندر کا ہے جن کا فن اور فنی تصورات بے رحم حقیقت نگاری کی نیابت میں سماجی شعور اور ادراک کو حقیقی تجربے میں متشکل کر کے واقعہ و تحلیل کے عمل سے گزارتے ہیں۔چنانچہ وہ قدرت ِبیان، اسلوب کی بالیدگی،سلاستِ اظہار، سوچ و فکر کے امتزاج، متحارب و متضاد رویوں کو ممکنات میں داخل کرتے ہوئے افسانے کو اجتماعی شعور کے نئے رحجانات سے رو شناس کراتے ہیں۔ آج کے دور میں ہم ایک اور نام کو اسی رو میں شامل کرتے ہیں اور وہ نام ہے ہندوستان کی ادبی دنیا کا معروف نام مشرف عالم ذوقی،ناول لکھنے پر آتے ہیں تو کئی معرکہ الآرا ناول ان کے نام سے منسوب ہیں،