ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 13 مئی، 2013

پاکستان کے الیکشنوں میں دھاندلی روکنے کے لئے میرے بیٹے کی تجویز(رضا صدیقی)


My son Adeel Raza suggested "" Technology can be the only effective barrier against rigging. Why can't we use cheap bio-metric scanners and electronic CNIC validations?'' I am adding that thumb impression attendance Machine (cheap bio-metric scanners) connected with Nadra data base is the only cheap solution which will eliminate the expenditure of balot paper and stationary printing etc and rigging allegations

اتوار، 5 مئی، 2013

معروف نقاد سکندر احمد کا انتقال ہوگیا


معروف نقاد سکندر احمد کا انتقال ہوگیا۔ نئی نسل میں بہترین صلاحیتوں کی یوں بھی کافی کمی ہے۔ ایک اور خداداد صلاحیت کم ہوگئی۔ سکندر احمدنے فکشن کی تنقید کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایا تھا۔ ان کے طویل مضمون ’’افسانے کے قواعد‘‘ کی اشاعت کے فوراً بعد شمس الرحمن فاروقی کا کہنا تھا کہ ’’گذشتہ ۳۰ برسوں میں فکشن پر اس طرح کے نظری مباحث قائم نہیں ہوئے۔‘‘ قرۃ العین حیدر پر بھی ان کے ایک مضمون ’’قرۃ العینیت‘‘ کی اہمیت کا اندازہ معروف افسانہ نگار نیر مسعود کے اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’اگر یہ مضمون قرۃ العین حیدر کی زندگی میں لکھا جاتا تو انھیں (عینی آپا کو) پھر نقادوں سے کوئی شکایت نہ رہتی۔‘‘ اس کے علاوہ سکندر احمد نے فن عروض اور زبان و بیان پر بھی کافی کچھ لکھا جو ’’شب خون‘‘، ’’جامعہ‘‘، ’’الانصار‘‘، ’’اردو ادب‘‘ ، ’’اثبات‘‘ اور ’’ذہن جدید‘‘ وغیرہ کے علاوہ پاکستان کے متعدد علمی و ادبی جرائد میں تواتر سے شائع ہوتے رہے ہیں۔