ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 28 جنوری، 2013

جمعرات، 24 جنوری، 2013

ہفتہ، 19 جنوری، 2013

جمعہ، 18 جنوری، 2013

اتوار، 6 جنوری، 2013

مہاجر منٹو‘‘ ریوتی سرن شرماکی شرمناک پھبتی .محمد حمید شاہد


مہاجر منٹو‘‘ ریوتی سرن شرماکی شرمناک پھبتی
محمد حمید شاہد) ( اوپندر ناتھ اشک کا معروف مضمون’’ منٹو: میرا دشمن‘‘میرے سامنے دھرا ہے۔ جی اُسی اشک کا، جسے منٹو نے فلمستان میں کام کرنے کے لیے بمبئی بلایا تھا، اور بمبئی پہنچے ابھی تیسرا روز ہی تھا کہ گرانٹ روڈ کو جاتے ہوئی، وکٹوریہ پر سامنے بیٹھے سعادت حسن منٹو نے ،کہ جس نے تھوڑی سی چڑھا رکھی تھی ،اچانک انگریزی میں کہا تھا I like you, though I hate you پھر ڈیڑھ سال بعد ، فلمستان کی کینٹین پر واہ کرم سنسکار اور کپال کریا، یعنی مردے کی کھوپڑی توڑنے کی رسم کا ذکر چل نکلا تو منٹو نے دانت پیس کر کہا تھا ’’اشک جب مرے گا تو اس کی کپال کریا میں کروں گا‘‘ اشک پہلے نہیں مرا۔منٹو پہلے مر گیاتھا۔ اشک کی کھوپڑی منٹو کے ہاتھوں ٹوٹنے سے بچ گئی ۔’’ خوشیا‘‘ کو دوکوڑی کی کہانی کہہ کر منٹو کو دشمن بنا لینے والے اشک کامضمون میرے سامنے ہے اوراس میں بتایا گیا ہے کہ جن دنوں دلی ریڈیو میں منٹو کا طوطی بولتا تھا اوریہ کہ منٹوکو خوشامدی گھرے رکھتے تھی۔ منٹو اشک کو نیچا دکھانے پر ادھار کھائے بیٹھا تھا۔ ن م راشد، کرشن چندر اور منٹو ساتھ ساتھ کمروں میں بیٹھتے ۔ یہی وہ زمانہ ہے جب اشک نے کرشن سے منٹو کی شکایت کی اور اس کی مدد چاہی تھی : ’’ دیکھو بھائی، تم منٹو کو سمجھادو، وہ مجھے خواہ مخواہ تنگ کرتا ہی، میں طرح دیے جاتا ہوں۔‘‘ کرشن کا جواب تھا: ’’میرے سمجھانے سے وہ کیا سمجھے گا ، تم بھی اسے تنگ کرو۔‘‘ اور اپنا آپ بچا کر،کرشن ایک طرف ہو لیا بلکہ بقول اشک وہ تو ہر بار منٹو کے لیے ڈھال بن جاتا تھا۔ اسی ڈھال بن جانے والے کرشن کے حوالے سے اشک نے بتایا ہے کہ جھنجھلا کر اُس کی طرف غلیظ گالیوں کے ڈھیلے پھینکنے والے منٹو کو شدید خواہش رہتی تھی کہ وہ ایک آدھ غلیظ گالی کرشن کو بھی دے ، لیکن کرشن کبھی ایسا موقع نہ آنے دیتا۔ جب راشد کی نظموں کا مجموعہ ’’ماورا‘‘ کرشن کے دیباچے کے ساتھ شائع ہو گیا ، تو منٹو کولگا کہ بہ ہر حال یہ موقع ہاتھ آگیا تھا۔ اُس نے ڈراما لکھا اور راشد اور کرشن دونوں کاخوب مذاق اُڑایا ۔ منٹو کے طنز اور مذاق اڑانے کو پی جانے والا کرشن ہو یا اس سے غلیظ گالیاں کھانے اور کرشن سے شکایتیں کرنے والا اشک دونوں منٹو کے مرنے پر اسے یاد کرنے بیٹھے تو خود بھی روئے اور دوسروں کو بھی رُلایا ۔ منٹو پرکرشن کا مضمون چھپا تو اشک نے اسے کوشلیا کو سناتے ہوئی، ایک مقام پر اپنی آواز کو بھراتے ہوئے پایا۔ وہیں ،جہاں کرشن نے لکھا تھا: ’’ اُردو ادب میں اچھے اچھے افسانہ نگار پیدا ہوئے لیکن منٹو دوباہ پیدا نہیں ہوگا اور کوئی اس کی جگہ لینے نہیں آئے گا۔۔۔ یہ بات میں بھی جانتا ہوں اور راجندر سنگھ بیدی بھی، عصمت چغتائی بھی، خواجہ احمد عباس بھی اور اوپندر ناتھ اشک بھی۔ ‘‘ تو یوں ہے صاحب کہ جس بات کو بیدی،عصمت،اشک اور کرشن جان گئے تھے ، اسی بات کو کرشن چندر کی افسانہ نگار بہن سرلادیوی کے اٹھاسی سالہ شوہر ،افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار ریوتی سرن شرما نے اپنے ایک مضمون میں ’’مہاجر منٹو‘‘ کی پھبتی کس کر اوندھانا چاہا ہی۔ یہ مضمون ، منٹو پر لکھے گئے نئے مضامین کے ایک انتخاب ’’منٹو کا آدمی نامہ‘‘ میں شامل ہے جسے آصف فرخی نے مرتب کر کے چھاپ دیا۔ اس مضمون میں ’’مہاجر منٹو‘‘ ،’’ مہاجر منٹو‘‘ کی تکرار اتنی بار کی گئی ہے کہ ریوتی شرن شرما کے اندر کا تعصب ، بے شرم ہو کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے ۔ پہلے تو شرما کو اس پر اعتراض ہوا کہ گوپی چند نارنگ نے یہ کیوں لکھ دیا کہ ’’جدیدیت نے پریم چند اور کرشن چندر سے انکار کیا‘‘ اور ایسا کیوں کہا کہ ’’منٹو اور بیدی کے ہمیشہ رہنے والے ہیں‘‘۔ نارنگ کے اس کام کو شرما نے ایسی چنگیزی اور طالبانی خون ریزی کہا ہے کہ اُردو تنقید میں شاید ہی کبھی کی گئی اور پھر ’’کیوں‘‘ کہہ کر جو سوالات ’’جدید تنقید‘‘ کے عنوان سے نارنگ سے کیے ہیں ان کا جواب تو انہی کے پاس ہوگا مگر جو ڈرون حملے ناحق شرما نے منٹو کے افسانوں اور خود منٹو کی نیت پر کیے ہیں ،وہ بھی تو ایسی ہی خون ریزی جویقین جانیے شرما جی! اردو تنقید میں یہ پہلی بار ہوئی ہے ۔ تنقید کے نام پر شدید تعصب اور نفرت کے اظہار اور لفظ’’ مہاجر‘‘ کو منٹو کے نام کے ساتھ یوں تکرار سے لکھنا کہ ظلم سہنے اور بہت کچھ چھن جانے کی علامت ایک معصوم سا لفظ گالی کا سا تاثر دینے لگی۔ منٹو، غلیظ گالی دیتا تھا تو بھی وہ محبت میں ڈھل جایاکرتی تھی ، اور ایک وقت آتا کہ وہ دوست دشمن سب کی آنکھوں سے آنسو بن کرٹپک پڑتی تھی ۔ شرما جی! یہ کیسا تعصب ہے کہ اپنی زمین سے بے دخل ہونے والوں کے سینے پر اعزاز کی طرح سج جانے والا معصوم سا لفظ بھی گالی بنا لیا گیا ہی۔ ’’مہاجر منٹو کے فسادات سے متعلق افسانی‘‘ نامی مضمون میں شرما نے محمد حسن عسکری کو بھی بار بار’’ مہاجر عسکری‘‘ لکھا ہے اوراپنی نفرت کی وجہ یوں بتائی ہے : ’’تقسیم کے بعد مہاجر حسن عسکری کو نئے پاکستانی ادب کا ممتازنقاد ماناجانے لگا تھا۔ منٹو کو عسکری نے بڑے فریم میں پیش کیا اور منٹو پر ایک تنقیدی کتاب لکھی’’انسان اور آدمی‘‘ ہندوستان میں منٹو پر لکھی اس کتاب کو مستند کتاب مان لیا گیا ہی۔‘‘ F صاحبو ! منٹو پر اور عسکری پر مہاجر کہہ کر چڑھ دوڑنے والے ریوتی شرن شرما، یہ تک نہیں جانتے کہ ’’انسان اور آدمی‘‘ منٹو پر لکھی ہوئی عسکری کی کتاب نہیں بلکہ چودہ تنقیدی مضامین اور ایک پیش لفظ پر مشتمل پونے دو سوصفحات کا ایسا مجموعہ ہے جس میں محض ایک مضمون منٹو پر ہے ؛ ساڑھے چھ صفحات پر مشتمل ’’منٹو فسادات پر‘‘۔ خیر ،میں بھی پروفیسر صغیر افراہیم کی طرح یہ نہیں کہہ سکتا کہ اٹھاسی سالہ فکشن نگار شرما ،منٹو کے فنی نظام سے لاعلم ہے اور یہ بھی نہیں جانتاکہ ’’انسان اور آدمی ‘‘ کاعنوان پانے والا مضمون، جو کتاب کا نام ہوگیا تھا، بھی منٹو پر نہیں ہی۔ شرما کو اس بات پر بہت طیش آیا ہے کہ منٹو نے پاکستان پہنچتے ہی دھڑا دھڑ فسادات کے موضوع کو تخلیقی سطح پر کیوں برتا ۔ بہ قول شرما کی،’’ منٹو کو تو سیاسی اور ہنگامی حالات پر لکھنے سے ’’الرجی ‘‘تھی اور ایسا کرنے والوں کو منٹو حقار ت اور بڑی رعونت سے ’صحافی یا کرشن چندرقرار دیا کرتا تھا‘‘، پھر پاکستان پہنچ کر منٹو’’ صحافی یا کرشن چند‘‘ر کیوں بنا؟۔ منٹو ، کرشن چندر یا صحافی نہیں بنا ۔ یہ بات شرما کو بھی معلوم ہے مگر سرلادیوی کے بھائی کرشن کی محبت میں اسے ان جاناکرنا اور اپنے تعصب کو محبوب رکھنا شرما کی مجبوری ہو گیا ہے ۔ جس نے بھی منٹو کے افسانے سارے تعصبات جھٹک کر پڑھے ،اس نے تسلیم کیا کہ ،منٹو نے فسادات پر لکھتے ہوئے محض فسادات پر اپنی توجہ مرتکز نہیں رکھی تھی،بلکہ اس نے تو مجبور ہوکر اس کا شکار ہو جانے والے انسان کو لکھا اور یہی بات منٹو کو دوسروں سے الگ کرتی ہے کہ انسان کو فسادات کے اس ہنگامے میں رکھ کر جس طرح اس نے دیکھا ہے وہاں سیاسی معنی منہا نہ ہوں تو بھی ثانوی ہو جاتے ہیں اور انسان اپنے چونکا ڈالنے والے غیر معمولی امکانات کے ساتھ سامنے آتا ہی۔ایسا ہی منٹو کے ان افسانوں میں بھی ہوا ہے جنہیں شرما نے اپنے تعصب کے عینک سے دیکھا اور شدید نفرت کے عالم میں ایک مہاجر کے لکھے ہوئے افسانے جان کر ان کا تجزیہ کیا ہی۔ منٹو کے یہ افسانے ہیں، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘،’’ کھول دو‘‘،’’ ٹھنڈا گوشت‘‘،’’ گرمکھ سنگھ کی وصیت ‘‘، ’’وہ لڑکی ‘‘ اور ’’یزید‘‘ ہیں اور تقابلی مطالعہ میں’’ بو‘‘،’’ موذیل‘‘ اور’’ تانگے والے کا بھائی‘‘ کا بھی ذکر ہو گیا ہی۔ منٹو کے مندرجہ بالا افسانوں پر بات کرنے سے پہلے ، شرما نے ڈاکٹر نارنگ کی توجہ منٹو کے مضمون’’زحمت مہر درخشاں ‘‘ کے ان سوالات اور وسوسوں کی طرف چاہی ہے جو ہجرت کرکے پاکستان آنے والے منٹو کو پریشان کر رہے تھی؛ یہی کہ کیا پاکستان کا ادب علیحدہ ہو گا؟ اگر ایسا ہوگا تو کیا ہوگا؟، کیا ہماری اسٹیٹ مذہبی ہوگی اور یہ کہ ہم ہر حالت میں اسٹیٹ کے وفادار رہیں گے مگر کیا اسٹیٹ پر نکتہ چینی کی اجازت ہوگی؟۔ شرما ،منٹو کے ان سوالات کو درج کرنے کے بعد دور کی کوڑی لایا؛ ذیلی عنوان جمایا: ’’وفاداری کا حلف نامہ‘‘ اور یہ تاثر دینا چاہا کہ جیسے یہ جو منٹو نے کہا ہے ’’ ہم ہر حالت میں اسٹیٹ کے وفادار رہیں گی۔‘‘ تو یہ کوئی زور زبردستی کا لکھوایا ہوا حلف نامہ تھا۔ منٹو نے اپنی مرضی سے نہیں لکھا تھا ۔ متن کی تعبیر کے معاملے میں قاری کی اتنی آزادی کو تو شاید جدید تنقید کی عفیفہ بھی ہضم نہ کر پائے گی جو شرما کے تعصب کا شاخسانہ ہو گئی ہی۔ شرماکا کہنا ہے کہ’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کو شہرت ملنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہندوستان کے نقادوں نے اُسے بٹوارے کے خلاف پاکستان سے اٹھی پہلی زور دار آواز کہا تھا۔ ریوتی شرن شرماکی یہ بات مان لینے کے لائق ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ اِدھر والے بھی اِس باب میں پیچھے نہ رہے تھی؛ وہ اسے بہ طور افسانہ دیکھنے اور متن کا تخلیقی سطح پر تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے یا نہیں تقسیم کے خلاف اسے ایک ’’زوردار‘‘ آواز کے طور پر اُچھالتے پھرتے تھے ۔ خیر ،بات ریوتی شرن شرما کے تجزیے کی ہو رہی ہے جس میں ثابت کرنے کے جتن ملتے ہیں کہ جب منٹو پاگل بشن سنگھ کو اس کا گائوں یاد کرارہا ہوتا ہے تو ایسے میں افسانہ نگار کا منشایہ تھا کہ بشن سنگھ کی معرفت سکھوں کو خالصتان کی مانگ یاد دلا دی۔ اس باب میں شرما کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ’’ منٹو نے ایک سکھ پاگل کے منہ سے کہلوایا تھا کہ وہ ماسٹر تارا سنگھ ہی‘‘ اور کوسین میں وضاحت کی کہ یہ وہی تارا سنگھ ہے جس نے خالصتان بنانے کے لیے تیسرے بٹوارے کی بات کی تھی ۔ پھر یہ کہ منٹو افسانے کے آخر میں یہ تک دکھا دیتا ہے کہ بشن سنگھ ہندوستان نہیں جاتا ، اور نو مین لینڈ میں مرنا پسند کرتا ہی۔ منٹو کی نیت پر شک کی ایک اور وجہ جو شرما کی توجہ کا مرکز ہوئی ،وہ بشن سنگھ کا تکیہ کلام ہے ’’منگ دی دال آف لالٹین‘‘۔ مضمون نگار نے اس تکیہ کلام کے قابل اعتراض اضافے نشان زد کیے ہیں ؛ ’’منگ دی دال آف گورمنٹ آف پاکستان اینڈ ہندوستان آف در پھٹے منہ ‘‘ ، ’’گورمنٹ آف واہے گروجی خالصہ اینڈ واہے گروجی کی فتح ‘‘ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان‘‘۔ افسانے کے انجام کو فلمی بتایا گیا ہی۔ ایک حد تک شرما کی اس بات سے اتفاق کیا جاسکتا ہے اور میں نے تو اُس طنز کا بھی بہت لطف لیا جہاں قوسین میں مضمون نگار نے ناقابل یقین حد تک پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہنے والے بشن سنگھ کے اوندھے منہ پڑے ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ،اپنی جانب سے اضافہ کیا تھا، ’’کیمرہ پین(an) کرتا ہی‘‘ ۔ تا ہم جب ریوتی شرن شرما نے منٹو پر قاری کو الجھن میں ڈالنے کی بدنیتی کا الزام لگایا تو اس بزرگ کی اپنی نیت کھل کر سامنے آ جاتی ہی۔ منٹو نے اپنے افسانے میں جو کہنا تھا وہ پورے سلیقے سے کہہ دیا ہے وہ’’ گورمنٹ آف پاکستان اینڈ ہندوستان‘‘ دونوں کو’’ در پھٹے منہ‘‘ کہتا ہے اور اس میں سے اگر سکھوں کا کوئی خواب بھی اور شرما جی آپ کا کوئی خوف بھی چھلک پڑتا ہے تو اسے منٹو اور اس کے افسانے کی ایک اور خوبی سمجھا جانا چاہیے ۔ افسانہ ’’کھول دو‘‘ کے بارے میں ریوتی شرن شرما کاتجزیہ ہے کہ اسے منٹو نے محض ایک رات اور چند گھنٹوں میں لکھا تھا ، گویا عجلت میں لکھی ہوئی تحریر ہے اور یہ کہ یہ اس لیے مشہور ہو گئی کہ اس پر پابندی لگی تھی۔ میں نے ایسے دنوں میں شرما کا یہ مضمون پڑھا ہے کہ اُدھر بھارت کے دارلحکومت دلی کے جنوبی دوارکا کے علاقے میں چلتی ہوئی بس میں ایک تئیس سالہ طالبہ کو اجتماعی جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بس سے باہر پھینک دیاگیا ۔ منٹو ہوتا تو اس پر بھی اتنی ہی عجلت میں افسانہ لکھتا اور یقین جانیے شرما جی وہ بھی اتنا ہی مشہور ہوتا جتنا کہ’’ کھول دو‘‘ مشہور ہوا ہی۔ اس لیے کہ یہی منٹو کا تخلیقی وتیرہ رہا۔ وہ تو کرشن کے سامنے بھی اپنا ٹائپ رائیٹر کھول کر بیٹھ جایا کرتا تھا ،یہ کہتے ہوئے ، کہو کس موضوع پر لکھوں ، اور جب وہ لکھ کر اُٹھتا تو سب کو ماننا پڑتا تھا کہ اس موضوع پر ایسا ہی لکھا جانا چاہیے تھا۔ ہاں تو جہاں تک پابندی کی بات ہی، تواب اس کی اہمیت اتنی بھی نہیں ہے کہ جتنی کہ دلی ریپ کیس کے احتجاجی جلسوں پر وہاں کی پولیس کی لاٹھی چارج کی اس شرمناک وقوعے کے بعد رہی ہوگی ۔ ریوتی شرن شرما کہنا ہے کہ سراج دین باپ تھا بیٹی کو ننگا ہو کر خوشی سے چلا نہیں سکتا تھا اور میرا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی میں زندگی دیکھی تھی اسے ننگا کہاں دیکھا تھا۔ شرما کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں کیوں غرق ہوا ،اور اپنے تئیں تخمینے لگائے کہ ہو نہ ہو ڈاکٹر شرمندہ ہوا ہوگا۔ نہیں شرما جی نہیں ، منٹو کے جملے ایک بار پھر پڑھنا ہوں گے ۔ کسی بھی تعصب کو پرے دھکیل کر،مہاجر منٹو کے نہیں تخلیق کار منٹو کے ؛ ڈاکٹر کے دیکھنے اور پسینہ پسینہ ہو جانے میں ننگی عورت نظر آئے گی اور اس کا نفسیاتی جواز بھی۔ اس جواز کے سرے کو وہاں سے پکڑا جا سکتا ہی، جہاں کہنے والا تو کچھ اور کہتا ہے مگر سننے والا بس اتنا ہی سن پاتا جس سے اس کی نفسیات شدید صدمے یا کسی سانحے کے زیر اثر جڑی ہوئی ہوتی ہی۔ Z افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ بھی ریوتی شرن شرما کے نزدیک اس لیے مشہور ہوا تھاکہ اس کے لکھنے کی پاداش میں منٹو پر فحاشی کا مقدمہ چلا تھا اور دوسری وجہ یہ رہی کہ مہاجر عسکری نے اس کا ذکر ’’انسان اور آدمی‘‘ میں کر دیا تھا ، ورنہ تو یہ افسانہ محض ایک سنسنی ہے قاری کو چونکانے والی ایک ترکیب۔ شرماکا کہنا ہے کہ منٹو نے افسانے میں کہیں نہیں بتایا کہ ایشر سنگھ فسادات کے دوران لوٹ مار میں کیوں شریک ہوا؟، اس نے ایک نہیں چھ چھ آدمیوں کو کیوں مارا ؟، لڑکی نے کہا ہوگا مجھے لے جائو میرے والدین اور بھائیوں کو چھوڑ دو ، میں سکھ بننے کو تیار ہوں ایشر سنگھ کا دل کیوں نہ پسیجا؟ وغیرہ وغیرہ ۔ تو گویا اس سب کو افسانے کے متن کا حصہ ہو نا چاہیے تھا اور یہ جو منٹو نے افسانے کا بیانیہ چسپ بنا کر فسادی کی نفسیات کو سطر سطر سے چھلکا دیا ہے اس کی بجائے منٹو کو تفصیل سے اور کھول کھول کر لکھنا چاہیے تھا ۔ اگر منٹو ایسا کرتا جیسا کہ شر ما کا خیال ہے تویہ شاہکار افسانہ منٹو کا نہ رہتا کرشن کا ہو جاتا ۔افسانے میں غیر ضروری تفصیلات سے احتراز کرتے ہوئے جس طرح ایشر سنگھ کے اندر سے حیوان برآمد کیا گیا اور پھر اس کے شہوت بھرے جسم میں ایک انسان کو نشان زد کیا اسی نے تو اسے منٹو کا افسانہ بنایا ہی۔ ریوتی شرن شرما کو اس پر بھی طیش آیا ہے کہ منٹو نے ایک مسلمان مردہ لڑکی پر جنسی تشدد کرتے ایک سکھ کو دکھاکر جانبداری کا ثبوت دیا ہے حالاں کہ چند ہی سطر اوپر وہ ’’کھول دو ‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے مسلم رضاکاروں کی زنا کاری کو بھی نشان زد کر چکے ہیں ۔ یہاںکھلے دل سے اس کا اعتراف کیا جانا چاہیے تھا کہ منٹو ہر بار مظلوم کے ساتھ جاکر کھڑا ہو جاتا ہی، چاہیے اس کا مذہب کوئی بھی ہو اور ہر بار ظالم کو ننگا کرکے رسوا کرتا ہے چاہے اس کی قومیت کچھ بھی ہو مگر حیف کہ سامنے کی بات بھی تعصب کی آنچ پا کر ہوا ہو گئی ہے ۔ منٹو کے افسانے ’’گرمکھ سنگھ کی وصیت‘‘ میں اس جج کا قصہ بیان ہوا ہے جو فسادات کے شروع ہونے پر بھی اپنا محلہ چھوڑکر کہیں اورنہیں گیا تھا کہ اسے اپنے محلے کے ہندو اور سکھوں پر بڑا اعتماد تھا ۔ ریوتی شرن شرما کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ سنتوکھ سنگھ کے باپ پر احسان کرنے والے جج کے گھر سوئیاں دے کر لوٹتے سمے ڈھاٹا باندھے ، ہاتھ میں مشعلیں اور پٹرول کے ٹن اٹھائے چار آدمیوں کے اس سوال پر کہ ’’کردیں معاملہ ٹھنڈا جج صاحب جی کا‘‘ کے جواب میں یہ کیوں کہا تھا ’’ جیسی تمہاری مرضی‘‘ شرما کا سوال ہے ،’’منٹو کو نہ جانے کیوں اچھے سکھوں سے بیر ہو گیا ہی‘‘ ۔ منٹو کو کسی سے بیر نہیں تھا فسادی سکھ ہو یا مسلمان اور ہندو ،عام حالات میں وہ نیک اور پارسا ہوسکتا ہے مگر فسادات اورتعصبات اسے کیسے بدل کر رکھ دیتے ہیں یہی تو منٹو نے اس افسانے میں بتایا ہی۔ میں نہیں کہوں گا کہ منٹو کا یہ افسانہ بہت کامیاب رہا تاہم اس کے اندر سے منٹو کے کسی تعصب کو برآمد کرنے کو بھی منٹو کی صاف اور نیک نیت پر حملہ کے مترادف سمجھتا ہوں ۔ ’’وہ لڑکی‘‘ اور ’’یزید‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے یہی رویہ روا رکھا گیا ہی۔ ’’وہ لڑکی ‘‘افسانے میں لڑکی نے سریندر کو اسی کے پستول سے اس لیے مار دیا تھا کہ وہ چار مسلمانوں کا قاتل تھا۔ مسلمان ہونا کیا انسان ہونا نہیں ہوتا؟ جو قتل ہوئے کیا وہ چار انسان نہیں تھی؟ ، مگر حیف کہ شرما کو اس نہج پر سوچنا عطا نہیں ہوا ہے ۔ ’’یزید‘‘ کے باب میں بھی مضمون نگار کو منٹو پر اس لیے طیش آیا کہ منٹو نے اس افواہ پر یقین کرکے افسانہ لکھ دیا تھا کہ ہندوستان والے دریائوں کا پانی روک رہے ہیں ۔ چلیے مانا کہ جب منٹو نے افسانہ لکھا تھا تو پانی روکنے والی بات محض افواہ ہی ہوگی، جس وقت مضمون نگار نے اس افسانے کا تجزیہ لکھا تو کیا یہ واقعہ محض ایک افواہ ہی۔ پاکستان اور ہندوستان کے بیچ کشیدگی کو جس سطح پر منٹو نے آنکا ہے اور پانی کو کھول دینے کے تناظر میں یزید کے کردار کو جس طرح بدل کر رکھ دیا گیا ہے اس میں سے وہ معنی کیوں کر نکالے جا سکتے ہیں جو شرما نے نکالے ہیں ؛وہی روایتی معنی جس میں یزید پانی بند کرنے کی علامت ہوتا ہے کہ منٹو والا یہ کردار تو پانی کھولنے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ ریوتی سرن شرماجی نے منٹو کو ایک حد تک پڑھا اور اس پر ’’مہاجر منٹو‘‘ کی پھبتی کسی، حسن عسکری کو بالکل نہیں پڑھا اور اسے منٹو کو بڑے فریم میں رکھ کر دیکھنے کی پاداش میں مہاجر عسکری کہہ کر پکارا ۔ شرماکو’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ میں سے خالصتان نظر آیا اور’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کے وحشی ایشر سنگھ کے اندر بیدار ہوتے انسان کو وہ دیکھ نہ پایا، ’’کھول دو ‘‘کے مسلمان رضاکاروں کا سفاکی سے منہ نوچ ڈالنے والے منٹو پر اس نے جانبداری کی تہمت لگائی کہ ایک نیک سکھ کی ذہنیت کو فساد ات میں بدلتے ہو ئے کیوں دکھایا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ کس نیت سے منٹو کے متن میں مرضی کا مفاہیم ڈالے گئے ، اور منٹو کی نیک نیت پرشرمناک حملے کیے گئے ۔ خیر،اس طرح کے ڈرون حملوں سے منٹو مرنے والا نہیں ہی۔ منٹو کے بارے میں یہ جو اِدھر اُدھر اشتعال پایا جاتا ہے ، اسے اپنے اپنے ڈھنگ سے سمجھنے اور اپنے مطلب کے بیان کے لیے مقتبس کیا جاتا ہی، اس نے منٹو کی زندگی اور بڑھا دی ہی۔ وہ جو کرشن چندر نے لکھا تھاکہ ہم سب لوگ، اس کے رقیب ، اس کے چاہنے والی، اس سے جھگڑا کرنے والے ، اس سے پیار کرنے والے ، اس سے نفرت کرنے والی، اس سے محبت کرنے والے ۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ اردو ادب میں اچھے اچھے افسانہ نگار پیدا ہوئے لیکن منٹو دوبارہ پیدا نہیں ہوگا اور اس کی جگہ لینے کوئی نہیں آئے گا، تو سچ ہی کہا تھا ۔ کرشن کایہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات وہ جانتا تھا اور راجندر سنگھ بیدی،عصمت چغتائی ، خواجہ احمد عباس اور اوپندر ناتھ اشک بھی ۔ جگدیش چندر ودھان نے بہ جا طور پر نشان زد کیا تھا کہ:’’ انسان دوستی منٹو کے فن کا اٹوٹ جزو ہی‘‘ اور یہ کہ ’’منٹو نے کسی مخصوص سیاسی مسلک کو اپنائے بغیر سماج کی عفونتوں ، غلاظتوں اور اوہام کو اپنے فن میں پیش کیا ‘‘ اور یہ بھی کہ منٹو نے ’’ مقہور اور مجبور طبقے کی غربت اوربے چارگی اور مذہب سے وابستہ ریا کاری، تنگ نظری اور اوہام پرستی کی بڑی جان دار اور زندگی دے بھر پور تصویر کشی کی۔‘‘ منٹو کو اس کے اس تخلیقی چلن سے کاٹ کر دیکھناممکن ہی نہیں ہی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ریوتی سرن شرما سارے تعصبات ایک طرف دھر کر منٹو کو پھر سے پڑھی، اگر ایسا کرنا شرماجی کو نصیب ہوا تو مجھے یقین ہے اسے بھی ان سب کی طرح منٹو کو مان لینا پڑے گا۔

ہفتہ، 5 جنوری، 2013