ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


جمعہ، 6 دسمبر، 2013

دو طرفہ سیکیورٹی معاہدہ۔ ضرورت کس کی؟

پاکستان کے امن سے جڑے محرکات میں ہمارے پڑوسی افغانستان کا نمبر سر فہرست ہے۔افغانستان کی بات کریں تو 80 کی دہائی کی روس افغان جنگ، 90 کی دہائی میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ نجیب اللہ حکومت کا خاتمہ،گلبدین حکمت یار کا پشاور اکارڈ سے انکار، افغان خانہ جنگی،شمالی اتحاد کے خلاف گلبدین حکمت یار کی ناکامی، طالبان کا زور پکڑنا، کابل پر قبضہ اور اسلامی امارات 

بدھ، 4 دسمبر، 2013

معروف شاعر محبوب خزاں انتقال کر گئے

کم کہنے، اچھا کہنے اور اپنا کہنے کی ہدایت دینے والے تنہائی پسند ممتاز شاعر محبوب خزاں کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 83 سال تھی۔
محبوب خزاں کااصل نام محمد محبوب صدیقی تھا۔ وہ ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے ضلع بلیہ کے ایک موضع چندا دائر کے ایک معزز 

گھرانے میں یکم جولائی 1930ء کو پیدا ہوئے۔
12 برس کی عمر میں ان کے والد انتقال کر گئے اور ان کی تعلیم و تربیت بڑے بھائی محمد ایوب صدیقی نے کی۔ انھوں نے 1948 میں الہ آباد یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا اور پاکستان آگئے، یہاں انھوں نے سول سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کیا۔
پہلی تقرری لاہور میں اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ جنرل کی حیثیت سے ہوئی پھر ڈھاکہ بھیج دیے گئے جہاں ڈپٹی اے جی پی آر کے عہدے پر فائز رہے، بعد ازاں کراچیلوٹے اور پھر تہران کے سفارتی مشن میں متعین کیے گئے۔
تہران میں قیام کے دوران معروف شاعر نون میم راشد سے ان کی خاصی قربت رہی۔ بعد میں وہ کراچی میں اے جی پی آر رہے اور یہیں سے ریٹائر ہوئے۔

معروف شاعرہ نیما ناہید درانی کی والدہ انتقال کر گئیں


معروف شاعرہ نیلما ناہید درانی کی والدہ، 2دسمبر کو ناروے میں انتقال کر گئیں۔میت پاکستان آ گئی ہے۔نمازِ جنازہ جمعرات کو بعد نمازِ عصر 30 رچنا بلاک،علامہ اقبال ٹاون پر ہو گا جبکہ مرحومہ کی تدفین مومن پورہ قبرستان نزد لکشمی چوک ہو گی۔

سوموار، 2 دسمبر، 2013

ایم زیڈ کنول کے اعزاز میں میانوالی میں شاندار تقریب مشاعرہ

معروف شاعرہ ایم زیڈ کنول کے اعزاز میں شاندار تقریب اعتراف اور مشاعرہ دی ایجو کیٹرز سکول زکریا کیمپس میا نو الی کے وسیع و عریض لان میں کیا گیا ۔ تمثیل رائیٹرز فورم اور سہ ماہی۔تمام۔ کا تعاون بھی اس تقریب کے انعقاد میں شا مل رہا ۔ تقریب کی صدارت نامور شاعر جناب خرم خلیق نے کہ جو اسلام آ باد سے خصو صی دعوت پر تشریف لا ئے ۔ تقریب کا با قاعدہ آ غاز عمران حفیظ کی تلا وت کلام پاک سے ہوا۔ ابتدائی کلمات لبنی مہر نے ادا کئے ۔ اس تقریب میں نظامت کے فرائض معروف کالم نگار اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک انوار حسین حقی نے سر انجام دیے ۔ تقریب میں میانوالی اور اس کے گردو نواح سے تشریف لانے والے اہل علم و ادب اوراہل ذوق خواتین و حضرات نے نہایت جوش و خروش سے شرکت فرما ئی ۔ تقریب کے پہلے حصے میں معروف شاعرہ ، مدیرہ، مقررہ، ایم زیڈ کنول کی ادبی خدمات نا قابل فراموش اور اردو کے فروغ میں گران قدر حصہ ہیں ۔ وہ شریف اکیڈمی کے تحت نکلنے والے ادبی مجلے \” سہ ماہی احساس \” کی اڈیٹر ہیں ۔ اور اس کے زریعے دنیا بھر میں پھیلے ہو ئے ادیب اور شا عروں کو ایک لڑی میں پرونے میں کو شاں ہیں۔ ایم زیڈ کنول کو اردو دنیا سے وابستہ کئی اداروں اور تنظیموں نے ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کئی ایوارڈ سے نوازا۔امسال انہیں عالمی علمی ادبی تنظیم شریف اکیڈمی جرمنی کی جانب سے ’’اردو ادب کے گوہرِ انمول ‘‘کے خطاب سےنوازاگیا۔
مشاعرے کا آغاز نواجوان شاعر نور تری خیلوی کے کلام سے ہوا۔ دیگر شعراء میں اکرم زاہد، شفیق ناصر، عمران حفیظ ، ضیا ء اللہ قریشی، میاں ظہیر شاہ، علی عرفان ، زیشان حیدر، جاوید فیروز ، میاں آفتاب احمد، محمد محمود احمد، علی اعظم بخاری، مظہر نیازی ، ڈاکٹر آصف مغل، محترمہ شاہدہ نیازی، 
۔وفیہ بانو، ڈاکٹر لبنی اور ڈاکٹر عالیہ قیصر ، راحیلہ جبیں، مہمان شاعرہ ایم زیڈ کنول اور صدر محفل خرم خلیق نے نے عمدہ کلام سامعین کی نذر کیا ۔

اتوار، 1 دسمبر، 2013

غزل ۔ عطا تراب


جو ہوا یار وہ ہونا تو نہیں چاہیے تھا
خوب کہتے ہو کہ رونا تو نہیں چاہیے تھا
اے خدا ایک خدا لگتی کہے دیتے ہیں
تو ہے جیسا تجھے ہونا تو نہیں چاہیے تھا
کیوں دھڑکتی ہوئی مخلوق سسکتی ہی رہے
بے نیازی کو کھلونا تو نہیں چاہیے تھا
سلک _ ہستی سے اگر روٹھ گیا در _ جمال
سنگ _ دشنام پرونا تو نہیں چاہیے تھا
تو تو بچھتی ہی چلی جاتی ہے اے سادہ نگار
ڈھانپ خود کو کہ بچھونا تو نہیں چاہیے تھا
خود کشی بنتی ہے لیکن ہمیں بزدل ہیں کہ زیست
بار _ بے کار ہے ڈھونا تو نہیں چاہیے تھا
تو تو سچ مچ میں غزل کی کوئی انگڑائی تھی
تجھے آغوش میں ہونا تو نہیں چاہیے تھا
حیف ہے سلسلہ ء جبر میں شامل ہوں میں
تخم _ ہستی مجھے بونا تو نہیں چاہیے تھا
کم نگاہی میں سماتی ہی نہیں قامت _ خوش
اے زمانے تجھے بونا تو نہیں چاہیے تھا
عشق کا داغ کہاں چھوڑ کے جاتا ہے تراب

ہفتہ، 30 نومبر، 2013

جنرل کیانی جنرل راحیل ( جاہد احمد کے قلم سے)

مہذب اقوام میں منصب جتنا اونچا اور طاقت کی جتنی بہتات ہو ذمہ داری اتنی ہی زیادہ اور حساب اتنا ہی سخت ہوتا ہے۔ پر پاکستان کی تاریخ میں جسے جتنی زیادہ طاقت ملی اس نے نا ہی اس کا ناجائز استعمال کیا اورحساب کتاب میں تو ہم ازل سے ہی کمزور واقع ہوئے ہیں۔ 
بالآخر وزیرِ اعظم کم وزیرِ دفاع نواز شریف صاحب نے جنرل کیانی سے مشاورت کے بعد پاکستان کے نئے چیف آف آرمی سٹاف کے لئے لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کا چناؤ کر لیا۔ بے شک اس عہدے پر تقرری کے لئے جنرل راحیل شریف سینئر ترین جنرل نہیں تھے تو نواز شریف صاحب نے الیکشن سے پہلے کئے گئے اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے جنرل ہارون اسلم کو نظر انداز کیا اور ایک مرتبہ پھر اپنی دانش پر بھروسہ کر کے راحیل شریف کا انتخاب کیا ہے۔ خدا کرے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے حق میں درست ثابت ہو! جنرل ہارون اسلم کو نظر انداز کرنے کی بنیادی وجہ صرف یہی ہو سکتی ہے کہ9 199میں نواز گیا ہے تو یہ بھی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ شاید جنرل کیانی کی نظر میں بھی ہارون صاحب اس منصب کو سنبھالنے کے لئے موزوں شحصیت نہیں ہیں!!!بہر حال میرٹ حکومت کا تختہ الٹنے میں پرویز مشرف کا ساتھ دینے والوں میں یہ 
صاحب پیش پیش تھے۔ مزید یہ کہ کیونکہ یہ فیصلہ جنرل کیانی کی مشاورت سے کیا پر کئے گئے فیصلے مستقبل میں غلط بھی ثابت ہوں تو کم از کم یہ تسلی رہتی ہے کہ فیصلہ سازی مکمل میرٹ پر کی گئی تھی بصورتِ دیگر اپنے آپ کو کوسنے سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔پچھلی مرتبہ میرٹ پر عقل کو ترجیح دی تھی تو نتیجہ حکومت کے خاتمے اور دیس نکالے کی شکل میں کئی سال بھگتنا پڑا تھا! ویسے یہ امید تو رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں جمہوریت اتنی پروان چڑھ گئی ہے کہ فوج اور سیاست دان اپنی اپنی جگہ پر رہ کر کام کرنے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔ کیانی صاحب نے اپنے چھ سالہ دور میں جس انداز 

منگل، 26 نومبر، 2013

دوحہ،قطر، شاعری ہمسفر ۔۔۔۔رضی الدین رضی

شاعری کم و بیش پینتیس برس سے میری ہمسفر ہے ۔اس نے لڑکپن میں میرا ہاتھ تھاما توسفر کا آغازہوا۔یہ مجھے گلیوں گلیوں لیے پھری۔کبھی کی یادوں کے سہارے ۔کبھی کسی کے تقریب کے بہانے۔کبھی مشاعرے یا کسی کانفرنس میں ۔اور کبھی کسی کتاب کی تعارفی تقریب میں۔ملتان سے میں جتنی بار بھی باہر گیا ۔زیادہ تر شاعری ہی اس کا وسیلہ بنی۔صحافت کے ساتھ منسلک ہونے کے ناطے میرے لئے ملتان سے نکلنا کبھی بھی آسان نہیں رہا ۔اخبارات کے ڈیسک پر طویل ڈیوٹی کے دوران چھٹی لینا ہمیشہ مشکل ہوتا تھالیکن شاعری مجھے جب بھی آواز دیتی میں انتہائی کڑے حالاتِ کار کے باوجود اس کے ساتھ سفر پر نکل جاتا۔اس مرتبہ شاعری نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے دیارغیر لے گئی۔29اکتوبر کی صبح دوحہ ایئرپورٹ پر قدم رکھا تو ماضی کے بہت سے سفر 
نگاہوں میں گھوم گئے۔ایک نیا منظر ،نئے راستے اورنئے لوگ میرے منتظر تھے۔ 28اکتوبر کی شب لاہورایئرپورٹ سے 

سوموار، 25 نومبر، 2013

ناصر رضوی کے مجموعے حرف و صدا کی تقریبِ پذیرائی

صوفی تبسم اکیڈمی نے معروف شاعر ناصر رضوی کے شعری مجموعے حرف و صدا، کی پذیرائی کے لئے ایک تقریب کا اھتمام کیا جس کی صدارت عظیم ناول نگار، افسانہ نگار اور کالم نویس انتظار حسین نے کی۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر فوزیہ تبسم نے ادا کئے۔تقریب میں کتاب کے حوالے سے اظہارِ رائے کیا گیا۔ جبکہ ناصر رضوی سے ان کا ڈھیر سارا کلام سنا گیا اور انہیں داد وتحسین سے نوازا گیا Share This ... Share This

اتوار، 24 نومبر، 2013

نوید ملک کی کامنی


نوید ملک جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان شاعر ہے جو کامنی کے عنوان سے اپنے دوسرے نظمیہ شاعری کےمجموعے کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ نوید ملک کے پہلے مجموعہ شاعری،اک سفر اندھ امریکہ کے تخیل پرست شاعر،ایڈگر ایلن پو، کی طرح دکھائی دیا تھا۔ کامنی میں،نفس، ذھن اور ادراک وہ زمین ہے جس میں نوید ملک کے فن کے پھول کھلتے ہیں۔
قلم اداس تھا الفاظ بھی پریشاں تھے
دیارِ حرف میں کوئی دیا، جلا نہیں تھا
یہ تب کی بات ہے کوئی غزل ہوئی نہیں تھی
ترا جمال کسی شعر میں ڈھلا نہیں تھا
شاعری میں پہلی ترجیح غزل ہوتی ہے،لیکن نوید ملک کی کامنی نے اس کے دل و ذھن پر اس سایہ کیا تھا جب ابھی ابتدائے

جمعرات، 7 نومبر، 2013

صبیحہ صبا کے شعر میں نعت کی خوشبو ہے


جانے کوئی کب کہہ دے، جانا ہے مدینے میں 

کچھ پھول درودوں کے لانا ہے مدینے میں 

وہ گنبدِ خضراء بھی دیکھیں تو ذرا جا کر 
خوابوں کی وہ تعبیریں پانا ہے مدینے میں 
اللہ ہی تو واحد ہے،معبودِحقیقی ہے 
ہو کر ہمیں کعبے سے جانا ہے مدینے میں 
پیغامِ خداوندی جب آپ نے پہنچایا 
اک شکرگذاری کو جانا ہے مدینے میں 
جس شہرِ مقدس میں سجدے کئے آقا نے 
چل کر ہمیں مکے سے جانا ہے مدینے میں آقائے دو جہاں کے ساتھ اپنے تعلق کو جب ایک شاعر جذبہ و احساس کی سچائی،گہرائی اور فنکارانہ حسن کے ساتھ بیان کرتا ہے تو نعت کے تیور کیا سے کیا ہو جاتے ہیں۔

ہفتہ، 2 نومبر، 2013

مشرف عالم ذوقی کی کہانیاں اور جبلت

کہانی کہنے کا فن بلاشبہ قدیم تہذیبوں کے دریافت ریکارڈ سے بھی پرانا فن ہے۔ادیب معاشرے کا عکاس ہوتا ہے، کہانیاں معاشرے کے مشاہدے سے ہی جنم لیتی ہیں۔ایک پلاٹ اور چند کرداروں کے مابیں تعلق پیدا کرتی ہوئی خاص اسلوب میں لکھی گئی تحریر مختصر افسانے کے ضمن میں آتی ہے۔ناول کی نسبت افسانہ کم گنجلک ہوتا ہے۔۔ سماجی شعور کو بیدار کرنے کی غرض سے جو افسانہ نگار منظرِ عام پر آئے انہوں نے ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا جسے اس وقت کے تہذیبی رویوں کے مطابق فحش سمجھا گیا ان افسانہ نگاروں میں ایک نام سعادت حسن منٹو کا تھا جبکہ عصمت چغتائی اسی سلسلے کا دوسرا اہم نام ہے۔ایسے موضوعات کو افسانوی رنگ دینا جو کسی بھی معاشرے میں ناسور کی طرح پل رہے ہوں۔ منٹو اور عصمت چغتائی جیسے افسانہ نگاروں نے کھلے الفاظ یا علامتی انداز میں معاشرے کو سدہار کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ایک اور نام کرشن چندر کا ہے جن کا فن اور فنی تصورات بے رحم حقیقت نگاری کی نیابت میں سماجی شعور اور ادراک کو حقیقی تجربے میں متشکل کر کے واقعہ و تحلیل کے عمل سے گزارتے ہیں۔چنانچہ وہ قدرت ِبیان، اسلوب کی بالیدگی،سلاستِ اظہار، سوچ و فکر کے امتزاج، متحارب و متضاد رویوں کو ممکنات میں داخل کرتے ہوئے افسانے کو اجتماعی شعور کے نئے رحجانات سے رو شناس کراتے ہیں۔ آج کے دور میں ہم ایک اور نام کو اسی رو میں شامل کرتے ہیں اور وہ نام ہے ہندوستان کی ادبی دنیا کا معروف نام مشرف عالم ذوقی،ناول لکھنے پر آتے ہیں تو کئی معرکہ الآرا ناول ان کے نام سے منسوب ہیں، 

سوموار، 9 ستمبر، 2013

احمد ہمیش انتقال کر گئے


مشہور جدید افسانے مکھی کے خالق، نثری شاعری کے متنازع بانی اور نقاد احمد ہمیش طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کرگئے۔ اردو کے اہم افسانے نگار، نثری شاعری کا بانی ہونے کے متنازع دعویدار اور نقاد احمد ہمیش، طویل علالت کے بعد اتوار کی شام کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی 73 سال تھی۔ انھوں نے پسماندگان میں بیوہ شہناز ہمیش، بیٹی انجلا ہمیش اور بیٹا فرید احمد چھوڑے ہیں۔ ان کی نماز جنازہ پیر کو نماز عصر کے بعد مسجد بابا موڑ نارتھ کراچی میں ادا کی جائے گی اور تدفین سخی حسن قبرستان میں ہو گی۔ وہ یکم جولائی 1940 کو ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے ضلع بلیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں بانسپار میں پیدا ہوئے۔ وہ دس سال کے تھے کہ ان کی والدہ انتقال کر گئیں۔ جلد ہی ان کے والد نے ایک اور شادی کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سوتیلی والد کا سلوک ان سے اور ان کے دوسرے دو بھائیوں اور بہن سے ناروا تھا جس کی وجہ سے وہ ترہ اٹھارہ سال کی عمر میں گھر چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ یہیں آ کر انھوں نے شاعری کی ابتدا کی اور ان کی پہلی نظم ماہنامہ نصرت میں 1962 میں شائع ہوئی۔ جس سے ان کے دعوے کے مطابق اردو میں نثری شاعری کی ابتدا ہوتی ہے۔ 1970 کے آس پاس 1970 وہ کراچی منقتل ہو گئے اور اس کے بعد آخر تک کراچی ہی میں رہے۔ وہ کچھ عرصے تک وہ ریڈیو پاکستان کراچی سے نشر ہونے والے ہندی پروگرام کے لیے بھی کام کرتے رہے۔ تاہم انھیں ریڈیو کے باقاعدہ ملازمت نہیں مل سکی۔ جب ریڈیو پاکستان کی یہ سروس کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دی گئی تو وہ گزر بسر کے لیے مختلف ملازمتیں کرتے رہے۔ 1970 کے دوران ہی جب قمر جمیل کی قیادت میں نثری شاعری نے ایک تحریک کی شکل اختیار کی تو احمد ہمیش اس کے اہم رکن تھے۔ سات افسانوں پر مشتمل ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’مکھی‘ 1968 میں ہندوستان سے شائع ہوا جس کی وجہ سے انھیں ایک اہم افسانہ نگار سمجھا جانے لگا۔ اس مجموعے میں شامل افسانہ ’مکھی‘ خاص طور ان کی شہرت کا باعث ثابت ہوا۔ ان کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ’کہانی مجھے لکھتی ہے‘ 1998 میں شائع ہوا احمد ہمیش کی شاعری کا مجموعہ ’ہمیش نظمیں‘ کے عننوان سے 2005 میں شائع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی شاعری پاکستان اور ہندوستان کے تمام ہی اہم جریدوں میں شائع ہوتی رہی۔ وہ نثری شاعری میں انتہائی منفرد اسلوب کے مالک تھے۔ وہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کراچی سے بھی وابستہ رہے۔ گزشتہ کئی سال سے وہ اپنی دختر انجلا ہمیش کے ساتھ مل کر سہہ ماہی ادبی جریدہ ’تشکیل‘ شائع کر رہے تھے۔

احمد ہمیش چل بسے


اردو کے معروف شاعر، افسانہ نگار اور نقاد جناب احمد ہمیش آج 8 ستمبر کی شب طویل علالت کے بعد امام کلینک نارتھ ناظم آباد کراچی میں وفات پاگئے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

ہفتہ، 7 ستمبر، 2013

شفیع عقیل کراچی میں انتقال فرما گئے


ممتاز شاعر، نقاد، دانشور، صحافی اورمبصر جناب شفیع عقیل کراچی میں انتقال فرما گئے انا لله و انا الیه راجعون

سوموار، 29 جولائی، 2013

روشنی کا سفر نہیں رکتا ۔ راشد مراد


اس کتاب نے مجھے ایک شاعر سے ھی نہیں، ایک دانشور، ایک فلاسفر اور ایک صاحب عقل و دانش سے متعارف کروایا ھے۔ یہ کتاب شاعری کی کتاب ھے۔ حکایت کی کتاب ھے، علم کی کتاب ھے، اور تہذیب کی کتاب ھے ۔ اس معاشرے کی تہذیب کی ۔ جس میں راشد زندہ ھے یا یوں کہنا چاھئيے کہ اس میں صرف راشد مراد جیسے لوگ ھی زندہ ھیں ۔ سانس لیتے ھوئے مگر درد محسوس کرتے ھوئے وہ درد جو ان کا اپنا نہیں بلکہ اوروں کا ھے مگر یہ اسے بیگانہ نہیں سمبھتے ۔ اسی لئے یہ وہ آنسو بہاتے ھیں جو دوسروں کے حصے کے ھوتے ھیں ۔ راشد وصیح تر سوچ کا مالک ایک خوبصورت انسان ۔ اس کتاب کا ھر ھر لفظ اس کی اپنی تہذیب سے، اپنے معاشرے سے اور اپنے لوگوں سے محبت کی علامت بن کے ابھرتا ھے ۔ اور وہ شعر کہنے کے فن کو اپنا کتھارسسس سمجھتا ھے ۔ اک رفو گر کی مہربانی ھے ورنہ جھولی میں اتنے چھید لئے لوٹ کر گھر میں کس طرح جاتا وہ محبوب کے بچھڑنے کا گلہ کرتا ھے تو اس کے زندہ رھنے پہ شکر ادا کرتا ھے اور اس کے شہر چھوڑ جانے کو بھی اپنے اور اس کے لئے بہتری کا اور ھجر کی مستقل مزاجی کا منبع سمجھتا ھے۔ مگر اسکی پازیب کی آھٹ بھی شاعر کر زندگی کا احساس دلانے کے لئے کافی ھوتی ھے ۔ راشد نے ھجرت کی ھے اور ایک سے زیادہ بار کی ھے جہاں وہ اپنی خواھش وطن کا اظہار کرتا ھے تو اسکا بھی سلیقہ ایسا ھے کہ وہ ھر ھجرت زدہ کا دکھ بن جاتا ھے لوٹ کر اس لئے نہیں جاتا شہر آباد ھے مگر اس میں کوئی پہچانتا نہیں مجھ کو وہ کہتا ھے اور میری گردن میں طوق بھی سلامت ھے یہ کونسا طوق ھے کیسا طوق ھے۔ شعر گوئی کا، یا شعر گوئی کی اذیت کا، سچ کایا سچ بولنے کی قیامت کا، حرف کا طوق یا لفظ کا، ھجرت کا یا حب الوطنی کا ۔ محبت کا یا محبت کی اذیت کا۔ بے گھری کا یا بے گھر ھونے والوں کا۔ اس کی شاعری میں یہ سب طوق اس کے قلم کو گردن سے لپیٹتے نظر آتے ھیں ۔ وہ چاھے امریکہ ھو یا انگلینڈ یا پھر پاکستان، وہ ھر ملک ھر سرحد کے لوگوں سے مخاطب ھو کر کہتا ھے رات سڑکوں پہ کاٹنے والو شام سے قبل تو پرندے بھی لوٹ جاتے ھیں آشیانوں کو راشد نے گرچہ غزل بھی کہی ھے مگر وہ بنیادی طور پہ نظم کا شاعر ھے۔ مختصر ترین تحریر میں وہ بڑی سے بڑی سچائی کو، ایک طویل تقریر کو، ایک سمندر سے گہرے کرب کو اس روانی سے لکھ جاتا ھے کہ کبھی کبھی تو ایسے لگتا ھے کہ سمندر کی گہرائی میں چھپی ساری سچائی، سارا خوف، ساری حقیقت، سارا درد، سارا خوف اسکے پانی کی چادر پہ نمودار ھوگيا ھو ۔ وہ سورج سے بھی شکوہ کرتا ھے تو بھلا لگتا ھے کہ شاعر کو شعر کہنے کے لئے رات کے سکوت میں روشنی درکار ھوتی ھے ۔وہ اپنے رونے کی بات کرتا ھے تو اپنے قاری کا دل چیر دیتا ھے۔ وہ بارش بھی مانگتا ھے تو سوکھتے دریا کے لئے ۔ اسے اپنی اور اپنے لوگوں کی جیت کا اتنا ھی یقین ھے جتنا کہ شب کے دامن سے سحر کے نمودار ھونے کا اور یہی یقین اسے راشد مراد بناتاھے۔ راشد فطرت کا، رنگ و نور کا اور طلسم کا شاعر ھے راشد کی یہ کتاب 128 صفحات پہ مشتمل ھے اور اس پہ غافر شہزاد کا خوبصورت تبصرہ موجود ھے۔ اور احمد ندیم قاسمی کا راشد کی نظموں کی طرح مختصر اور جامع تبصرہ بھی راشد کی اس سے پہلے بھی شاعری، اردو کالم اور انگلش کالم کی بالترتیب تین کتابیں بات شناسائی کی، سیکنڈ گیس، اور کھریاں کھریاں موجود ھیں اور اللہ کرے زور قلم اور زیادہ زندگی کی مراد ھے راشد گھپ اندھیرے کے بعد ھے راشد کب یہ لیتا ھے مانگ کے خوشیاں اپنےغم میں ھی شاد ھے راشد گل انوکھا ھے اپنے گلشن کا ھر خزاں میں آباد ھے راشد کیا اسے داد دوں میں شعروں پہ خود ھی شعروں پہ داد ھے راشد ثمینہ رحمت ۔ لندن —

ہفتہ، 1 جون، 2013


معروف شاعر اور نغمہ نگار ریاض الرحمان ساغر72برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔مرحوم کافی عرصہ سے کینسر کے مرض میں مبتلاءتھے ۔ عمر کے اس حصے میں ان مرض شد ت اختیار کرگیاتھا اور وہ کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھے ۔ ریاض الرحمان ساغر نے کئی پاکستانی اور ہندوستانی فلموں کے لئے گیت لکھے اس علاوہ نظمیہ سفرنامے بھی ان کی شہرت کی وجہ ہیں۔

سوموار، 13 مئی، 2013

پاکستان کے الیکشنوں میں دھاندلی روکنے کے لئے میرے بیٹے کی تجویز(رضا صدیقی)


My son Adeel Raza suggested "" Technology can be the only effective barrier against rigging. Why can't we use cheap bio-metric scanners and electronic CNIC validations?'' I am adding that thumb impression attendance Machine (cheap bio-metric scanners) connected with Nadra data base is the only cheap solution which will eliminate the expenditure of balot paper and stationary printing etc and rigging allegations

اتوار، 5 مئی، 2013

معروف نقاد سکندر احمد کا انتقال ہوگیا


معروف نقاد سکندر احمد کا انتقال ہوگیا۔ نئی نسل میں بہترین صلاحیتوں کی یوں بھی کافی کمی ہے۔ ایک اور خداداد صلاحیت کم ہوگئی۔ سکندر احمدنے فکشن کی تنقید کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایا تھا۔ ان کے طویل مضمون ’’افسانے کے قواعد‘‘ کی اشاعت کے فوراً بعد شمس الرحمن فاروقی کا کہنا تھا کہ ’’گذشتہ ۳۰ برسوں میں فکشن پر اس طرح کے نظری مباحث قائم نہیں ہوئے۔‘‘ قرۃ العین حیدر پر بھی ان کے ایک مضمون ’’قرۃ العینیت‘‘ کی اہمیت کا اندازہ معروف افسانہ نگار نیر مسعود کے اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’اگر یہ مضمون قرۃ العین حیدر کی زندگی میں لکھا جاتا تو انھیں (عینی آپا کو) پھر نقادوں سے کوئی شکایت نہ رہتی۔‘‘ اس کے علاوہ سکندر احمد نے فن عروض اور زبان و بیان پر بھی کافی کچھ لکھا جو ’’شب خون‘‘، ’’جامعہ‘‘، ’’الانصار‘‘، ’’اردو ادب‘‘ ، ’’اثبات‘‘ اور ’’ذہن جدید‘‘ وغیرہ کے علاوہ پاکستان کے متعدد علمی و ادبی جرائد میں تواتر سے شائع ہوتے رہے ہیں۔

جمعہ، 12 اپریل، 2013

افتخار عارف ! نئی منزل کی تیاری کرو/محمد حمید شاہد


افتخارعارف ای سی اوکے کلچرل انسٹی ٹیوٹ کے صدرنشیں ہو کر تہران جا رہے ہیں اور مجھے یوں گمان ہو چلاجیسے کہ یہ نئی وضع قطع والااسلام آباد ، جو افتخار عارف کی مخزوں آواز کے وسیلےسے اپنی تہذیب سے، اپنے ماضی کے روشن لمحوں سے، میر، غالب، اقبال ،بیدل اور انیس کی مسحور کن آوازوں سے ۔ کربلا،مشکیزے ،عَلَم ،عِلم کے حلم میں بہم ہونے سے جڑ کرمحض سیاست اور گریڈوں والا شہر نہیں رہا تھا ، دھڑکتے دل والازندہ وجود ہو گیا تھا،اس کے اندر سے روح سرکتی ہوئی نکل رہی ہے ۔ خیر یہی دستور ہے کہ کوئی آئے اور کوئی جائے۔ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ اسی آر جار میں امکانات کی ایک دنیا آباد ہے ۔ میں نے افتخار عارف کو تہذیبیشخصیت کہا اور اس پر یہ اضافہ بھی کرنا ہے کہ اپنے تہذیبی حوالوں سے بامعنی ہوتی شاعری کی ایک خاص دھج کی وجہ سے افتخار عارف کا اپنے ہم عصروں میں بالکل الگ اورممتاز ہوجانا کوئی کم اہم واقعہ نہیں ہے ۔ فقط شاعری کرنا اور زبان کو اُلٹ پلٹ کربرتنا اس کے امکانات کو کھنگالنا اور قافیہ ڈھونڈتے ہوئے دور کی کوڑی لے آنا ، نئےعہد کی الجھنوں میں الجھ جانا اور نئے مزاج کے الجھیڑوں کو مصرع بنا لینا یقیناشاعری کے باب میں کچھ کم اہم نہیں ہوگا کہ اس طرح آپ ڈھنگ کی بات نہ بھی کہہ پائیںتو آنے والوں کے لیے کچھ کہہ لینے کی راہ ہموار ضرور کر رہے ہوتے ہیں ۔ مگر افتخارنے اپنی شاعری کو اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا ۔ افتخار عارف کی شاعری کا مزاجتہذیب اور روایت کی جڑت سے ڈھلتا اور نکھرتا ہے ۔ بہ قول فیض ،افتخار نے جدیدمطالب کی ادائی میں روایت کے خزینے سے یوں کسب فیض کیا ہے کہ تلمیح کو علامت اورعلامت کو استعارے کا روپ دے کرنظم اور غزل دونوں کے لیے رمز وکنایہ کا نیا سامانپیدا کیا ہے۔ افتخار کی شاعری کامزاج ایک الگ وضع کے رکھ رکھائو، بولتے ہوئے الفاظ کی بر محل نشست کے اہتمام اورسماعتوں کو فورا ًاپنی جانب متوجہ کرنے والے صوتی آہنگ سے متشکل ہوتا ہے ، یہ ایساآہنگ ہے جس میں صوت، مصرع کے معنیاتی نظام میں ایک ترفع کا احساس جگادیتی ہے اورمصرع مکمل ہونے پریہ صوت خاموش بھی نہیں ہوتی، لہروں کی صورت اگلے مصروں تک پہنچتی ہے ؛ نئی صوتی لہروں کو جگانے کے لیے ۔ فکر اور جذبے کا عصری سانحات کے علاوہتہذیبی ماضی کے ساتھ جڑکر بیان ہونا، یوں کہ پیاس ، گھرانا، بستی ، قافلہ ،بیعت،جوہر، پندار، مقتل ، قیدخانہ، خیمہ، صبر، زمین ، مکان اور گھر جیسے الفاظ ویسے نہیںرہتے جیسے کہ وہ لغات میں یا تاریخ میں پڑے ہوتے ہیں یا جیسے کہ وہ پہلے سے موجودشاعری میں برتے گئے کہ افتخار نے انہیں نئے طرح کے عذابوں اور سرابوں کے مقابل ہونے والے قدیم انسان کا مخزوں دل بنادیا ہے۔ یہ بات تسلیم کی جانے لگی ہے کہ ایکخاص تہذیبی فضا اور فکری نظام سے جڑا ہواشاعر، الگ طرح کی عالی لفظیات والا اورلفظوں کو پورے تہذیبی شعور کے ساتھ برتنے والا ، جو فیض کے قبیلے کا ہے مگر الگہوکر سب کی توجہ کھینچتا ہے وہ افتخار عارف ہی ہے۔ یہیں کہتا چلوں کہافتخار عارف ایسی شخصیت ہے ہی نہیں جسے سہولت سے سمجھا جا سکے وہ تو تند مگر شفافپانیوں کے نیچے بیٹھی اس ریت کی طرح ہے جو ہر دم خالص رہتی ہے اور جسے مٹھی میںبھرنا چاہو تو بپھر کر بکھر جاتی ہی۔ افتخارعارف کو اس زمانے سے جانتا ہوں جب وہٹیلی وژن پر بیس سوالوں میں شخصیت بوجھ لینے والا کھیل کھیلا کرتے تھے ۔ تو یوں ہےکہ وہ ٹیلی ویژن والا افتخار ہو یا ریڈیو پر خبریں پڑھنے والا، اردو مرکز والاافتخار ہو یا اکادمی ادبیات ، مقتدرہ قومی زبان اور پھر نمل یونیورسٹی والا ان سبپر خالص شاعر، بولتا دانشور اور تہذیبی شخصیت کی چھاپ نمایاں رہتی ہے ۔ ہماری جان پہچان دو صدیوں میں پڑتی ہے اور اسے دو دھائیوں سے زیادہعرصہ ہو چلا ہے؛یوں میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا،سنا اورپرکھا مگر اس کے باوجود کہنا پڑے گا کہ میں انہیں ڈھنگ سے سمجھ نہیں پایا ہوں۔ ہنستاہوا چراغ‘ چاہے تو پل بھر سب کچھ اُجال دے ‘پینترا بدلے تو تپتا ہوا تیل ٹپکانے لگی۔ مگر ہر بار نتیجہ ایک ہینکلا کہ وہ دل کے اور قریب ہو گئی۔ خبریں پڑھنے سے خبر بننے تک اور قومی اداروں کیمسلسل سربراہی نے اگر ایک طرف ان کی شخصیت کو کچھ وقت کے لیے متنازعہ بنایا اور سبکے ذہنوں میں حاضر بھی رکھا تو دوسری طرح وہ انہی کی وجہ سے اندر ہی اندر سے ٹوٹتابھی رہا ہے جس دن سے ہم بلندنشانوں میں آئے ہیں ترکش کے سارے تیرکمانوں میں آئے ہیں ۔۔۔ روز اک تازہ قصیدہ‘نئی تشبیب کے ساتھ رزق برحق ہے ‘ یہخدمت نہیں ہوگی ہم سے تاہم اسی ساری تگ وتاز میں مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ ان اداروں کی توقیر میں اضافہ کا باعث بنے۔ اوریہکشمکش ان کے ہاں تخلیقی تجربے کا ساماں ہوتی رہی ہے۔ ساٹھ کی دہائی کے خاتمے پر جنشاعروں کے ساتھ افتخار عارف نے اپنا سفر آغاز کیا تھا ان میں سے جو بچ رہے ہیں وہسب وہی ہیں جنہوں نے اپنے تہذیبی ‘فکری اور جمالیاتی ورثے سے دست کش ہونا گورانہیں کیا۔ افتخار عارف کی ’’مہر دونیم‘‘ سے ’ ’حرف باریاب‘‘ اور بعد کی شاعری نگاہمیں ر ہے تو وہ جس وضع کی فضا میں اپنے تخلیقی وجودکو رکھتے محسوس ہوتے ہیں ،اس نےاردو شاعری میں تہذیبی اورمذہبی استعاروں کے حرکی تصور کے لیے فضا باندھ کر رکھ دیہے خلق نے اک منظر نہیںدیکھا بہت دنوں سے نوکِ سناں پر سر نہیںدیکھا بہت دنوں سی ۔۔۔ اپنے اپنے زاویے سےاپنے اپنے ڈھنگ سے ایک عالم لکھ رہا تھاداستان کربلا ۔۔ ۔ ہزار بار مجھے لے گیاہے مقتل میں وہ ایک قطرہ خوں جورگ گلو میں ہی ۔۔ ۔ دل اس کے ساتھ مگرتیغ اور شخص کے ساتھ یہ سلسلہ بھی بہت ابتداکا لگتا ہے افتخار عارف کےتخلیقی وجود کا دوسرا اہم حوالہ دربدری کا احساس ہے جو نان و نمک کی طلب میں مارامارا پھرنے کی ذلت اور اذیت سے جڑ کر اور بھی شدید ہوگیاہے ۔ یاد رہے افتخار عارفکے ہاں دربدری کا یہ احساس ایک تہذیبی انہدام کے رواں سانحے سے جڑا ہوا ہے۔ افتخارکی نظم سے ایک مقتبس اور پھر غزل کا وہ شعر جو زبان زد عام ہے ۔ یہ دنیا اک سور کے گوشت کی ہڈی کی صورت کوڑھیوں کے ہاتھ میں ہے اور میں نان و نمک کی جستجومیں در بدر قریہ بہ قریہ مارا مارا پھر رہاہوں ذرا سی دیر کی جھوٹی فضیلت کے لیے ٹھوکر پہ ٹھوکر کھا رہا ہوں ‘ہرقدم پر منزل عزو شرف سے گر رہا ہوں ( یاسریع الرضااغفرلمن لا یملک الالدعا) ۔۔۔۔۔۔ میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے میں جس مکان میں رہتاہوں اس کو گھر کر دے میری نظر میں افتخارعارف کی تخلیقی فضا کا تیسرا بڑا حوالہ اس کا اسلوب بنتا ہے ۔ یہ اسلوب بامعنیتراکیب سازی کے ہنر سے متشکل ہوا ہے۔ لفظوں کی نشست کو دھیان میں رکھ کر اصوات کےنظام کی تعمیر اور مصرع بناکر اس میں ایک حزنیہ عُجب اور تہذیبی مہک میں رچی بسیتازگی بپا کر دینے کی توفیق نے اسلوب میں اور نکھار پیدا کیا ہے۔ جمالیاتی چھوٹ کےہمراہ درد میں ڈوبی معنیاتی دبازت،اور مابعد کے مصرع سے اس کے زندہ اتصال و انسلاکسے ایک ہی وقت میں خیال کی احساس کی سطح پر تجسیم اور محسوسات سے فکر یات تک صوتی لہرکےاندر ہی اندر منتقل ہونا افتخار عارف سے منسوب اسلوب کا خاصہ ہوگئے ہیں ۔ یہ ایسیکٹھن راہ ہے جس پر افتخار عارف کے علاوہ کوئی اور چلتا تو اس کی سانسیں کب کی پھولچکی ہوتیں ۔ افتخار عارف نے کہا تھا خواب دیکھو اور پھرزخموں کی دل داری کرو افتخار عارف! نئی منزل کی تیاری کرو نئے نئے خواب دیکھنےوالے افتخار عارف اُدھر تہران جارہے ہیں اورمجھے یقین ہے کہ یہ مرحلہ اُن کی توقیرمیں اضافے کا سبب تو ہوگا ہی خود اِدھر اُدھر کے ادب کے لیے بھی مفید ہو گا۔ ن مراشد اُدھر ایران گئے تھے تو ان کی نظم کا ذائقہ بدل گیا تھا پھر وہ وہاں کےشاعروں سے اردو والوں کو متعارف کروا گئے ۔ ایسی ہی امیدیں افتخار عارف کے باب میںہو چلی ہیں ۔ اگر ایک طرف ایران عالمی سامراج کے سامنے نہ جھکنے والے واحد اسلامیملک کی حیثیت سے اپنی شناخت مستحکم کر چکا ہے تو دوسری طرف واقعہ یہ ہے کہ وہمقاطعوں کی زد پر ہے۔ ایسے میں اس طرح کے اداروں میں کام کرنا ، جس میں افتخارعارف جارہے ہیں کچھ اور کٹھن اورصلاحیتوں کا کڑا امتحان ہو جاتا ہے ۔ امید کی جانیچاہیئے کہ افتخار عارف کی تہذیبی شخصیت ای سی او ممالک کے بیچ ثقافتی اور ادبیرابطوں کی نئی نئی صورتیں سامنے لائے گی۔ حلقہ ارباب زوق اسلام آبادکے زیر اہتمام تقریب میں افتخار عارف، فتح محمد ملک،احسان اکبر، عابدہ تقی اور محمد حمید شاہد

جمعہ، 22 مارچ، 2013

جمعہ، 22 فروری، 2013

اتوار، 3 فروری، 2013

سوموار، 28 جنوری، 2013

جمعرات، 24 جنوری، 2013

ہفتہ، 19 جنوری، 2013

جمعہ، 18 جنوری، 2013

اتوار، 6 جنوری، 2013

مہاجر منٹو‘‘ ریوتی سرن شرماکی شرمناک پھبتی .محمد حمید شاہد


مہاجر منٹو‘‘ ریوتی سرن شرماکی شرمناک پھبتی
محمد حمید شاہد) ( اوپندر ناتھ اشک کا معروف مضمون’’ منٹو: میرا دشمن‘‘میرے سامنے دھرا ہے۔ جی اُسی اشک کا، جسے منٹو نے فلمستان میں کام کرنے کے لیے بمبئی بلایا تھا، اور بمبئی پہنچے ابھی تیسرا روز ہی تھا کہ گرانٹ روڈ کو جاتے ہوئی، وکٹوریہ پر سامنے بیٹھے سعادت حسن منٹو نے ،کہ جس نے تھوڑی سی چڑھا رکھی تھی ،اچانک انگریزی میں کہا تھا I like you, though I hate you پھر ڈیڑھ سال بعد ، فلمستان کی کینٹین پر واہ کرم سنسکار اور کپال کریا، یعنی مردے کی کھوپڑی توڑنے کی رسم کا ذکر چل نکلا تو منٹو نے دانت پیس کر کہا تھا ’’اشک جب مرے گا تو اس کی کپال کریا میں کروں گا‘‘ اشک پہلے نہیں مرا۔منٹو پہلے مر گیاتھا۔ اشک کی کھوپڑی منٹو کے ہاتھوں ٹوٹنے سے بچ گئی ۔’’ خوشیا‘‘ کو دوکوڑی کی کہانی کہہ کر منٹو کو دشمن بنا لینے والے اشک کامضمون میرے سامنے ہے اوراس میں بتایا گیا ہے کہ جن دنوں دلی ریڈیو میں منٹو کا طوطی بولتا تھا اوریہ کہ منٹوکو خوشامدی گھرے رکھتے تھی۔ منٹو اشک کو نیچا دکھانے پر ادھار کھائے بیٹھا تھا۔ ن م راشد، کرشن چندر اور منٹو ساتھ ساتھ کمروں میں بیٹھتے ۔ یہی وہ زمانہ ہے جب اشک نے کرشن سے منٹو کی شکایت کی اور اس کی مدد چاہی تھی : ’’ دیکھو بھائی، تم منٹو کو سمجھادو، وہ مجھے خواہ مخواہ تنگ کرتا ہی، میں طرح دیے جاتا ہوں۔‘‘ کرشن کا جواب تھا: ’’میرے سمجھانے سے وہ کیا سمجھے گا ، تم بھی اسے تنگ کرو۔‘‘ اور اپنا آپ بچا کر،کرشن ایک طرف ہو لیا بلکہ بقول اشک وہ تو ہر بار منٹو کے لیے ڈھال بن جاتا تھا۔ اسی ڈھال بن جانے والے کرشن کے حوالے سے اشک نے بتایا ہے کہ جھنجھلا کر اُس کی طرف غلیظ گالیوں کے ڈھیلے پھینکنے والے منٹو کو شدید خواہش رہتی تھی کہ وہ ایک آدھ غلیظ گالی کرشن کو بھی دے ، لیکن کرشن کبھی ایسا موقع نہ آنے دیتا۔ جب راشد کی نظموں کا مجموعہ ’’ماورا‘‘ کرشن کے دیباچے کے ساتھ شائع ہو گیا ، تو منٹو کولگا کہ بہ ہر حال یہ موقع ہاتھ آگیا تھا۔ اُس نے ڈراما لکھا اور راشد اور کرشن دونوں کاخوب مذاق اُڑایا ۔ منٹو کے طنز اور مذاق اڑانے کو پی جانے والا کرشن ہو یا اس سے غلیظ گالیاں کھانے اور کرشن سے شکایتیں کرنے والا اشک دونوں منٹو کے مرنے پر اسے یاد کرنے بیٹھے تو خود بھی روئے اور دوسروں کو بھی رُلایا ۔ منٹو پرکرشن کا مضمون چھپا تو اشک نے اسے کوشلیا کو سناتے ہوئی، ایک مقام پر اپنی آواز کو بھراتے ہوئے پایا۔ وہیں ،جہاں کرشن نے لکھا تھا: ’’ اُردو ادب میں اچھے اچھے افسانہ نگار پیدا ہوئے لیکن منٹو دوباہ پیدا نہیں ہوگا اور کوئی اس کی جگہ لینے نہیں آئے گا۔۔۔ یہ بات میں بھی جانتا ہوں اور راجندر سنگھ بیدی بھی، عصمت چغتائی بھی، خواجہ احمد عباس بھی اور اوپندر ناتھ اشک بھی۔ ‘‘ تو یوں ہے صاحب کہ جس بات کو بیدی،عصمت،اشک اور کرشن جان گئے تھے ، اسی بات کو کرشن چندر کی افسانہ نگار بہن سرلادیوی کے اٹھاسی سالہ شوہر ،افسانہ نگار اور ڈرامہ نگار ریوتی سرن شرما نے اپنے ایک مضمون میں ’’مہاجر منٹو‘‘ کی پھبتی کس کر اوندھانا چاہا ہی۔ یہ مضمون ، منٹو پر لکھے گئے نئے مضامین کے ایک انتخاب ’’منٹو کا آدمی نامہ‘‘ میں شامل ہے جسے آصف فرخی نے مرتب کر کے چھاپ دیا۔ اس مضمون میں ’’مہاجر منٹو‘‘ ،’’ مہاجر منٹو‘‘ کی تکرار اتنی بار کی گئی ہے کہ ریوتی شرن شرما کے اندر کا تعصب ، بے شرم ہو کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے ۔ پہلے تو شرما کو اس پر اعتراض ہوا کہ گوپی چند نارنگ نے یہ کیوں لکھ دیا کہ ’’جدیدیت نے پریم چند اور کرشن چندر سے انکار کیا‘‘ اور ایسا کیوں کہا کہ ’’منٹو اور بیدی کے ہمیشہ رہنے والے ہیں‘‘۔ نارنگ کے اس کام کو شرما نے ایسی چنگیزی اور طالبانی خون ریزی کہا ہے کہ اُردو تنقید میں شاید ہی کبھی کی گئی اور پھر ’’کیوں‘‘ کہہ کر جو سوالات ’’جدید تنقید‘‘ کے عنوان سے نارنگ سے کیے ہیں ان کا جواب تو انہی کے پاس ہوگا مگر جو ڈرون حملے ناحق شرما نے منٹو کے افسانوں اور خود منٹو کی نیت پر کیے ہیں ،وہ بھی تو ایسی ہی خون ریزی جویقین جانیے شرما جی! اردو تنقید میں یہ پہلی بار ہوئی ہے ۔ تنقید کے نام پر شدید تعصب اور نفرت کے اظہار اور لفظ’’ مہاجر‘‘ کو منٹو کے نام کے ساتھ یوں تکرار سے لکھنا کہ ظلم سہنے اور بہت کچھ چھن جانے کی علامت ایک معصوم سا لفظ گالی کا سا تاثر دینے لگی۔ منٹو، غلیظ گالی دیتا تھا تو بھی وہ محبت میں ڈھل جایاکرتی تھی ، اور ایک وقت آتا کہ وہ دوست دشمن سب کی آنکھوں سے آنسو بن کرٹپک پڑتی تھی ۔ شرما جی! یہ کیسا تعصب ہے کہ اپنی زمین سے بے دخل ہونے والوں کے سینے پر اعزاز کی طرح سج جانے والا معصوم سا لفظ بھی گالی بنا لیا گیا ہی۔ ’’مہاجر منٹو کے فسادات سے متعلق افسانی‘‘ نامی مضمون میں شرما نے محمد حسن عسکری کو بھی بار بار’’ مہاجر عسکری‘‘ لکھا ہے اوراپنی نفرت کی وجہ یوں بتائی ہے : ’’تقسیم کے بعد مہاجر حسن عسکری کو نئے پاکستانی ادب کا ممتازنقاد ماناجانے لگا تھا۔ منٹو کو عسکری نے بڑے فریم میں پیش کیا اور منٹو پر ایک تنقیدی کتاب لکھی’’انسان اور آدمی‘‘ ہندوستان میں منٹو پر لکھی اس کتاب کو مستند کتاب مان لیا گیا ہی۔‘‘ F صاحبو ! منٹو پر اور عسکری پر مہاجر کہہ کر چڑھ دوڑنے والے ریوتی شرن شرما، یہ تک نہیں جانتے کہ ’’انسان اور آدمی‘‘ منٹو پر لکھی ہوئی عسکری کی کتاب نہیں بلکہ چودہ تنقیدی مضامین اور ایک پیش لفظ پر مشتمل پونے دو سوصفحات کا ایسا مجموعہ ہے جس میں محض ایک مضمون منٹو پر ہے ؛ ساڑھے چھ صفحات پر مشتمل ’’منٹو فسادات پر‘‘۔ خیر ،میں بھی پروفیسر صغیر افراہیم کی طرح یہ نہیں کہہ سکتا کہ اٹھاسی سالہ فکشن نگار شرما ،منٹو کے فنی نظام سے لاعلم ہے اور یہ بھی نہیں جانتاکہ ’’انسان اور آدمی ‘‘ کاعنوان پانے والا مضمون، جو کتاب کا نام ہوگیا تھا، بھی منٹو پر نہیں ہی۔ شرما کو اس بات پر بہت طیش آیا ہے کہ منٹو نے پاکستان پہنچتے ہی دھڑا دھڑ فسادات کے موضوع کو تخلیقی سطح پر کیوں برتا ۔ بہ قول شرما کی،’’ منٹو کو تو سیاسی اور ہنگامی حالات پر لکھنے سے ’’الرجی ‘‘تھی اور ایسا کرنے والوں کو منٹو حقار ت اور بڑی رعونت سے ’صحافی یا کرشن چندرقرار دیا کرتا تھا‘‘، پھر پاکستان پہنچ کر منٹو’’ صحافی یا کرشن چند‘‘ر کیوں بنا؟۔ منٹو ، کرشن چندر یا صحافی نہیں بنا ۔ یہ بات شرما کو بھی معلوم ہے مگر سرلادیوی کے بھائی کرشن کی محبت میں اسے ان جاناکرنا اور اپنے تعصب کو محبوب رکھنا شرما کی مجبوری ہو گیا ہے ۔ جس نے بھی منٹو کے افسانے سارے تعصبات جھٹک کر پڑھے ،اس نے تسلیم کیا کہ ،منٹو نے فسادات پر لکھتے ہوئے محض فسادات پر اپنی توجہ مرتکز نہیں رکھی تھی،بلکہ اس نے تو مجبور ہوکر اس کا شکار ہو جانے والے انسان کو لکھا اور یہی بات منٹو کو دوسروں سے الگ کرتی ہے کہ انسان کو فسادات کے اس ہنگامے میں رکھ کر جس طرح اس نے دیکھا ہے وہاں سیاسی معنی منہا نہ ہوں تو بھی ثانوی ہو جاتے ہیں اور انسان اپنے چونکا ڈالنے والے غیر معمولی امکانات کے ساتھ سامنے آتا ہی۔ایسا ہی منٹو کے ان افسانوں میں بھی ہوا ہے جنہیں شرما نے اپنے تعصب کے عینک سے دیکھا اور شدید نفرت کے عالم میں ایک مہاجر کے لکھے ہوئے افسانے جان کر ان کا تجزیہ کیا ہی۔ منٹو کے یہ افسانے ہیں، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘،’’ کھول دو‘‘،’’ ٹھنڈا گوشت‘‘،’’ گرمکھ سنگھ کی وصیت ‘‘، ’’وہ لڑکی ‘‘ اور ’’یزید‘‘ ہیں اور تقابلی مطالعہ میں’’ بو‘‘،’’ موذیل‘‘ اور’’ تانگے والے کا بھائی‘‘ کا بھی ذکر ہو گیا ہی۔ منٹو کے مندرجہ بالا افسانوں پر بات کرنے سے پہلے ، شرما نے ڈاکٹر نارنگ کی توجہ منٹو کے مضمون’’زحمت مہر درخشاں ‘‘ کے ان سوالات اور وسوسوں کی طرف چاہی ہے جو ہجرت کرکے پاکستان آنے والے منٹو کو پریشان کر رہے تھی؛ یہی کہ کیا پاکستان کا ادب علیحدہ ہو گا؟ اگر ایسا ہوگا تو کیا ہوگا؟، کیا ہماری اسٹیٹ مذہبی ہوگی اور یہ کہ ہم ہر حالت میں اسٹیٹ کے وفادار رہیں گے مگر کیا اسٹیٹ پر نکتہ چینی کی اجازت ہوگی؟۔ شرما ،منٹو کے ان سوالات کو درج کرنے کے بعد دور کی کوڑی لایا؛ ذیلی عنوان جمایا: ’’وفاداری کا حلف نامہ‘‘ اور یہ تاثر دینا چاہا کہ جیسے یہ جو منٹو نے کہا ہے ’’ ہم ہر حالت میں اسٹیٹ کے وفادار رہیں گی۔‘‘ تو یہ کوئی زور زبردستی کا لکھوایا ہوا حلف نامہ تھا۔ منٹو نے اپنی مرضی سے نہیں لکھا تھا ۔ متن کی تعبیر کے معاملے میں قاری کی اتنی آزادی کو تو شاید جدید تنقید کی عفیفہ بھی ہضم نہ کر پائے گی جو شرما کے تعصب کا شاخسانہ ہو گئی ہی۔ شرماکا کہنا ہے کہ’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ کو شہرت ملنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہندوستان کے نقادوں نے اُسے بٹوارے کے خلاف پاکستان سے اٹھی پہلی زور دار آواز کہا تھا۔ ریوتی شرن شرماکی یہ بات مان لینے کے لائق ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ اِدھر والے بھی اِس باب میں پیچھے نہ رہے تھی؛ وہ اسے بہ طور افسانہ دیکھنے اور متن کا تخلیقی سطح پر تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے یا نہیں تقسیم کے خلاف اسے ایک ’’زوردار‘‘ آواز کے طور پر اُچھالتے پھرتے تھے ۔ خیر ،بات ریوتی شرن شرما کے تجزیے کی ہو رہی ہے جس میں ثابت کرنے کے جتن ملتے ہیں کہ جب منٹو پاگل بشن سنگھ کو اس کا گائوں یاد کرارہا ہوتا ہے تو ایسے میں افسانہ نگار کا منشایہ تھا کہ بشن سنگھ کی معرفت سکھوں کو خالصتان کی مانگ یاد دلا دی۔ اس باب میں شرما کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ’’ منٹو نے ایک سکھ پاگل کے منہ سے کہلوایا تھا کہ وہ ماسٹر تارا سنگھ ہی‘‘ اور کوسین میں وضاحت کی کہ یہ وہی تارا سنگھ ہے جس نے خالصتان بنانے کے لیے تیسرے بٹوارے کی بات کی تھی ۔ پھر یہ کہ منٹو افسانے کے آخر میں یہ تک دکھا دیتا ہے کہ بشن سنگھ ہندوستان نہیں جاتا ، اور نو مین لینڈ میں مرنا پسند کرتا ہی۔ منٹو کی نیت پر شک کی ایک اور وجہ جو شرما کی توجہ کا مرکز ہوئی ،وہ بشن سنگھ کا تکیہ کلام ہے ’’منگ دی دال آف لالٹین‘‘۔ مضمون نگار نے اس تکیہ کلام کے قابل اعتراض اضافے نشان زد کیے ہیں ؛ ’’منگ دی دال آف گورمنٹ آف پاکستان اینڈ ہندوستان آف در پھٹے منہ ‘‘ ، ’’گورمنٹ آف واہے گروجی خالصہ اینڈ واہے گروجی کی فتح ‘‘ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان‘‘۔ افسانے کے انجام کو فلمی بتایا گیا ہی۔ ایک حد تک شرما کی اس بات سے اتفاق کیا جاسکتا ہے اور میں نے تو اُس طنز کا بھی بہت لطف لیا جہاں قوسین میں مضمون نگار نے ناقابل یقین حد تک پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہنے والے بشن سنگھ کے اوندھے منہ پڑے ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ،اپنی جانب سے اضافہ کیا تھا، ’’کیمرہ پین(an) کرتا ہی‘‘ ۔ تا ہم جب ریوتی شرن شرما نے منٹو پر قاری کو الجھن میں ڈالنے کی بدنیتی کا الزام لگایا تو اس بزرگ کی اپنی نیت کھل کر سامنے آ جاتی ہی۔ منٹو نے اپنے افسانے میں جو کہنا تھا وہ پورے سلیقے سے کہہ دیا ہے وہ’’ گورمنٹ آف پاکستان اینڈ ہندوستان‘‘ دونوں کو’’ در پھٹے منہ‘‘ کہتا ہے اور اس میں سے اگر سکھوں کا کوئی خواب بھی اور شرما جی آپ کا کوئی خوف بھی چھلک پڑتا ہے تو اسے منٹو اور اس کے افسانے کی ایک اور خوبی سمجھا جانا چاہیے ۔ افسانہ ’’کھول دو‘‘ کے بارے میں ریوتی شرن شرما کاتجزیہ ہے کہ اسے منٹو نے محض ایک رات اور چند گھنٹوں میں لکھا تھا ، گویا عجلت میں لکھی ہوئی تحریر ہے اور یہ کہ یہ اس لیے مشہور ہو گئی کہ اس پر پابندی لگی تھی۔ میں نے ایسے دنوں میں شرما کا یہ مضمون پڑھا ہے کہ اُدھر بھارت کے دارلحکومت دلی کے جنوبی دوارکا کے علاقے میں چلتی ہوئی بس میں ایک تئیس سالہ طالبہ کو اجتماعی جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بس سے باہر پھینک دیاگیا ۔ منٹو ہوتا تو اس پر بھی اتنی ہی عجلت میں افسانہ لکھتا اور یقین جانیے شرما جی وہ بھی اتنا ہی مشہور ہوتا جتنا کہ’’ کھول دو‘‘ مشہور ہوا ہی۔ اس لیے کہ یہی منٹو کا تخلیقی وتیرہ رہا۔ وہ تو کرشن کے سامنے بھی اپنا ٹائپ رائیٹر کھول کر بیٹھ جایا کرتا تھا ،یہ کہتے ہوئے ، کہو کس موضوع پر لکھوں ، اور جب وہ لکھ کر اُٹھتا تو سب کو ماننا پڑتا تھا کہ اس موضوع پر ایسا ہی لکھا جانا چاہیے تھا۔ ہاں تو جہاں تک پابندی کی بات ہی، تواب اس کی اہمیت اتنی بھی نہیں ہے کہ جتنی کہ دلی ریپ کیس کے احتجاجی جلسوں پر وہاں کی پولیس کی لاٹھی چارج کی اس شرمناک وقوعے کے بعد رہی ہوگی ۔ ریوتی شرن شرما کہنا ہے کہ سراج دین باپ تھا بیٹی کو ننگا ہو کر خوشی سے چلا نہیں سکتا تھا اور میرا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی میں زندگی دیکھی تھی اسے ننگا کہاں دیکھا تھا۔ شرما کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں کیوں غرق ہوا ،اور اپنے تئیں تخمینے لگائے کہ ہو نہ ہو ڈاکٹر شرمندہ ہوا ہوگا۔ نہیں شرما جی نہیں ، منٹو کے جملے ایک بار پھر پڑھنا ہوں گے ۔ کسی بھی تعصب کو پرے دھکیل کر،مہاجر منٹو کے نہیں تخلیق کار منٹو کے ؛ ڈاکٹر کے دیکھنے اور پسینہ پسینہ ہو جانے میں ننگی عورت نظر آئے گی اور اس کا نفسیاتی جواز بھی۔ اس جواز کے سرے کو وہاں سے پکڑا جا سکتا ہی، جہاں کہنے والا تو کچھ اور کہتا ہے مگر سننے والا بس اتنا ہی سن پاتا جس سے اس کی نفسیات شدید صدمے یا کسی سانحے کے زیر اثر جڑی ہوئی ہوتی ہی۔ Z افسانہ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ بھی ریوتی شرن شرما کے نزدیک اس لیے مشہور ہوا تھاکہ اس کے لکھنے کی پاداش میں منٹو پر فحاشی کا مقدمہ چلا تھا اور دوسری وجہ یہ رہی کہ مہاجر عسکری نے اس کا ذکر ’’انسان اور آدمی‘‘ میں کر دیا تھا ، ورنہ تو یہ افسانہ محض ایک سنسنی ہے قاری کو چونکانے والی ایک ترکیب۔ شرماکا کہنا ہے کہ منٹو نے افسانے میں کہیں نہیں بتایا کہ ایشر سنگھ فسادات کے دوران لوٹ مار میں کیوں شریک ہوا؟، اس نے ایک نہیں چھ چھ آدمیوں کو کیوں مارا ؟، لڑکی نے کہا ہوگا مجھے لے جائو میرے والدین اور بھائیوں کو چھوڑ دو ، میں سکھ بننے کو تیار ہوں ایشر سنگھ کا دل کیوں نہ پسیجا؟ وغیرہ وغیرہ ۔ تو گویا اس سب کو افسانے کے متن کا حصہ ہو نا چاہیے تھا اور یہ جو منٹو نے افسانے کا بیانیہ چسپ بنا کر فسادی کی نفسیات کو سطر سطر سے چھلکا دیا ہے اس کی بجائے منٹو کو تفصیل سے اور کھول کھول کر لکھنا چاہیے تھا ۔ اگر منٹو ایسا کرتا جیسا کہ شر ما کا خیال ہے تویہ شاہکار افسانہ منٹو کا نہ رہتا کرشن کا ہو جاتا ۔افسانے میں غیر ضروری تفصیلات سے احتراز کرتے ہوئے جس طرح ایشر سنگھ کے اندر سے حیوان برآمد کیا گیا اور پھر اس کے شہوت بھرے جسم میں ایک انسان کو نشان زد کیا اسی نے تو اسے منٹو کا افسانہ بنایا ہی۔ ریوتی شرن شرما کو اس پر بھی طیش آیا ہے کہ منٹو نے ایک مسلمان مردہ لڑکی پر جنسی تشدد کرتے ایک سکھ کو دکھاکر جانبداری کا ثبوت دیا ہے حالاں کہ چند ہی سطر اوپر وہ ’’کھول دو ‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے مسلم رضاکاروں کی زنا کاری کو بھی نشان زد کر چکے ہیں ۔ یہاںکھلے دل سے اس کا اعتراف کیا جانا چاہیے تھا کہ منٹو ہر بار مظلوم کے ساتھ جاکر کھڑا ہو جاتا ہی، چاہیے اس کا مذہب کوئی بھی ہو اور ہر بار ظالم کو ننگا کرکے رسوا کرتا ہے چاہے اس کی قومیت کچھ بھی ہو مگر حیف کہ سامنے کی بات بھی تعصب کی آنچ پا کر ہوا ہو گئی ہے ۔ منٹو کے افسانے ’’گرمکھ سنگھ کی وصیت‘‘ میں اس جج کا قصہ بیان ہوا ہے جو فسادات کے شروع ہونے پر بھی اپنا محلہ چھوڑکر کہیں اورنہیں گیا تھا کہ اسے اپنے محلے کے ہندو اور سکھوں پر بڑا اعتماد تھا ۔ ریوتی شرن شرما کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ سنتوکھ سنگھ کے باپ پر احسان کرنے والے جج کے گھر سوئیاں دے کر لوٹتے سمے ڈھاٹا باندھے ، ہاتھ میں مشعلیں اور پٹرول کے ٹن اٹھائے چار آدمیوں کے اس سوال پر کہ ’’کردیں معاملہ ٹھنڈا جج صاحب جی کا‘‘ کے جواب میں یہ کیوں کہا تھا ’’ جیسی تمہاری مرضی‘‘ شرما کا سوال ہے ،’’منٹو کو نہ جانے کیوں اچھے سکھوں سے بیر ہو گیا ہی‘‘ ۔ منٹو کو کسی سے بیر نہیں تھا فسادی سکھ ہو یا مسلمان اور ہندو ،عام حالات میں وہ نیک اور پارسا ہوسکتا ہے مگر فسادات اورتعصبات اسے کیسے بدل کر رکھ دیتے ہیں یہی تو منٹو نے اس افسانے میں بتایا ہی۔ میں نہیں کہوں گا کہ منٹو کا یہ افسانہ بہت کامیاب رہا تاہم اس کے اندر سے منٹو کے کسی تعصب کو برآمد کرنے کو بھی منٹو کی صاف اور نیک نیت پر حملہ کے مترادف سمجھتا ہوں ۔ ’’وہ لڑکی‘‘ اور ’’یزید‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے یہی رویہ روا رکھا گیا ہی۔ ’’وہ لڑکی ‘‘افسانے میں لڑکی نے سریندر کو اسی کے پستول سے اس لیے مار دیا تھا کہ وہ چار مسلمانوں کا قاتل تھا۔ مسلمان ہونا کیا انسان ہونا نہیں ہوتا؟ جو قتل ہوئے کیا وہ چار انسان نہیں تھی؟ ، مگر حیف کہ شرما کو اس نہج پر سوچنا عطا نہیں ہوا ہے ۔ ’’یزید‘‘ کے باب میں بھی مضمون نگار کو منٹو پر اس لیے طیش آیا کہ منٹو نے اس افواہ پر یقین کرکے افسانہ لکھ دیا تھا کہ ہندوستان والے دریائوں کا پانی روک رہے ہیں ۔ چلیے مانا کہ جب منٹو نے افسانہ لکھا تھا تو پانی روکنے والی بات محض افواہ ہی ہوگی، جس وقت مضمون نگار نے اس افسانے کا تجزیہ لکھا تو کیا یہ واقعہ محض ایک افواہ ہی۔ پاکستان اور ہندوستان کے بیچ کشیدگی کو جس سطح پر منٹو نے آنکا ہے اور پانی کو کھول دینے کے تناظر میں یزید کے کردار کو جس طرح بدل کر رکھ دیا گیا ہے اس میں سے وہ معنی کیوں کر نکالے جا سکتے ہیں جو شرما نے نکالے ہیں ؛وہی روایتی معنی جس میں یزید پانی بند کرنے کی علامت ہوتا ہے کہ منٹو والا یہ کردار تو پانی کھولنے کے لیے پیدا ہوا تھا۔ ریوتی سرن شرماجی نے منٹو کو ایک حد تک پڑھا اور اس پر ’’مہاجر منٹو‘‘ کی پھبتی کسی، حسن عسکری کو بالکل نہیں پڑھا اور اسے منٹو کو بڑے فریم میں رکھ کر دیکھنے کی پاداش میں مہاجر عسکری کہہ کر پکارا ۔ شرماکو’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ میں سے خالصتان نظر آیا اور’’ٹھنڈا گوشت‘‘ کے وحشی ایشر سنگھ کے اندر بیدار ہوتے انسان کو وہ دیکھ نہ پایا، ’’کھول دو ‘‘کے مسلمان رضاکاروں کا سفاکی سے منہ نوچ ڈالنے والے منٹو پر اس نے جانبداری کی تہمت لگائی کہ ایک نیک سکھ کی ذہنیت کو فساد ات میں بدلتے ہو ئے کیوں دکھایا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ کس نیت سے منٹو کے متن میں مرضی کا مفاہیم ڈالے گئے ، اور منٹو کی نیک نیت پرشرمناک حملے کیے گئے ۔ خیر،اس طرح کے ڈرون حملوں سے منٹو مرنے والا نہیں ہی۔ منٹو کے بارے میں یہ جو اِدھر اُدھر اشتعال پایا جاتا ہے ، اسے اپنے اپنے ڈھنگ سے سمجھنے اور اپنے مطلب کے بیان کے لیے مقتبس کیا جاتا ہی، اس نے منٹو کی زندگی اور بڑھا دی ہی۔ وہ جو کرشن چندر نے لکھا تھاکہ ہم سب لوگ، اس کے رقیب ، اس کے چاہنے والی، اس سے جھگڑا کرنے والے ، اس سے پیار کرنے والے ، اس سے نفرت کرنے والی، اس سے محبت کرنے والے ۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ اردو ادب میں اچھے اچھے افسانہ نگار پیدا ہوئے لیکن منٹو دوبارہ پیدا نہیں ہوگا اور اس کی جگہ لینے کوئی نہیں آئے گا، تو سچ ہی کہا تھا ۔ کرشن کایہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات وہ جانتا تھا اور راجندر سنگھ بیدی،عصمت چغتائی ، خواجہ احمد عباس اور اوپندر ناتھ اشک بھی ۔ جگدیش چندر ودھان نے بہ جا طور پر نشان زد کیا تھا کہ:’’ انسان دوستی منٹو کے فن کا اٹوٹ جزو ہی‘‘ اور یہ کہ ’’منٹو نے کسی مخصوص سیاسی مسلک کو اپنائے بغیر سماج کی عفونتوں ، غلاظتوں اور اوہام کو اپنے فن میں پیش کیا ‘‘ اور یہ بھی کہ منٹو نے ’’ مقہور اور مجبور طبقے کی غربت اوربے چارگی اور مذہب سے وابستہ ریا کاری، تنگ نظری اور اوہام پرستی کی بڑی جان دار اور زندگی دے بھر پور تصویر کشی کی۔‘‘ منٹو کو اس کے اس تخلیقی چلن سے کاٹ کر دیکھناممکن ہی نہیں ہی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ریوتی سرن شرما سارے تعصبات ایک طرف دھر کر منٹو کو پھر سے پڑھی، اگر ایسا کرنا شرماجی کو نصیب ہوا تو مجھے یقین ہے اسے بھی ان سب کی طرح منٹو کو مان لینا پڑے گا۔

ہفتہ، 5 جنوری، 2013