ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے
اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


سوموار، 30 جنوری، 2012

جمعہ، 27 جنوری، 2012

جمعرات، 26 جنوری، 2012

غزل

گۓ دنوں کے تصوّر میں آنکھ نم کر کے
بکھر رہا ہوں خیالات کو بہم کر کے

اتر گیا پس_ کوہسار مضمحل سورج
شفق پہ اپنے سفر کی تھکن رقم کر کے

تمھارے بعد کسی پر نہ اعتماد کیا
کہاں سکون ملا خود پر یہ ستم کر کے

اداس شام مرے در پہ آن بیٹھی ھے
گزر نہ جاۓ کہیں ہجر مجھ میں ضم کر کے

جب اعتبار کا موسم گزر گیا کوثر
حصار_ وقت سے نکلا قدم قدم کر کے
شاہ زمان کوثر

ہفتہ، 21 جنوری، 2012

جمعرات، 19 جنوری، 2012

منگل، 17 جنوری، 2012

پاکستان ایسو سی ایشن دبئی میں اردومنزل کے زیر اہتمام مشاعرہ



پاکستان ایسو سی ایشن دبئی میں اردومنزل کے زیر اہتمام مشاعرہ
مشاعرے کی صدارت معروف شاعرسرشار صدیقی نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی نثار میمن تھے

تحریر صبیحہ صبا

پاکستان ایسو سی ایشن دبئی لاکھوں پاکستانیوں کا نمائندہ ادارہ ہے۔سماجی ،دینی اور رفاحی کاموں میں پیش پیش ہے۔ وطنِ عزیز کے دکھ سکھ میں یہاں مقیم پاکستانی بڑھ چڑھ کر حصہ ّ لیتے ہیں ایسے میں پی اے ڈی ایک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔اسی طرح اردومنزل گذشتہ دس سالوں سے مسلسل ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہے۔دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں اپنی پہچان بنا چکی ہے ۔ تمام اہل قلم اردومنزل سے واقف ہیں اردومنزل کا حصہ ہیں اور اردو منزل کو خراج تحسین پیش کر چکے ہیں۔اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔حال ہی میں پاکستان ایسو سی ایشن نے اردومنزل کے تعاون سے ادبی محافل کا سلسلہ شروع کیا ہے۔امید کی جا رہی ہے کہ اس طرح بہت اچھے پروگرام پیش کئے جا سکیں گے۔اردومنزل میں نان کمرشل بنیادوں پر انتہائی خلوص سے کام ہو رہا ہے۔نامور شاعرجناب سرشار صدیقی پاکستان سے تشریف لائے۔ سرشار صاحب نے علم و ادب کے فروغ میں نمایاں حصہ لیا ہے۔ان کے علاوہ نثار میمن ممتاز سماجی شخصیت ہیں ریڈیو پاکستان کراچی سے اسٹیشن ڈائریکٹر کی حیثیت سے ملازمت کرتے رہے۔دورانِ ملازمت بے شمار لوگوں کو ریڈیو کے ذریعے متعارف کرایااپنے کام کو عبادت کی طرح انجام دیا۔آجکل بھی ماس کیمونیکیشن کے شعبے سے وابستہ ہیں اور سندھی زبان کے معروف کالم نگار ہیں۔پاکستان ایسوسی ایشن میں اردومنزل کے زیر اہتمام ہونے والے اس مشاعرے کی صدارت سرشار صدیقی نے کی جبکہ نثار میمن مہمان خصوصی تھے۔بھارت کے دومہمان شاعروں نے بھی مشاعرے میں شرکت کی۔عبداللطیف صاحب نے سورہ عصر کی تلاوت کی۔ترجمہ

قسم ہے زمانے کی۔یقینا انسان خسارے میں ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ایک دوسرے کو حق کی وصیت اورصبر کی نصیحت کی۔

اللہ کے نام سے اور کلام پاک سے جو کام شروع ہوتے ہیں یقیناً بابرکت ہوتے ہیں۔طارق رحمن نے پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کی طرف سے مہمان شاعروں اور حاضرین کا خیر مقدم کیا۔ طارق رحمان نے کہا کہ صبیحہ صبا اور صغیر جعفری اپنی ذات میں ایک ادارہ ہیں اور یہ بات صرف کہنے کی حد تک نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے ۔ ان کی ادبی خدمات سے ہم سب واقف ہیں ۔طارق رحمان نے صدر محفل اور مہمان خصوصی کو خراج تحسین پیش کیا عبداللہ عدنان نے آغاز میں پاکستان ایسوسی ایشن ،صبیحہ صبا اور صغیر جعفری کے بارے میں خوش کن باتیں کیااور حاضرین کی معلومات میں اضافہ کیا۔

صغیر احمدجعفری مدیر ہیں اردومنزل کے یواے ای میں بہت زیادہ تقریبات کرانے کا اعزاز حاصل ادبی حلقوں میں بابائے تقریبات اور سفیر ادب کے نام سے پہچانے جاتے ہیں انھوںنے تقریر کرتے ہوئے بتایاکہ سر شار صدیقی کا شمار پاکستان کے نامور شاعروں میں ہوتا ہے اور آپ کے کلام کو بہت پزیرائی ملی ۔سرشار صدیقی صاحب کی علمی و ادبی خدمات کو ہم سب سراہتے ہیں ۔اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے آپ برسوں سے مشغول ہیں ۔ آپ کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے آپ کو پرائڈآف پرفارمنس کا ایوارڈدیا۔سرشار صدیقی کے چند اشعار:۔

یہ میرے چاندسے بچے جواں ہوئے جب سے

میں ایک مرتبہ پھر عالمِ شباب میں ہوں

ویراں ہیں اور حسرتِ تعمیر بھی نہیں

لیکن یہ غم تو قابلِ تحریر بھی نہیں

خلوص ختم ہوااعتبار ختم ہوا

خسارہ جس میں تھا وہ کاروبار ختم ہوا

اس پہ نہ قدم رکھنا کہ یہ راہِ وفا ہے

سرشار نہیں ہو کہ گزر جاؤگے لوگو

صبیحہ صبا

سنو اس پیکرِ خاکی کے پیچھے

کچھ ان دیکھے سہارے جاگتے ہیں

وہی ہے جاگنے والا سدا کا

اسی کے سب اشارے جاگتے ہیں

تمہیں کیا فکر ماںکی زندگی میں

کہ جب بیکل تمہارے جاگتے ہیں

صغیر احمد جعفری

گھٹن میں پھر ہوا کی آرزو ہے

سنو مجھ کو بقا کی آرزو ہے

نئی نسلوں کا اک محفوظ گھر ہو

یہی تو انتہا کی آرزو ہے

ثروت زہرا

بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے

اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے

میں تماشہ نہیں اپنا اظہار ہوں

سوچ سکتی ہوں سو لائقِ دار ہوں

میرا ہر حرف ہر اک صدا جرم ہے

اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے

سحرتاب رومانی

بزم سخن کی رونقیں سب میرے دم سے تھیں

شہرِ سخنوراں میں سخنور بھی میں ہی تھا

یعقوب عنقا

تیر باقی تیرے ترکش میں ابھی تک ہونگے

جسم حاضر ہے مگر جان کہاں سے لاؤں

کنول ملک

چھین کر نیند میری چین سے سونے والے

کیسے کٹتی ہے مری رات تجھے کیا معلوم

اکرم شہزاد اور محمد مقصود تبسم نے خوبصورت نعتیں پیش کیں۔بھارت سے دوشعراء محمد یامین الحق اور محی الدین قاضی نے خوبصورت نظمیں پیش کیں جنہیں سامعین نے بہت پسند کیا۔

ممتاز سماجی شخصیت دبئی کے قیوم شاہ نے اس ادبی تقریب میں موجود شعراء کو تحائف پیش کئے۔قیوم شاہ ،ثروت زہرا اور سحر تاب رومانی مہمانان اعزازی تھے مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے مہمانوں نے مشاعرے کو پسند کیا کیونکہ تمام شعراء نے عمدہ کلام پیش کیا۔

بدھ، 11 جنوری، 2012

’’ افتخارمجاز کا تدبر اور میری کم فہمی۔حافظمظفر محسن

’’لڑکی گونگی ہو تو زیادہ بہتر ہے؟!‘‘
میرے اِس جواب پر والدہ صاحبہ کے چہرے پر سے ہنسی غائب ہو گئی ۔ میرا خیال تھا وہ خوش ہوں گی۔ ’’ نہیں بیٹا ایسا نہیں کہتے۔ مجھے بہو چاہیے گونگی نہیں‘‘ ۔ ’’ اچھا ہے ماں جی…. نہ وہ آپ کے کان کھائے گی نہ ہی مجھ سے ہر دم فرمائشیں کر تی پھرے گی اور زندگی رہے گی پرسکون؟!‘‘۔ میں نے مسکراتے ہوئے برجستہ کہا۔
’’ کیا خاموشی پرسکون زندگی کی علامت ہے۔ وہ تمھارا ہمسایہ دلاور کیا پُر سکون زندگی گزار رہا ہے۔ جس کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا اور بیس سال تک وہ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے ہار مونیم پر غزلیں گاتا بجاتا رہا۔
اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے
ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے
مجھے دلاور کی گائی ہوئی یہ غزل یاد آگئی ۔ جو سینکڑوں دفعہ ہم نے سردیوں کی خاموش راتوں میں سُنی کہ جب یا تو علی کے دادا جن کو کینسر تھا وہ درد سے کراہ رہے ہوتے تھے یا دلاور ’’ چیخ ‘‘ رہا ہوتا تھا۔ کچھ درد قدرتی ہوتے ہیں اور کچھ دُکھ انسان نے خود پال رکھے ہوتے ہیں۔
’’ اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے‘‘
پرسُوں دلاور نے اپنا ہارمونیم جو اُسے جان سے زیادہ عزیز تھا ۔ بیچ ڈالا ۔ گلی میں پرانا لوہا خرید نے والے کو۔ اُس نے بے دردی سے ایک بڑی سی اینٹ لے کر ہارمونیم کو مار مار کر توڑ ڈالا۔ لکڑیاں اِدھر اُدھر بکھر گئیں۔ تھوڑا سا پیتل نکلاجو۔ اُس نے پرانے لوہے والے بڑے شاپر میں ڈالا۔ اور ’’ پرانا لوہا بیچ‘‘۔ بولتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔ اور بے چارہ دلاور دیکھتا ہی رہ گیا۔ اور سوچتا ہو گا کہ اب کہ میں کیسے گاؤں گا ۔ دل میں اُتر جانے والی غزلیں؟!۔
دلاور نے مُنہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔ اُس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں نے اُس کی دلی کیفیت بیان کر دی۔ انسان انسانوں سے ہی محبت نہیں کرتا۔ یہ محبت پرند چرند۔ کتاب پُھول ۔ تتلی اور ۔ بہت سی چیزوں سے ہو سکتی ہے۔
دلاور کدھر جاؤ گے اِس ہارمونیم کے بغیر ۔ میں نے پُوچھا۔ ’’ وہ مزید اُداس ہو گیا۔ میں اُسے گھر لے آیا۔ ہمارے گھر میں آج بھی چائے میں چینی کے ساتھ ساتھ نمک بھی ڈالا جاتا ہے۔ وہ چائے پی رہا تھا۔ مگر پلیٹ میں پڑے بسکٹ کی طرف اُس نے ہاتھ نہ بڑھایا ۔ ’’ دلاور یہ بسکٹ بھی رو رہے ہیں تمھارا ہارمونیم بک جانے پر‘‘۔
’’ باؤ ۔ ہارمونیم بک جانے پر نہیں۔ اُس کی پھیری والے کے ہاتھوں تذلیل پر‘‘۔ چُبھتے سوال کا تیکھا جواب فوراً ہی آگیا۔
دلاور بہتر نہیں تھا تم اخبار میں اشتہار دے ڈالتے۔ کچھ نئے گانے والے رابطہ کرتے۔ کچھ بیگمات فون کرکے پوچھ لیتیں۔ اور تم یہ ANTIQUEان کو بیچ ڈالتے مُنہ مانگے دام بھی مل جاتے۔ ویسے تم نے یہ پانچ سو میں بیچ کر ۔ فن کے مُنہ پر طمانچہ مارا ہے۔ یا موسیقی سے کوئی بہت پرانا بدلہ لیا ہے۔ کچھ چیزوں کو انسان نہایت شدت سے چاہتا ہے۔ اور کبھی کبھی نہ جانے کیوں اچانک نفرت یہ اترآتا ہے۔
’’ باؤ ۔ دل کی بات پوچھو تو میں اپنی بیس سالہ زندگی پر شرمندہ ہوں۔ ’’ ہائیں‘‘۔ میرا مُنہ کھلا رھ گیا۔ وہ درد بھری سریلی غزلیں۔ راتوں کی تاریکی اور گہری خاموشی میں رو رو کر گانے والا۔ اپنے اِس عمل پر بیس سال بعد شرمندہ ہے۔ میرا دل دُکھی ہوا۔ دلاور کی یہ بات سُن کر۔
اچھے بُرے کے فرق نے بستی اجاڑ دی
مجبور ہو کے ملنے لگے ہر کسی سے ہم
معاملہ بہت سنجیدہ تھا اور دلاور نے زندگی میں پہلی بار بسکٹ کھانے سے اکتاہٹ کا اظہار کیا۔ جس میں ناراضگی کا عنصر نمایا ں تھا۔
ایک جاندار قہقہہ بلند ہوا اور افتخارمجاز صاحب کی آمد ہوئی۔ حُضور اس قدر سنجیدہ کیوں۔ دو ’’ شریف‘‘ انسان کسی پوائنٹ پر غرق کسی بحر منجمد میں ڈوبے ہوئے ہیں؟!۔ ( یہ منفرد سٹائل ہے افتخارمجاز کا)۔ پھر تازہ خبر سنائی۔ ’’ دنیا میں سب سے زیادہ سی ۔ این ۔ جی اسٹیشن پاکستان میں ہیں؟‘‘۔ گویا۔ روٹی۔ مکان دینے والی حکومت نے دھڑا دھڑ سوئی گیس پٹرول کی جگہ بیچ دی یہ نہیں سوچا کہ گھروں میں چولہے بجھ جائیں گے؟!۔ میں نے جواب دیا اور پھر افتخارمجاز کو میں نے تفصیل بتائی تو سنجیدہ ہو گئے۔ ’’ مظفر ۔ ہارمونیم بجانے والا ہوگا تو ہارمونیم کی ضرورت ہوگی‘‘۔ ’’ یہ ہوئی ناں معقول انسانوں والی بات؟!‘‘۔ میرے مُنہ سے نکلا اور ماحول مزید سنجیدہ ہوگیا۔
’’ میں نے بتایا کہ گونگی لڑکی سے شادی کا ارادہ تھا‘‘۔ افتخارمجاز پھر گویا ہوئے۔ ’’ میاں کیا ایک دنیا دار انسان درختوں کے ایک جھرمٹ کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔ یا ےُوں کہہ لیں کی بڑے سے بڑا فلسفی بھی سمندر کنارے کُٹیا بنا کر لہروں سے دوستی کر کے زندگی کا طویل سفر پایہ تکمیل تک ہنسی خوشی پہنچا سکتا ہے؟۔
میں اُس افتخارمجازؔ کے ساتھ دلیل کے جواب میں دلیل دینے کی جرات کیسے کروں کہ بڑی چٹان کے ساتھ کبوتر سر ٹکرا ٹکرا کے زخمی تو ہو سکتا ہے۔ چٹان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ اور پھر افتخارمجازؔ کی تربیت کہہ لیں یا علمی ماحول میں پروان چڑھنا جہاں اعزاز احمد آذرؔ جیسا عالم فاضل بھائی ہر لمحہ ساتھ ہو۔ جس کے رات دن ؔ عدم ؔ کے ساتھ گزرے ہوں۔ ماہ و سال فیض احمد فیضؔ کے ساتھ ۔ کہ جو علم کے سمندر تھے۔ بہتے دھارے تھے۔ رواں دواں رہے!۔
بات بے با ت شعر کہنا افتخار مجاز کی خوبی ہے۔ اِس سے پہلے میں نے یہ خوبی جناب عابدؔ کمالوی میں دیکھی ہے۔ افتخار مجازؔ کے پاس ایسے بہت سے قصے کہانیاں ہیں کہ جن کو سنتے سنتے انسان۔ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے۔ کئی کئی گھنٹوں کی نشست بھی ناکا فی ہے۔ ان قصے کہانیوں کے لیئے ۔ اور کبھی کبھی یہ واقعات جب سنجیدہ شکل اختیار کر تے ہیں۔ تو مجاز کو چمکتی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے ہیں۔ اور سننے والا یکدم رو دیتا ہے۔ یہ سب پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستگی کے باعث ہے کہ جہاں پنجاب یونیورسٹی سے ڈگری لینے کے بعد افتخار مجاز نے پی۔ٹی۔وی پر ملازمت اختیار کی۔
یہ شخص مزاح اُگلتا رہتا ہے۔ کبھی گفتگو میں اور کبھی قلم کے ذریعے سینکڑوں مزاحیہ تحریریں مُلک کے نامور اخبارات و میگزین میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ میری کوئی اچھی تحریر۔ جب بھی کسی اخبار یا ادبی رسالے میں چھپی ہے۔ صبح سب سے پہلے افتخار مجاز کا ایس ۔ ایم ۔ایس آیا ہے۔ ’’ مبارکاں جی۔ مبارکاں۔ خوب لکھا ہے حسن عباسیؔ پہ مضمون‘‘!۔
’’ کاش محبت کے جراثیم بھی اتنے ہی عام اور طاقتور ہوتے جتنے ڈینگی کے ہیں‘‘۔ ایسی کاٹ دار باتیں۔ تیکھے فقرے صرف اور صرف برجستہ اور عین وقت پر ہمارے بہت محبت کرنے والے ہر دم دعائیں دینے والے دوست اور بھائی جناب افتخار مجاز کے مُنہ سے نکلتے ہیں۔
تلخیوں کے اِس دور میں جب صدر پاکستان کا طیارہ بھی دبئی سے یہ پوچھ کر اڑتا ہے کہ پہلے مجھے یہ بتاؤ بلکہ یقین دلاؤکہ پاکستان میں گھٹا ٹوپ اندھیرے چھا چکے ہیںیا نہیں۔ پھر میں پاکستان جاؤں گا۔
جب نوجوان خواہش کریں کہ۔ ’’ میں خوبصورت مگر گونگی لڑکی سے شادی کروں گا‘‘۔ ہمیں افتخار مجاز جیسے خوش مزاج لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔ اُن کی محفلیں ہمارے لیے غنیمت ہیں۔ اور اُن کے ساتھ دوستوں کے لیے خوش کُن!۔
اب تو خوش ہو جائیں ارباب ہوس
جیسے وہ تھے ہم بھی ویسے ہوگئے
(ناصر کاظمی)

جمعہ، 6 جنوری، 2012


آثار جنوں
شاعر: شیخ عطاء اللہ جنوں
تدوین: محمد افتخار شفیع
ناشر : شعبہء اُردو گورنمنٹ کالج ساہیوال
صفحات: 142
قیمت: 120 روپے
زیرِ نظر کتاب ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک گُم گشتہ شاعر کی دریافت ہے۔ شیخ عطااللہ نے 1961 میں وفات پائی۔ اگرچہ اُن کی پیدائش مشرقی پنجاب کی تھی لیکن تمام عمر ساہیوال میں بسر ہوئی۔ اُن کے والد شیخ اسد اللہ محسود فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے اور خود عطااللہ کا بنیادی رجحان بھی فارسی کی طرف تھا۔ اُن کا جو کلام دستیاب ہو سکا ہے اس میں ایک بڑا حصّہ فارسی غزل اور رباعی پر مبنی ہے۔ یہ فارسی کلام پہلی بار 1965 کے منٹگمری گزٹ میں منظرِعام پر آیا جو کہ مصطفٰے زیدی کی انتظامی نگرانی میں شائع ہوا تھا۔ اُس موقع پر یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ رقم کی گئی تھی کہ شیخ عطا اللہ کا اُردو کلام میسر نہیں ہے۔ اگرچہ شیخ صاحب کے شاگردوں میں بہت سے سرکاری افسر اور دیگر صاحبِ حیثیت لوگ شامل تھے لیکن انھوں نے کلام کو یک جا کرنے یا کتابی شکل میں شائع کرانے کی طرف قطعاً کوئی توجہ نہ دی۔
کلام کی اشاعت کا یہ اعزاز اب نصف صدی بعد اُن کے مقامی مداحوں کو حاصل ہوا ہے جن کے سر خلیل محمد افتخار شفیع گورنمنٹ کالج ساہیوال کے شعبہ اُردو میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اُنھی کی شبانہ روز جہد و کاوش سے یہ بکھرے ہوئے موتی ایک لڑی میں پروے گئے اور آج کا قاری شیخ عطا اللہ کے نام اور کلام سے شناسا ہو سکا۔
شاعر کا کلام کلاسیکی روایت میں ڈوبا ہوا ہے اور مضامین بھی اگرچہ وہی ہیں جنھوں نے صدیوں تک فارسی اور اُردو غزل کے گلستانوں کی آبیاری کی ہے، لیکن ادائیگی اور آھنگ مُنفرد ہے۔ نمونے کے اِن اشعار میں ملاحظہ کیجئے کہ حمدیہ مضمون میں بھی کیسی شوخی اور طنز کا مظاہرہ کیا ہے:
خود وقار اپنا نہ کھو ہم بے وقاروں سے نہ کھیل
قادرِ مطلق ہے تو بے اختیاروں سے نہ کھیل
اے امیدِ حسرت افزاء اے سرابِ دشت یاس
جا مرے آنسو نہ پونچھ اِن آبشاروں سے نہ کھیل
کچھ نشیمن اس سے آگے بھی ہیں اے برقِ نگاہ
آسمانوں تک نہ رہ جا، چاند تاروں سے نہ کھیل
برق طلعت نازنینوں کی نہ زلفوں سے الجھ
او دلِ مرگ آرزو بجلی کے تاروں سے نہ کھیل
کلام سے پہلے شاعر کی شخصیت اور شاعری کا ایک جامع تعارف موجود ہے جسے کلام کے مُرتب محمد افتخار شفیع نے اِن الفاظ پہ ختم کیا:
ٰ ٰ شیخ عطا اللہ جنوں کی شاعری کا فکری و فنی تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ ایک پختہ کار شاعر تھے، الفاظ کے دروبست اور استعمال کے ہنر پر ان کو بہت سے دیگر شعرا پر فوقیت حاصل تھی۔ ان کے کلام میں کلاسیکی رچاو کے ساتھ ساتھ جدید موضوعات بھی قدرے فلسفیانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ شاعری میں اپنے خیالات اور نمایاں رجحان کی مدد سے انھوں نے افسانہء حسن و عشق کی فلسفیانہ توجیہ کی ہے۔ غزل اور رباعی کے ایک اہم شاعر کے طور پر مولانا جنوں کی ادبی حیثیت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی برِصغیر میں اردو فارسی کی روایت ان کے بغیر مکمل ہو سکتی ہے۔ ٰ ٰ
کتاب میں شیخ عطاء اللہ جنوں کی ایک نایاب تصویر اور خود اُن کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر کا عکس بھی موجود ہے جس سے اس مجموعہء کلام کی اہمیت سہ چند ہوگئی ہے۔