ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

ہفتہ، 31 دسمبر، 2011



پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں اردومنزل بیادِ قائداعظم محمد علی جناح مشاعرہ
یو اے ای میں ۲۰۱۱ کا آخری مشاعرہ اردو منزل کے زیراہتمام منعقد ہوا۔ممتاز شعرا نے شرکت کی۔پاکستان ایسوسی ایشن کے طاہر زیدی اورطارق رحمان نے خاص دلچسپی لی۔اہل قلم اور انتظامیہ نے مشاعرے کےمیزبان صبیحہ صبا اورسید صغیر جعفری کی ادبی خدمات کوسراہا

غزل

نیا سال۔ماجد صدیقی

جمعہ، 30 دسمبر، 2011

بدھ، 28 دسمبر، 2011

منگل، 27 دسمبر، 2011

سوموار، 26 دسمبر، 2011

اتوار، 25 دسمبر، 2011

منگل، 20 دسمبر، 2011

غزل ۔ نوشی گیلانی

سمندر کا سفر ہے رتجگا ہے
دِیا اک پانیوں پر جل رہا ہے
افق پر دُور اک نیلا ستارہ
مرے ھمراہ شب بھر جاگتا ہے
اڑانوں سے تھکا ہارا پرندہ
سنہرے پانیوں پہ آ گِرا ہے
مرے دِل کی ہتھیلی پر کسی کا
کوئی پیغام لکھا رہ گیا ہے
عجب ہے ہجر موسم کی کہانی
بدن کا رنگ پھیکا پڑ گیا ہے
ہوا نے آج کیسی بات کہہ دی
گلوں کا حوصلہ بکھرا ہوا ہے
مہکتی ہےمرے دِل کی حویلی
کوئی دیوار و در میں بولتا ہے


نوشی گیلانی

سوموار، 19 دسمبر، 2011

ہفتہ، 17 دسمبر، 2011

عرض کیتا اے۔۔۔۔۔۔۔۔ اک ھلکی پھلکی نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بن جا

ماسٹر نے منڈے نوں آکھیا
بندہ بن جا
بنسکدا سی
بن گیا بندہ
مالک نے نوکر نوں آکھیا
بندہ بن جا
بن سکدا سی
بن گیا بندہ
جج نے یک ملزم نوں آکھیا
بندہ بن جا
بن سکدا سی
بن گیا بندہ
سوکھا کم سمجھ کے اک دن
لواں نے لیڈر نوں آکھیا
بندہ بن جا
اوس نے اگوں
ھس کے دسیا
بندہ، باندر توں بنیا سی
لیڈر توں نئیں۔۔۔۔۔۔
بابر جاوید

غزل ۔ کے اشرف

جمعرات، 15 دسمبر، 2011

رخصتی (افسانہ) -عامر حسینی

احمر اور راشدہ بہت تیزی سے گھر کا سامان سمیٹ رہے تھے-احمر چہرے کے تاثرات کے اعتبار سے قدرے مطمئن نظر آتا تھا-لکین راشدہ بہت اداس تھی-وہ صبیح سے سامان سمیٹ رہے تھے-یہ گھر ایک یونیورسٹی کے احاطہ میں قائم تھا-آج سے چھے سال پہلے جب احمر لندن سے یہاں آیا تھا اور اس نے شعبہ فلسفہ میں بطور پروفیسر جوائننگ دی تھی تو یہ گھر ان کو الاٹ ہوا تھا-احمر بہت جوش اور جذبہ کے ساتھ یہاں آیا تھا-سامان سمیٹے ہوئے احمر نے جب اپنی چھے سللقبل کی لکھی ڈائری کو سامان میں رکھنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ بے اختیار کچھ دیر کے لئے ماضی میں کھوگیا -
اس نے لندن کے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی جن کا جد ١٩٠٥ میں لندن میں تعلیم حاصل کرنے اتر پردیش کے شہر بلند شہر سے پڑھنے ایک بحری جہاز سے یہاں آگیا تھا-اور پھر لندن فضاء اس کو ایسی راس آئی کہ وہ بس یہیں کا ہوکر رہ گیا-یہیں شادی ہوئی اور یہیں پر ایک خاندان کی بنیاد پڑ گئی-احمر کو اپنے والد سے جہاں بہت سا تہذیبی ورثہ ملا تھا -وہیں پر ایک ورثہ اس کے پاس یہ تھا کہ وہ تقسیم کے بعد کے پاکستان سے بہت محبت بھی کرتا تھا-اس پاکستان کے لئے اس کے دل میں بہت درد تھا-اس نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی تھی-اور وہ لندن کے معروف کالج امپریل کالج میں استاد ہو گیا تھا-اس کالج میں وہ طلبا کو یونانی فلسفہ اور تاریخ فلسفہ پڑھاتا تھا-اس کی ذہانت اور وسعت علمی کی اس کالج کا ہر فرد گواہی دیتا تھا-اس کو مسلم دنیا کی علمی پسماندگی کا بہت قلق تھا-اور وہ مسلم دنیا میں فکری آزدی کے فقدان پر بہت زیادہ افسردہ بھی رہا کرتا تھا-وہ اس کے لئے کچھ کرنا بھی چاہتا تھا-
پھر ایسا ہوا کہ اس کے کالج نے جنوبی ایشیا کی یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے فلسفہ کی ایک کانگریس منعقد کی-اس کانگریس میں پاکستان کی ایک معروف یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے صدر ڈاکٹر منظور احمد بھی آئے-ان سے احمر کی ملاقات ہوئی-اور وہ ایک ہفتہ لندن رہے تو احمر سے مسلسل ان کی ملاقات ہوتی رہی-اس دوران ڈاکٹر منظور احمد سے پاکستان میں سماجی علوم کی زبوں حالی پر کافی بات چیت ہوئی-ڈاکٹر منظور احمد احمر کی اس بات سے متفق تھے کہ فکری آزادی کے بغیر مسلم سماج ترقی نہیں کر سکتے-اور اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہاں کی یونیورسٹیز میں اکیڈمک آزادی کا رستہ ہموار ہو-اور یہ کام فلسفہ کی تعلیم کو فروغ دئے بنا ممکن نہیں ہے-ڈاکٹر منظور کہتے تھے کہ ان کی یونیورسٹی کو فلسفی استادوں کی ضرورت ہے-جو مشکل سے میسر آتے ہیں-انھوں نے احمر کو کہا کہ اگر اس جیسے لوگ تھوڑی قربانی دے ڈالیں تو پاکستان میں فکری انقلاب کی رہ ہموار ہوسکتی ہے-ڈاکٹر منظور احمد سے ملاقات کے بعد احمر کے ذہن میں ایک کشمکش شروع ہو گئی-اس کو یاد آیا کہ اس کے بابا کس قدر زور دیتے تھے احمر پر کہ اس کو پاکستان جا کر تدریس کرنی چاہئے-اور وہ پاکستان میں ان دنوں آمریت ہونے کی وجہ سے نہیں جاسکا تھا-کیونکہ جب اس نے پاکستان کی ایک یونیورسٹی میں اپلائی کیا تھا تو وہ انٹرویو کے لئے جب پاکستان میں سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش ہوا تو اس سے انٹرویو لینے والے نے آیت الکرسی اور دعائے قنوت سنانے کے لئے کہا-اس کو بہت حیرانی ہوئی کہ فلسفہ کی تدریس سے اس کا کیا تعلق تھا-اس کو پتہ چلا کہ اس سے قبل کیمسٹری کے ایک ٹاپر کو اس لئے ریجکٹ کر دیا گیا تھا کہ اس کو رات کو سوتے وقت کی دعا یاد نہیں تھی-وہ واپس چلا آیا تھا-اس نے ڈاکٹر منظور کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا تو انھوں نے تسلی کرائی کہ اب وہ دور چلا گیا ہے-سو اس نے پاکستان جانے کا فیصلہ کر لیا -اور وہاں ایک یونیورسٹی کو جوائن کر لیا-
یہاں آکر اس نے پہلے تو یہ دیکھا کہ لوگ فلسفہ جیسے اہم مضمون کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں تھے-بلکہ یہاں تو سرے سے علم کی تحقیر و توہین کو لوگوں نے رواج بنا رکھا تھا-اس کو ایسے لگا کہ وہ مغرب میں اس دور کے اندر واپس آگیا ہے جب کلیسا نے علم اور حکمت کے خلاف ایک مہم چلائی ہوئی تھی-وہ جب بھی یونیورسٹی کی واحد مسجد میں جمعہ کی نماز کے لئے جاتا تو اس کو مولوی صاحب کا سارا خطبہ علم کی تحقیر پر مبنی معلوم ہوتا تھا-اور ایسے لگتا تھا کہ سماجی علوم کی ترقی مولوی صاحب کے نزدیک کوئی بہت بڑا جرم تھی-اس کو خیال آتا کہ جب وہ نویں صدی میں عرب میں فلسفہ اور حکمت کی کتابوں کو جلائے جانے کا تذکرہ پڑھا کرتا تھا تو اس وقت وہ سوچا کرتا تھا کہ آجووہ فعل کرنے والے موجود ہوتے تو خود کتنی شرمندگی محسوس کرتے -لکین یہاں آکر اسے محسوس ہوا کہ پاکستان سمیت دیگر کئی ملکوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو اب بھی اسی طرح کا فعل روا رکھنے کو مذہب اور سماج کی خدمت خیال کرتے تھے-اور جب بامیان میں طالبان نے بدھا کا مجسمہ گرا ڈالا تھا تو اس کو بہت حیرانی ہوئی تھی کہ اس کی یونیورسٹی کے کئی استاذہاس عمل کو ٹھیک کہ رہے تھے-یہ سب باتیں دیکھ کر اس کو اپنے فیصلے کے ٹھیک ہونے کا یقین آگیا تھا-اور وہ زیادہ تندہی سے فکری آزادی کے لئے کام کرنے لگا تھا-اس نے ناصرف اپنے شعبہ میں فکری آزادی کو پروان چڑھانے پر زور دینا شروع کیا بلکہ اس نے اس عمل کو پوری یونیورسٹی میں آگے لیکر جانے پر زور دیا-
اس کے اس عمل پر ایک مرتبہ ایک مذہبی تنظیم نے سخت رد عمل بھی دکھایا لکین اس نے کوئی پرواہ نہ کی-وہ یونیورسٹی کی ضابطہ کمیٹی کا رکن بھی تھا-احمر کو اپنی کوششوں کے دوران ہی یہ احساس ہوگیا کہ فکری آزادی کے عمل کو یونورستیز میں پھیلنے سے روکنے میں رجعت پسندوں سے زیادہ روکاوٹ وہ لوگ ہیں جو ترقی پسندی کا علم اٹھائے کھڑے ہیں-جو اپنی ہوس اور شہوت انگیزی کو ترقی پسندی کا نام دیتے ہیں-
احمر کو اس امر کا اندازہ اس وقت ہوا جب اس کے شعبہ کے ایک استاد نے پرچہ لیتے ہوئے تئیں لڑکیوں کے سوا سب لڑکیوں کو فیل کر ڈالا اور پھر جب ایک لڑکی نے اس کو آکر یہ شکایت کی کہ مذکورہ استاد کہتے ہیں کہ بی بی اگر پاس ہونا ہے توکچ لو اور کچھ دو پر عمل کرنا پڑے گا-اسی طرح شعبہ میں وزٹینگ اساتذہ کی بھرتی کے معاملے پر بھی ایسی ہی حرکت دیکھنے کو ملی-جس کا احمر نے کبھی لندن کے کسی تعلیمی ادارہ میں تصور بھی نہیں کیا تھا-اس نے جب اس پر اپنا رد عمل ظاہر کیا تیکسر لوگوں نے اس کو معمول کی بات قرار دیکر نظر انداز کرنے کی تجویز دی-لکینووہ ڈٹ گیا-اس وقت تک ڈاکٹر منظور بھی وی سی بن گئے تھے-انھوں نے بھی ان کا ساتھ دیا-تو اس روش پر قابو پالیا گیا-لکین اس نے دیکھا کہ تعلیمی ادارہ میں یہ تو ایک رجحان بنتا جا رہا ہے-اور ڈاکٹر منظور کے جانے کے بعد جب نئے وی سی آئے تو اس کو بہت زادہ تنہائی کا احساس ہونے لگا-اور ایک دن وہ ہوگیا جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا-
یہ سردیوں کے دن تھے-جب وہ اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کے شعبہ میں نئی بھرتی ہونے والی لیکچرر چخیتی ہوئی اس کے کمرے میں داخل ہوئیں-یہ مس ساجدہ تھیں-اس نے ان کو چھپ کرایا-وہ کہ رہی تھیں کہ ان کو بچا لیا جائے-ان کے پاس کوئی دوپٹہ یا چادر نہیں تھی-اس نے اپنا لانگ کوٹ مس ساجدہ کو پہنایا-ان کو تسلی ڈی-جب وہ بات کرنے کے قابل ہوئیں تو ان سے پوچھا کیا ہوا تھا؟تو وہ روتے ہوئے کہنے لگیں کہ آج ان کو سر صداقت نے اپنے روم میں بلایا تھا-اور ان کو کہا کہ یهداکومنٹ سوفٹ کاپی میں ان کے پی سی میں موجود ہیں-ان کو آکے پڑھئیے-جب وہ پڑھنے کے لئے قریب ہوئیں تو اچانک پیچھے سے ان کو صداقت نے پکڑ لیا اور ان کے گالوں کو چومنے کی کوشش کرنے لگے-اور اس دوران ان کی شال بھی اتار کر پھینک دی-انھوں نے خود کو بہت مشکل سے بچایا اور بھاگ کر اس کے کمرے میں اگائیں-احمر کو یہ سب سنکر بہت غصہ آیا-اس نے مس ساجدہ کو فوری طور پر اےکدرخوسٹ لکھنے کو کہا-درخواست لکھی گئی-وی اسی نے ضابطہ کمیٹی کو معاملے کی تحقیق کرنے کو کہا-ضابطہ کمیٹی میں کل پانچ رکن تھے-احمر کو اس وقت سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا-جب ضابطہ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا-اور اس میں ضابطہ کمیٹی کے صدر نے جو کہ ساجدہ کے باپ کی عمر کے ہوں گے-اور یونیورسٹی میں ترقی پسندی کے گرو گھنٹال خیال کے جاتے تھے-بہت ہی گھٹیا انداز اختیار کرتے ہوئے یهکھنے لگے
ساجدہ کے بارے میں ایک بات تو کہنی پڑتی ہے کہ وہ ہے تو سیکس
بم جس کو دیکھ کر بہت سے لوگوںکا ایمان ڈول جاتا ہے-اگر صداقت
اگر صداقت صاحب بہک گئے تو کوئی بڑی بات نہیں-
ایک اور رکن بولے کہ "سالی صداقت کے قابو میں آجاتی تو سارے کس بل نکل گئے ہوتے اور اب فلاں رجعت پسند گروپ کو ہم پر باتیں بنانے کی جرات نہ ہوتی-
ایک اور کا خیال تھا کہ یہ سب سازش ایک مذہبی تنظیم کی کارستانی ہے-
احمر یہ سب باتیں سن کر حیران ہورہا تھا-اور اس وقت حد ہو گئی جب مس ساجدہ کو ضابطہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا -اور کمیٹی کے وہ لوگ جو ان کے بارے میں توہین آمیز بیانات دی رہے تھے -ان کے ساتھ ایسے بیہودہ سوالات کرنےلگے کہ احمر کو اس پر سخت احتجاج کرنا پڑا -اور جب احمر نے صدر کمیٹی کے اصل چہرے کو بےنقاب کیا اور وی سی سے ان کو ضابطہ کمیٹی سے الگ کرنے کا کہا تو اگلے دنہمر کی حیرانگی کی انتہا نہ رہی جبوی سی نے ان کو ضابطہ کمیٹی سے الگ کر دیا-اور احمر پر جانبداری برتنے کا الزام لگایا-اور اسی دن اس گروپ کا بھی اجلاس ہوا جو خود کو یونیورسٹی میں مذہبی فاشزم کا مخالف کہا کرتا تھا-اس نے صداقت کو بیگناہ کہا اور یونیورسٹی میں کلاسوں کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی بھی دی-اور اسے یونیورسٹی میں طالبانیت کو پھیلانے والوں کی سازش بھی قرار دے ڈالا-
مس ساجدہ نے یہ صورت حال دیکھتے ہوئے نہ صرف درخواست کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا -بلکہ یونیورسٹی جاب بھی ترک کردی-احمر کے لئے یہ بہت تکلیف دہ صورت حال تھی-وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ علم کی درسگاہوں میں یہ کھیل کھیلے جاتے ہونگے-اور ہوس کے پجاریس طرح سے فکری آزادی کے نام پر دندناتے ہونگے-اس کے بہت سے خواب تھے جوچکنا چور ہوگئے تھے-اس نے یہ سبدیکہ کر واپس جانے کا فیصلہ کیا-اس نے امپریل کالج کی انتظمیہ کو خط لکھا کہ ووہواپس آنا چاہتا ہے -اس کو اگلے دن ہی جواب موصول ہوا-امپریل کالج کے پرنسپل اور شعبہ فلسفہ کے ڈین نے لکھا تھا کہ اس کا پرانا آفس اور کلاس روم اس کی آمد کے شدت سے منتظر ہیں-آج وہ یہاں سے جا رہا تھا-وہ انہی خیالوں میں گم تھا کہ اس کی بیوی راشدہ کی آواز آئی کہ سامان گاڑی میں رکھا جاچکا ہے-آپ بھی آجائیے-وہ بھاری قدموں کے ساتھ چل کر گاڑی میں بیٹھ گیا-اور گاڑی ائر پورٹ کی طرف روانہ ہو گئی -جہاز میں اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اسے یاد آتا رہا کہ کیسے کیسے خواب دیکھے تھے-اور کیا کچھ کرنے کا عزم کیا تھا اس نے-اس کو یاد آتا رہا کہ وہ تو پورے معاشرے میں فکری آزادی کی تحریک چلانے آیا تھا-اور چند پروفیسروں اور بابوؤں سے مار کھا گیا تھا-
بہت عرصۂ بعد لندن کی ایک کافی شاپ میں وہ بیروت سے آئے ایک پروفیسر کے ساتھ بیٹھا کاپی سپ کر رہا تھا-تو پروفیسر نے کہا کہ جنوبی لبنان کے اکثر ترقی پسند مرد اور خواتین حزب الله اور العمل کے کارکن بن گئے ہیں-اور انھوں نے ٹھیک کیا ہے-کیونکہ کھوکھلا اور بنجر لبرل ازم ان کو کچھ نہیں دی رہا تھا-احمر یہ سن کر چھپ رہا-اگر یہی فقرہ اس نے پاکستان جانے اور واپس آنے سے قبل سنا ہوتا تو وہ شائد مذکورہ پروفیسر سر لڑ پڑتا -اور بہت بحث کرتا-لکین اسے لگا کہ اس کی شکایت بھی بہت حد تک ٹھیک ہے-پھر اس پروفیسر نے احمر کو کہا کہ احمر ترقی پسندی اور انقلاب کیجنگ یونیورسٹیوں میں نہیں لڑی جاتی یہ تو باہر بیٹھ کر لڑی جاتی ہے-اوٹو بائر کو برداشت نہیں کیا تھا جرمنی والوںنے-نکال باہر کیا تھا-کارل مارکس کو بون میں نہیں نوکری ملی تھی-تیسری دنیا کے ملکوں میں کرئیر اور ریڈکل ازم ساتھ ساتھ نہ چل سکتے-زہین دماغ یا تو ہجرت کر کے مغربی ملکوں میں اپنی ذہانت سے سکوں پاتے ہیں یا پھر اپنے ملکوں میں غربت کے ساتھ لڑتے لڑتے جان دی دیتے ہیں-احمر یہ سب سن کر کافی شاپ سے اٹھا اور اس پروفیسر سے ہاتھ ملایا اور باہر کے دروازہ سے نکلتا چلا گیا ---------

بدھ، 14 دسمبر، 2011

ہفتہ، 3 دسمبر، 2011

ماں کی اشکوں بھری کہانی. رضی الدین رضی

حبیب الرحمن بٹالوی نے اپنی زیرِ تالیف کتاب’’ماں اور مامتا‘‘کا مسودہ میرے حوالے کیا تو مجھے سب سے پہلے اپنی والدہ یاد آئیں جن کی دعائیں آج بھی مجھے زندگی کی کڑی دھوپ سے بچاتی ہیں۔مجھے وہ لمحہ یاد آیا کہ جب جنوری 1968ء کی ایک دوپہر میری والدہ میرے والد کی میت کے قریب بیٹھی روتی تھیں اور میں ان کے دکھ سے بے نیاز ایک ساڑھے تین سالہ بچہ ان کے قریب کھیلتا تھا۔ میری یادوں میں میری ماں کا یہی اشکوں سے بنا ہوا پہلا نقش کچھ اس طرح محفوظ ہے کہ میں چاہوں بھی تو اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ اور میں بھلا کیوں چاہوں گا کہ میں کبھی یہ نقش فراموش کروں کہ میری ما ں کے یہی آنسو تو تھے جنہوں نے مجھے زندگی کا سلیقہ دیا۔ یہی وہ اشکوں بھرا چہرہ تھا جس نے مجھے پاؤں لہو لہان کیے بغیر کانٹوں بھرے راستے سے گزرنے کا ہنر سکھایا۔ یہ دراصل میرے آنسو تھے جو میری نہیں میری ماں کی آنکھوں سے بہتے تھے ۔ اس نے میری زندگی کو روشن بنانے کیلئے میرے حصے کے اشکوں کو بھی اپنے خوبصورت چہرے پر سجائے رکھا ۔اور صرف اسی دن نہیں میری والدہ بعد کے دنوں میں بھی بارہا روتی رہیں۔ہر ماں کی طرح اُن کی بھی کوشش ہوتی تھی کہ بچے ان کے آنسو نہ دیکھ سکیں ۔ وہ ہم سے چھپ کے روتی تھیں یا جب ہم سو جاتے تو پھر روتی تھیں۔ایسے میں اگر کبھی ہم میں سے کوئی اچانک ان کے سامنے آجاتا یا سوتے سے جاگ اٹھتاتو وہ اپنے آنسو صاف کرکے اس طرح مسکراتے ہوئے ہماری جانب متوجہ ہوتیں کہ جیسے وہ سدا سے مسکرارہی ہوں۔
میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنی ماں کو ہمیشہ مشقت کرتے دیکھا۔ وہ دن میں محلے والوں کے کپڑے سیتیں، شام کو ان کے بچوں کو پڑھاتیں اور رات کو کبھی سویٹر بنتیں اور کبھی کڑھائی کا کام کرتیں۔ انہوں نے باپ بن کر ہم تین بہن بھائیوں کو کچھ اس طرح سے پالا کہ ہمیں کسی محرومی کا احساس ہی نہ ہونے دیا ۔ صدر بازارسے ملحقہ بابو محلہ میں واقع تین منزلہ عمارت کا ایک کمرہ ہماری ماں نے ہمارے لیے جنت بنائے رکھا۔ وہ کمرہ ٹیوشن سنٹر بھی تھا۔ وہاں سلائی مشین بھی چلتی تھی۔ وہیں ایک کونے میں بیٹھ کر ہم کھانا کھاتے اور اسی کمرے میں چادر بچھا کر چائے کی پتی کی پُڑیاں بھرتے تھے اور پھروہ سلائی مشین سے ان پڑیوں کو سی دیتی تھیں تاکہ دکاندارانہیں ہاروں کی طرح اپنی دکان میں لٹکاسکیں اور گاہکوں کو ایک ایک آنے میں فروخت کرسکیں۔ چائے کی پتی کی یہ پڑیاں ساشے کی ابتدائی شکل تھی ۔ ہمارے محلے میں پتی کا ایک ڈیلر رہتا تھا جس کا شاید کوئی نام بھی ہوگامگر اسے اور اس کے تمام گھروالوں کو محلے میں ’’پتی والے ‘‘ کے نام سے ہی پکارا جاتا تھا یہ پتی والے چائے کی پتی کی پیٹیاں (یعنی کارٹن) ہمارے گھر چھوڑ جاتے اور اس ’’ساشے سازی ‘‘کے نتیجے میں ہمیں معمولی رقم ادا کرتے جو اس زمانے میں ہمارے لیے بہت غیر معمولی ہوتی تھی۔ غرض یہ کہ میں نے اپنے بچپن سے لڑکپن تک اپنی ماں کو مسلسل محنت کرتے دیکھا۔ ماتھے پر کوئی بل لائے اور کسی کو تھکاوٹ کا احساس دلائے بغیر ۔
زندگی کے کڑے لمحات کو ہنس کر، محنت اور خود داری کے ساتھ کیسے گزاراجاتاہے یہ میں نے اپنی ماں سے ہی سیکھا۔کسی کا لحاظ کیے بغیر دو ٹوک بات کیسے کی جاتی ہے؟بھری محفل میں سچ کہنے کا حوصلہ کیسے پیدا کیا جاتاہے؟ تھوڑی روٹی کو ’’بُہتی‘‘کیسے سمجھا جاتاہے؟ روکھی سُوکھی کھاکر کس طرح گزارا کیاجاتاہے ؟ اور اپنے دکھوں کو لوگوں سے کس طرح چھپایا جاتاہے یہ سب میں نے اپنی ماں سے ہی سیکھا۔ اور میں ہی نہیں ہر شخص زندگی گزارنے کے بنیادی اصول اپنی ماں سے ہی سیکھتاہے۔ دیگر حالات و واقعات اور بیرونی عوامل بھی یقیناً اس کی کردار سازی اور شخصیت سازی کرتے ہونگے لیکن ان کا اثر ماں کی تربیت سے زیادہ نہیں ہوتا۔
دیکھئے حبیب الرحمن بٹالوی کی کتاب کیسے ہمیں ماضی کے جھروکوں میں لے گئی اور کس طرح یادوں کا ایک کبھی ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہ حبیب الرحمن بٹالوی سے زیادہ اس مقدس رشتے کا کمال ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب کا موضوع بنایا ہے۔ ماں بلاشبہ دنیا کی سب سے خوبصورت ہستی ہے اور اس لیے سب سے زیادہ خوبصورت ہستی ہے کہ وہ آپ کو سب سے زیادہ پیاردیتی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب رشتے کمزور ہورہے ہیں ، قدریں ٹوٹ رہی ہیں اور بہت سے لفظ اپنی معنویت کھوچکے ہیں، ماں واحد رشتہ ہے جو پوری شان وشوکت اور عظمت کے ساتھ برقرار ہے ۔ یہ واحد لفظ ہے جس کی معنویت تبدیل ہوئی نہ کبھی ہوگی۔ مامتا واحد جذبہ ہے جس کے سامنے محبت جیسا مضبوط جذبہ بھی ہیچ دکھائی دیتاہے۔
حبیب الرحمن بٹالوی نے بہت اچھاکیا کہ ’’ماں اور مامتا‘‘جیسے خوبصورت موضوع پر تحریر کیے جانے والے اہم مضامین ،خوبصورت نظموں،اقوال اور یادگار خطوط کو یکجا کردیا۔ ان میں سے بہت سے تحریریں ایسی ہیں جو اردو ادب میں لازوال اہمیت کی حامل ہیں اور بعض مصنفین تو اپنی انہی تحریروں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ہر قلم کار نے ماں اور مامتاکے حوالے سے اپنے جذبات کو منفرد انداز میں قلم بند کیا ہے۔ موضوع ایک ہے، جذبہ ایک ہے، رشتہ ایک، لیکن تجربات مختلف ہیں۔ ان میں سے بیشتر تحریریں روشنائی کی بجائے آنسوؤں سے تحریر کی گئی ہیں۔ یہ ماؤں کی یادوں سے جگمگاتی وہ کہکشاں ہے جس کی روشنی ہمارے ذہنوں کو منور کردیتی ہے ۔
اس کتاب میں شامل مضامین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں کہیں کوئی تصنع ہے نہ بناوٹ ۔ کہیں کوئی لفاظی دکھائی نہیں دیتی۔ بس لفظ ہیں جو قطار اندر قطار دل سے سیدھے کاغذ پر منتقل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مضامین قلم برداشتہ تحریر کیے گئے۔ یہ ان لوگوں کی تحریریں ہیں جو ’’مدرز ڈے‘‘ کے نام پر ماں کیلئے مصنوعی محبت کا اہتمام نہیں کرتے ۔ان میں سے بیشتر تحریریں اس زمانے کی ہیں جب ماؤں کو ان کی اولاد ’’اولڈ ہومز ‘‘میں نہیں چھوڑ تی تھی یہ اس زمانے کی باتیں ہیں جب ماں سے محبت کا اظہار کسی ایک دن تک محدود نہیں کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریریں ادب کے اُفق پر ہمیشہ جگمگاتی رہیں گی اور ان کے ساتھ ہی یہ کتاب بھی۔