اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV


ہفتہ، 4 جون، 2011

غزل

روز آندھی کو آزماتا ہوں
روز کوئی دیا جلاتا ہوں
ہر گھڑی ٹوٹنے کا خطرہ ہے
ہر گھڑی کچھ نہ کچھ بناتا ہوں
روز آتا ہوں کیوں یہاں آخر
روز آتا ہوں، روز جاتا ہوں
کچھ کسی سے میں پوچھتا کب ہوں
کچھ کسی کو کہاں بتاتا ہوں
کب کسی کو خیال رہتا ہے
کب میں آتا ہوں، کب میں جاتا ہوں
خود مجھے بھی خبر نہیں کیا کیا
خود ہی لکھتا ہوں خود مٹاتا ہوں
یاد رہتے ہیں کب سبق مجھ کو
یاد کرتا ہوں، بھول جاتا ہوں
پھول کھلتے نہیں ہیں باغوں میں
پھول کاغذ پہ اب کھلاتا ہوں
حال ابتر ہوا ہے دنیا کا
حال دل کا کہاں سناتا ہوں
نقش اوروں کے کیوں بگڑتے ہیں
نقش پانی پہ جب بناتا ہوں
اپنی گردن میں موچ آتی ہے
اپنی گردن کو جب جھکاتا ہوں
کیا عجب حال ہو گیا عالمؔ
کیا سنانا تھا، کیا سناتا ہوں
عالم خورشيد پٹنہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں