ادبستان اور تخلیقات کے مدیرِاعلیٰ رضاالحق صدیقی کا سفرنامہ، دیکھا تیرا امریکہ،،بک کارنر،شو روم،بالمقابل اقبال لائبریری،بک سٹریٹ جہلم پاکستان سے شائع ہو گیا ہے،جسے bookcornershow room@gmail.comپر میل کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے

اردو کے پہلے لائیو ویب ٹی وی ،،ادبستان،،کے فیس بک پیج کو لائیک کر کے ادب کے فروغ میں ہماری مدد کریں۔ادبستان گذشتہ پانچ سال سے نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔https://www.facebook.com/adbistan


ADBISTAN TV

ہفتہ، 31 دسمبر، 2011



پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں اردومنزل بیادِ قائداعظم محمد علی جناح مشاعرہ
یو اے ای میں ۲۰۱۱ کا آخری مشاعرہ اردو منزل کے زیراہتمام منعقد ہوا۔ممتاز شعرا نے شرکت کی۔پاکستان ایسوسی ایشن کے طاہر زیدی اورطارق رحمان نے خاص دلچسپی لی۔اہل قلم اور انتظامیہ نے مشاعرے کےمیزبان صبیحہ صبا اورسید صغیر جعفری کی ادبی خدمات کوسراہا

غزل

نیا سال۔ماجد صدیقی

جمعہ، 30 دسمبر، 2011

بدھ، 28 دسمبر، 2011

منگل، 27 دسمبر، 2011

سوموار، 26 دسمبر، 2011

اتوار، 25 دسمبر، 2011

منگل، 20 دسمبر، 2011

غزل ۔ نوشی گیلانی

سمندر کا سفر ہے رتجگا ہے
دِیا اک پانیوں پر جل رہا ہے
افق پر دُور اک نیلا ستارہ
مرے ھمراہ شب بھر جاگتا ہے
اڑانوں سے تھکا ہارا پرندہ
سنہرے پانیوں پہ آ گِرا ہے
مرے دِل کی ہتھیلی پر کسی کا
کوئی پیغام لکھا رہ گیا ہے
عجب ہے ہجر موسم کی کہانی
بدن کا رنگ پھیکا پڑ گیا ہے
ہوا نے آج کیسی بات کہہ دی
گلوں کا حوصلہ بکھرا ہوا ہے
مہکتی ہےمرے دِل کی حویلی
کوئی دیوار و در میں بولتا ہے


نوشی گیلانی

سوموار، 19 دسمبر، 2011

ہفتہ، 17 دسمبر، 2011

عرض کیتا اے۔۔۔۔۔۔۔۔ اک ھلکی پھلکی نظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بندہ بن جا

ماسٹر نے منڈے نوں آکھیا
بندہ بن جا
بنسکدا سی
بن گیا بندہ
مالک نے نوکر نوں آکھیا
بندہ بن جا
بن سکدا سی
بن گیا بندہ
جج نے یک ملزم نوں آکھیا
بندہ بن جا
بن سکدا سی
بن گیا بندہ
سوکھا کم سمجھ کے اک دن
لواں نے لیڈر نوں آکھیا
بندہ بن جا
اوس نے اگوں
ھس کے دسیا
بندہ، باندر توں بنیا سی
لیڈر توں نئیں۔۔۔۔۔۔
بابر جاوید

غزل ۔ کے اشرف

جمعرات، 15 دسمبر، 2011

رخصتی (افسانہ) -عامر حسینی

احمر اور راشدہ بہت تیزی سے گھر کا سامان سمیٹ رہے تھے-احمر چہرے کے تاثرات کے اعتبار سے قدرے مطمئن نظر آتا تھا-لکین راشدہ بہت اداس تھی-وہ صبیح سے سامان سمیٹ رہے تھے-یہ گھر ایک یونیورسٹی کے احاطہ میں قائم تھا-آج سے چھے سال پہلے جب احمر لندن سے یہاں آیا تھا اور اس نے شعبہ فلسفہ میں بطور پروفیسر جوائننگ دی تھی تو یہ گھر ان کو الاٹ ہوا تھا-احمر بہت جوش اور جذبہ کے ساتھ یہاں آیا تھا-سامان سمیٹے ہوئے احمر نے جب اپنی چھے سللقبل کی لکھی ڈائری کو سامان میں رکھنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ بے اختیار کچھ دیر کے لئے ماضی میں کھوگیا -
اس نے لندن کے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی جن کا جد ١٩٠٥ میں لندن میں تعلیم حاصل کرنے اتر پردیش کے شہر بلند شہر سے پڑھنے ایک بحری جہاز سے یہاں آگیا تھا-اور پھر لندن فضاء اس کو ایسی راس آئی کہ وہ بس یہیں کا ہوکر رہ گیا-یہیں شادی ہوئی اور یہیں پر ایک خاندان کی بنیاد پڑ گئی-احمر کو اپنے والد سے جہاں بہت سا تہذیبی ورثہ ملا تھا -وہیں پر ایک ورثہ اس کے پاس یہ تھا کہ وہ تقسیم کے بعد کے پاکستان سے بہت محبت بھی کرتا تھا-اس پاکستان کے لئے اس کے دل میں بہت درد تھا-اس نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی تھی-اور وہ لندن کے معروف کالج امپریل کالج میں استاد ہو گیا تھا-اس کالج میں وہ طلبا کو یونانی فلسفہ اور تاریخ فلسفہ پڑھاتا تھا-اس کی ذہانت اور وسعت علمی کی اس کالج کا ہر فرد گواہی دیتا تھا-اس کو مسلم دنیا کی علمی پسماندگی کا بہت قلق تھا-اور وہ مسلم دنیا میں فکری آزدی کے فقدان پر بہت زیادہ افسردہ بھی رہا کرتا تھا-وہ اس کے لئے کچھ کرنا بھی چاہتا تھا-
پھر ایسا ہوا کہ اس کے کالج نے جنوبی ایشیا کی یونیورسٹیوں کے شعبہ ہائے فلسفہ کی ایک کانگریس منعقد کی-اس کانگریس میں پاکستان کی ایک معروف یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے صدر ڈاکٹر منظور احمد بھی آئے-ان سے احمر کی ملاقات ہوئی-اور وہ ایک ہفتہ لندن رہے تو احمر سے مسلسل ان کی ملاقات ہوتی رہی-اس دوران ڈاکٹر منظور احمد سے پاکستان میں سماجی علوم کی زبوں حالی پر کافی بات چیت ہوئی-ڈاکٹر منظور احمد احمر کی اس بات سے متفق تھے کہ فکری آزادی کے بغیر مسلم سماج ترقی نہیں کر سکتے-اور اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہاں کی یونیورسٹیز میں اکیڈمک آزادی کا رستہ ہموار ہو-اور یہ کام فلسفہ کی تعلیم کو فروغ دئے بنا ممکن نہیں ہے-ڈاکٹر منظور کہتے تھے کہ ان کی یونیورسٹی کو فلسفی استادوں کی ضرورت ہے-جو مشکل سے میسر آتے ہیں-انھوں نے احمر کو کہا کہ اگر اس جیسے لوگ تھوڑی قربانی دے ڈالیں تو پاکستان میں فکری انقلاب کی رہ ہموار ہوسکتی ہے-ڈاکٹر منظور احمد سے ملاقات کے بعد احمر کے ذہن میں ایک کشمکش شروع ہو گئی-اس کو یاد آیا کہ اس کے بابا کس قدر زور دیتے تھے احمر پر کہ اس کو پاکستان جا کر تدریس کرنی چاہئے-اور وہ پاکستان میں ان دنوں آمریت ہونے کی وجہ سے نہیں جاسکا تھا-کیونکہ جب اس نے پاکستان کی ایک یونیورسٹی میں اپلائی کیا تھا تو وہ انٹرویو کے لئے جب پاکستان میں سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش ہوا تو اس سے انٹرویو لینے والے نے آیت الکرسی اور دعائے قنوت سنانے کے لئے کہا-اس کو بہت حیرانی ہوئی کہ فلسفہ کی تدریس سے اس کا کیا تعلق تھا-اس کو پتہ چلا کہ اس سے قبل کیمسٹری کے ایک ٹاپر کو اس لئے ریجکٹ کر دیا گیا تھا کہ اس کو رات کو سوتے وقت کی دعا یاد نہیں تھی-وہ واپس چلا آیا تھا-اس نے ڈاکٹر منظور کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا تو انھوں نے تسلی کرائی کہ اب وہ دور چلا گیا ہے-سو اس نے پاکستان جانے کا فیصلہ کر لیا -اور وہاں ایک یونیورسٹی کو جوائن کر لیا-
یہاں آکر اس نے پہلے تو یہ دیکھا کہ لوگ فلسفہ جیسے اہم مضمون کو کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں تھے-بلکہ یہاں تو سرے سے علم کی تحقیر و توہین کو لوگوں نے رواج بنا رکھا تھا-اس کو ایسے لگا کہ وہ مغرب میں اس دور کے اندر واپس آگیا ہے جب کلیسا نے علم اور حکمت کے خلاف ایک مہم چلائی ہوئی تھی-وہ جب بھی یونیورسٹی کی واحد مسجد میں جمعہ کی نماز کے لئے جاتا تو اس کو مولوی صاحب کا سارا خطبہ علم کی تحقیر پر مبنی معلوم ہوتا تھا-اور ایسے لگتا تھا کہ سماجی علوم کی ترقی مولوی صاحب کے نزدیک کوئی بہت بڑا جرم تھی-اس کو خیال آتا کہ جب وہ نویں صدی میں عرب میں فلسفہ اور حکمت کی کتابوں کو جلائے جانے کا تذکرہ پڑھا کرتا تھا تو اس وقت وہ سوچا کرتا تھا کہ آجووہ فعل کرنے والے موجود ہوتے تو خود کتنی شرمندگی محسوس کرتے -لکین یہاں آکر اسے محسوس ہوا کہ پاکستان سمیت دیگر کئی ملکوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو اب بھی اسی طرح کا فعل روا رکھنے کو مذہب اور سماج کی خدمت خیال کرتے تھے-اور جب بامیان میں طالبان نے بدھا کا مجسمہ گرا ڈالا تھا تو اس کو بہت حیرانی ہوئی تھی کہ اس کی یونیورسٹی کے کئی استاذہاس عمل کو ٹھیک کہ رہے تھے-یہ سب باتیں دیکھ کر اس کو اپنے فیصلے کے ٹھیک ہونے کا یقین آگیا تھا-اور وہ زیادہ تندہی سے فکری آزادی کے لئے کام کرنے لگا تھا-اس نے ناصرف اپنے شعبہ میں فکری آزادی کو پروان چڑھانے پر زور دینا شروع کیا بلکہ اس نے اس عمل کو پوری یونیورسٹی میں آگے لیکر جانے پر زور دیا-
اس کے اس عمل پر ایک مرتبہ ایک مذہبی تنظیم نے سخت رد عمل بھی دکھایا لکین اس نے کوئی پرواہ نہ کی-وہ یونیورسٹی کی ضابطہ کمیٹی کا رکن بھی تھا-احمر کو اپنی کوششوں کے دوران ہی یہ احساس ہوگیا کہ فکری آزادی کے عمل کو یونورستیز میں پھیلنے سے روکنے میں رجعت پسندوں سے زیادہ روکاوٹ وہ لوگ ہیں جو ترقی پسندی کا علم اٹھائے کھڑے ہیں-جو اپنی ہوس اور شہوت انگیزی کو ترقی پسندی کا نام دیتے ہیں-
احمر کو اس امر کا اندازہ اس وقت ہوا جب اس کے شعبہ کے ایک استاد نے پرچہ لیتے ہوئے تئیں لڑکیوں کے سوا سب لڑکیوں کو فیل کر ڈالا اور پھر جب ایک لڑکی نے اس کو آکر یہ شکایت کی کہ مذکورہ استاد کہتے ہیں کہ بی بی اگر پاس ہونا ہے توکچ لو اور کچھ دو پر عمل کرنا پڑے گا-اسی طرح شعبہ میں وزٹینگ اساتذہ کی بھرتی کے معاملے پر بھی ایسی ہی حرکت دیکھنے کو ملی-جس کا احمر نے کبھی لندن کے کسی تعلیمی ادارہ میں تصور بھی نہیں کیا تھا-اس نے جب اس پر اپنا رد عمل ظاہر کیا تیکسر لوگوں نے اس کو معمول کی بات قرار دیکر نظر انداز کرنے کی تجویز دی-لکینووہ ڈٹ گیا-اس وقت تک ڈاکٹر منظور بھی وی سی بن گئے تھے-انھوں نے بھی ان کا ساتھ دیا-تو اس روش پر قابو پالیا گیا-لکین اس نے دیکھا کہ تعلیمی ادارہ میں یہ تو ایک رجحان بنتا جا رہا ہے-اور ڈاکٹر منظور کے جانے کے بعد جب نئے وی سی آئے تو اس کو بہت زادہ تنہائی کا احساس ہونے لگا-اور ایک دن وہ ہوگیا جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا-
یہ سردیوں کے دن تھے-جب وہ اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کے شعبہ میں نئی بھرتی ہونے والی لیکچرر چخیتی ہوئی اس کے کمرے میں داخل ہوئیں-یہ مس ساجدہ تھیں-اس نے ان کو چھپ کرایا-وہ کہ رہی تھیں کہ ان کو بچا لیا جائے-ان کے پاس کوئی دوپٹہ یا چادر نہیں تھی-اس نے اپنا لانگ کوٹ مس ساجدہ کو پہنایا-ان کو تسلی ڈی-جب وہ بات کرنے کے قابل ہوئیں تو ان سے پوچھا کیا ہوا تھا؟تو وہ روتے ہوئے کہنے لگیں کہ آج ان کو سر صداقت نے اپنے روم میں بلایا تھا-اور ان کو کہا کہ یهداکومنٹ سوفٹ کاپی میں ان کے پی سی میں موجود ہیں-ان کو آکے پڑھئیے-جب وہ پڑھنے کے لئے قریب ہوئیں تو اچانک پیچھے سے ان کو صداقت نے پکڑ لیا اور ان کے گالوں کو چومنے کی کوشش کرنے لگے-اور اس دوران ان کی شال بھی اتار کر پھینک دی-انھوں نے خود کو بہت مشکل سے بچایا اور بھاگ کر اس کے کمرے میں اگائیں-احمر کو یہ سب سنکر بہت غصہ آیا-اس نے مس ساجدہ کو فوری طور پر اےکدرخوسٹ لکھنے کو کہا-درخواست لکھی گئی-وی اسی نے ضابطہ کمیٹی کو معاملے کی تحقیق کرنے کو کہا-ضابطہ کمیٹی میں کل پانچ رکن تھے-احمر کو اس وقت سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا-جب ضابطہ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا-اور اس میں ضابطہ کمیٹی کے صدر نے جو کہ ساجدہ کے باپ کی عمر کے ہوں گے-اور یونیورسٹی میں ترقی پسندی کے گرو گھنٹال خیال کے جاتے تھے-بہت ہی گھٹیا انداز اختیار کرتے ہوئے یهکھنے لگے
ساجدہ کے بارے میں ایک بات تو کہنی پڑتی ہے کہ وہ ہے تو سیکس
بم جس کو دیکھ کر بہت سے لوگوںکا ایمان ڈول جاتا ہے-اگر صداقت
اگر صداقت صاحب بہک گئے تو کوئی بڑی بات نہیں-
ایک اور رکن بولے کہ "سالی صداقت کے قابو میں آجاتی تو سارے کس بل نکل گئے ہوتے اور اب فلاں رجعت پسند گروپ کو ہم پر باتیں بنانے کی جرات نہ ہوتی-
ایک اور کا خیال تھا کہ یہ سب سازش ایک مذہبی تنظیم کی کارستانی ہے-
احمر یہ سب باتیں سن کر حیران ہورہا تھا-اور اس وقت حد ہو گئی جب مس ساجدہ کو ضابطہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا -اور کمیٹی کے وہ لوگ جو ان کے بارے میں توہین آمیز بیانات دی رہے تھے -ان کے ساتھ ایسے بیہودہ سوالات کرنےلگے کہ احمر کو اس پر سخت احتجاج کرنا پڑا -اور جب احمر نے صدر کمیٹی کے اصل چہرے کو بےنقاب کیا اور وی سی سے ان کو ضابطہ کمیٹی سے الگ کرنے کا کہا تو اگلے دنہمر کی حیرانگی کی انتہا نہ رہی جبوی سی نے ان کو ضابطہ کمیٹی سے الگ کر دیا-اور احمر پر جانبداری برتنے کا الزام لگایا-اور اسی دن اس گروپ کا بھی اجلاس ہوا جو خود کو یونیورسٹی میں مذہبی فاشزم کا مخالف کہا کرتا تھا-اس نے صداقت کو بیگناہ کہا اور یونیورسٹی میں کلاسوں کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی بھی دی-اور اسے یونیورسٹی میں طالبانیت کو پھیلانے والوں کی سازش بھی قرار دے ڈالا-
مس ساجدہ نے یہ صورت حال دیکھتے ہوئے نہ صرف درخواست کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا -بلکہ یونیورسٹی جاب بھی ترک کردی-احمر کے لئے یہ بہت تکلیف دہ صورت حال تھی-وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ علم کی درسگاہوں میں یہ کھیل کھیلے جاتے ہونگے-اور ہوس کے پجاریس طرح سے فکری آزادی کے نام پر دندناتے ہونگے-اس کے بہت سے خواب تھے جوچکنا چور ہوگئے تھے-اس نے یہ سبدیکہ کر واپس جانے کا فیصلہ کیا-اس نے امپریل کالج کی انتظمیہ کو خط لکھا کہ ووہواپس آنا چاہتا ہے -اس کو اگلے دن ہی جواب موصول ہوا-امپریل کالج کے پرنسپل اور شعبہ فلسفہ کے ڈین نے لکھا تھا کہ اس کا پرانا آفس اور کلاس روم اس کی آمد کے شدت سے منتظر ہیں-آج وہ یہاں سے جا رہا تھا-وہ انہی خیالوں میں گم تھا کہ اس کی بیوی راشدہ کی آواز آئی کہ سامان گاڑی میں رکھا جاچکا ہے-آپ بھی آجائیے-وہ بھاری قدموں کے ساتھ چل کر گاڑی میں بیٹھ گیا-اور گاڑی ائر پورٹ کی طرف روانہ ہو گئی -جہاز میں اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اسے یاد آتا رہا کہ کیسے کیسے خواب دیکھے تھے-اور کیا کچھ کرنے کا عزم کیا تھا اس نے-اس کو یاد آتا رہا کہ وہ تو پورے معاشرے میں فکری آزادی کی تحریک چلانے آیا تھا-اور چند پروفیسروں اور بابوؤں سے مار کھا گیا تھا-
بہت عرصۂ بعد لندن کی ایک کافی شاپ میں وہ بیروت سے آئے ایک پروفیسر کے ساتھ بیٹھا کاپی سپ کر رہا تھا-تو پروفیسر نے کہا کہ جنوبی لبنان کے اکثر ترقی پسند مرد اور خواتین حزب الله اور العمل کے کارکن بن گئے ہیں-اور انھوں نے ٹھیک کیا ہے-کیونکہ کھوکھلا اور بنجر لبرل ازم ان کو کچھ نہیں دی رہا تھا-احمر یہ سن کر چھپ رہا-اگر یہی فقرہ اس نے پاکستان جانے اور واپس آنے سے قبل سنا ہوتا تو وہ شائد مذکورہ پروفیسر سر لڑ پڑتا -اور بہت بحث کرتا-لکین اسے لگا کہ اس کی شکایت بھی بہت حد تک ٹھیک ہے-پھر اس پروفیسر نے احمر کو کہا کہ احمر ترقی پسندی اور انقلاب کیجنگ یونیورسٹیوں میں نہیں لڑی جاتی یہ تو باہر بیٹھ کر لڑی جاتی ہے-اوٹو بائر کو برداشت نہیں کیا تھا جرمنی والوںنے-نکال باہر کیا تھا-کارل مارکس کو بون میں نہیں نوکری ملی تھی-تیسری دنیا کے ملکوں میں کرئیر اور ریڈکل ازم ساتھ ساتھ نہ چل سکتے-زہین دماغ یا تو ہجرت کر کے مغربی ملکوں میں اپنی ذہانت سے سکوں پاتے ہیں یا پھر اپنے ملکوں میں غربت کے ساتھ لڑتے لڑتے جان دی دیتے ہیں-احمر یہ سب سن کر کافی شاپ سے اٹھا اور اس پروفیسر سے ہاتھ ملایا اور باہر کے دروازہ سے نکلتا چلا گیا ---------

بدھ، 14 دسمبر، 2011

ہفتہ، 3 دسمبر، 2011

ماں کی اشکوں بھری کہانی. رضی الدین رضی

حبیب الرحمن بٹالوی نے اپنی زیرِ تالیف کتاب’’ماں اور مامتا‘‘کا مسودہ میرے حوالے کیا تو مجھے سب سے پہلے اپنی والدہ یاد آئیں جن کی دعائیں آج بھی مجھے زندگی کی کڑی دھوپ سے بچاتی ہیں۔مجھے وہ لمحہ یاد آیا کہ جب جنوری 1968ء کی ایک دوپہر میری والدہ میرے والد کی میت کے قریب بیٹھی روتی تھیں اور میں ان کے دکھ سے بے نیاز ایک ساڑھے تین سالہ بچہ ان کے قریب کھیلتا تھا۔ میری یادوں میں میری ماں کا یہی اشکوں سے بنا ہوا پہلا نقش کچھ اس طرح محفوظ ہے کہ میں چاہوں بھی تو اسے کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ اور میں بھلا کیوں چاہوں گا کہ میں کبھی یہ نقش فراموش کروں کہ میری ما ں کے یہی آنسو تو تھے جنہوں نے مجھے زندگی کا سلیقہ دیا۔ یہی وہ اشکوں بھرا چہرہ تھا جس نے مجھے پاؤں لہو لہان کیے بغیر کانٹوں بھرے راستے سے گزرنے کا ہنر سکھایا۔ یہ دراصل میرے آنسو تھے جو میری نہیں میری ماں کی آنکھوں سے بہتے تھے ۔ اس نے میری زندگی کو روشن بنانے کیلئے میرے حصے کے اشکوں کو بھی اپنے خوبصورت چہرے پر سجائے رکھا ۔اور صرف اسی دن نہیں میری والدہ بعد کے دنوں میں بھی بارہا روتی رہیں۔ہر ماں کی طرح اُن کی بھی کوشش ہوتی تھی کہ بچے ان کے آنسو نہ دیکھ سکیں ۔ وہ ہم سے چھپ کے روتی تھیں یا جب ہم سو جاتے تو پھر روتی تھیں۔ایسے میں اگر کبھی ہم میں سے کوئی اچانک ان کے سامنے آجاتا یا سوتے سے جاگ اٹھتاتو وہ اپنے آنسو صاف کرکے اس طرح مسکراتے ہوئے ہماری جانب متوجہ ہوتیں کہ جیسے وہ سدا سے مسکرارہی ہوں۔
میں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنی ماں کو ہمیشہ مشقت کرتے دیکھا۔ وہ دن میں محلے والوں کے کپڑے سیتیں، شام کو ان کے بچوں کو پڑھاتیں اور رات کو کبھی سویٹر بنتیں اور کبھی کڑھائی کا کام کرتیں۔ انہوں نے باپ بن کر ہم تین بہن بھائیوں کو کچھ اس طرح سے پالا کہ ہمیں کسی محرومی کا احساس ہی نہ ہونے دیا ۔ صدر بازارسے ملحقہ بابو محلہ میں واقع تین منزلہ عمارت کا ایک کمرہ ہماری ماں نے ہمارے لیے جنت بنائے رکھا۔ وہ کمرہ ٹیوشن سنٹر بھی تھا۔ وہاں سلائی مشین بھی چلتی تھی۔ وہیں ایک کونے میں بیٹھ کر ہم کھانا کھاتے اور اسی کمرے میں چادر بچھا کر چائے کی پتی کی پُڑیاں بھرتے تھے اور پھروہ سلائی مشین سے ان پڑیوں کو سی دیتی تھیں تاکہ دکاندارانہیں ہاروں کی طرح اپنی دکان میں لٹکاسکیں اور گاہکوں کو ایک ایک آنے میں فروخت کرسکیں۔ چائے کی پتی کی یہ پڑیاں ساشے کی ابتدائی شکل تھی ۔ ہمارے محلے میں پتی کا ایک ڈیلر رہتا تھا جس کا شاید کوئی نام بھی ہوگامگر اسے اور اس کے تمام گھروالوں کو محلے میں ’’پتی والے ‘‘ کے نام سے ہی پکارا جاتا تھا یہ پتی والے چائے کی پتی کی پیٹیاں (یعنی کارٹن) ہمارے گھر چھوڑ جاتے اور اس ’’ساشے سازی ‘‘کے نتیجے میں ہمیں معمولی رقم ادا کرتے جو اس زمانے میں ہمارے لیے بہت غیر معمولی ہوتی تھی۔ غرض یہ کہ میں نے اپنے بچپن سے لڑکپن تک اپنی ماں کو مسلسل محنت کرتے دیکھا۔ ماتھے پر کوئی بل لائے اور کسی کو تھکاوٹ کا احساس دلائے بغیر ۔
زندگی کے کڑے لمحات کو ہنس کر، محنت اور خود داری کے ساتھ کیسے گزاراجاتاہے یہ میں نے اپنی ماں سے ہی سیکھا۔کسی کا لحاظ کیے بغیر دو ٹوک بات کیسے کی جاتی ہے؟بھری محفل میں سچ کہنے کا حوصلہ کیسے پیدا کیا جاتاہے؟ تھوڑی روٹی کو ’’بُہتی‘‘کیسے سمجھا جاتاہے؟ روکھی سُوکھی کھاکر کس طرح گزارا کیاجاتاہے ؟ اور اپنے دکھوں کو لوگوں سے کس طرح چھپایا جاتاہے یہ سب میں نے اپنی ماں سے ہی سیکھا۔ اور میں ہی نہیں ہر شخص زندگی گزارنے کے بنیادی اصول اپنی ماں سے ہی سیکھتاہے۔ دیگر حالات و واقعات اور بیرونی عوامل بھی یقیناً اس کی کردار سازی اور شخصیت سازی کرتے ہونگے لیکن ان کا اثر ماں کی تربیت سے زیادہ نہیں ہوتا۔
دیکھئے حبیب الرحمن بٹالوی کی کتاب کیسے ہمیں ماضی کے جھروکوں میں لے گئی اور کس طرح یادوں کا ایک کبھی ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ یہ حبیب الرحمن بٹالوی سے زیادہ اس مقدس رشتے کا کمال ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب کا موضوع بنایا ہے۔ ماں بلاشبہ دنیا کی سب سے خوبصورت ہستی ہے اور اس لیے سب سے زیادہ خوبصورت ہستی ہے کہ وہ آپ کو سب سے زیادہ پیاردیتی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب رشتے کمزور ہورہے ہیں ، قدریں ٹوٹ رہی ہیں اور بہت سے لفظ اپنی معنویت کھوچکے ہیں، ماں واحد رشتہ ہے جو پوری شان وشوکت اور عظمت کے ساتھ برقرار ہے ۔ یہ واحد لفظ ہے جس کی معنویت تبدیل ہوئی نہ کبھی ہوگی۔ مامتا واحد جذبہ ہے جس کے سامنے محبت جیسا مضبوط جذبہ بھی ہیچ دکھائی دیتاہے۔
حبیب الرحمن بٹالوی نے بہت اچھاکیا کہ ’’ماں اور مامتا‘‘جیسے خوبصورت موضوع پر تحریر کیے جانے والے اہم مضامین ،خوبصورت نظموں،اقوال اور یادگار خطوط کو یکجا کردیا۔ ان میں سے بہت سے تحریریں ایسی ہیں جو اردو ادب میں لازوال اہمیت کی حامل ہیں اور بعض مصنفین تو اپنی انہی تحریروں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ہر قلم کار نے ماں اور مامتاکے حوالے سے اپنے جذبات کو منفرد انداز میں قلم بند کیا ہے۔ موضوع ایک ہے، جذبہ ایک ہے، رشتہ ایک، لیکن تجربات مختلف ہیں۔ ان میں سے بیشتر تحریریں روشنائی کی بجائے آنسوؤں سے تحریر کی گئی ہیں۔ یہ ماؤں کی یادوں سے جگمگاتی وہ کہکشاں ہے جس کی روشنی ہمارے ذہنوں کو منور کردیتی ہے ۔
اس کتاب میں شامل مضامین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں کہیں کوئی تصنع ہے نہ بناوٹ ۔ کہیں کوئی لفاظی دکھائی نہیں دیتی۔ بس لفظ ہیں جو قطار اندر قطار دل سے سیدھے کاغذ پر منتقل ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مضامین قلم برداشتہ تحریر کیے گئے۔ یہ ان لوگوں کی تحریریں ہیں جو ’’مدرز ڈے‘‘ کے نام پر ماں کیلئے مصنوعی محبت کا اہتمام نہیں کرتے ۔ان میں سے بیشتر تحریریں اس زمانے کی ہیں جب ماؤں کو ان کی اولاد ’’اولڈ ہومز ‘‘میں نہیں چھوڑ تی تھی یہ اس زمانے کی باتیں ہیں جب ماں سے محبت کا اظہار کسی ایک دن تک محدود نہیں کیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریریں ادب کے اُفق پر ہمیشہ جگمگاتی رہیں گی اور ان کے ساتھ ہی یہ کتاب بھی۔

ہفتہ، 26 نومبر، 2011

جمعرات، 24 نومبر، 2011

پارہ دوز (تین پارچے :ایک کہانی) محمد حمید شاہد

پارہ دوز

(تین پارچے :ایک کہانی) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

پہلا پارچہ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اُس روز تو میری آنکھیں باہر کو اُبل رہی تھیں۔ بے خوابی کا عارضہ میرے لیے نیا نہ تھا تاہم پہلے میں مُسکّن ادویات سے اس پر قابو پا لیا کرتا تھا، یوں نہیں ہوتا تھا کہ ادل بدل کر دوائیں لینے سے بھی افاقہ نہ ہو۔مگر اس بار ایسا نہ ہوا تھا۔ دونوں کنپٹیوں کے نواح سے درد برآمد ہو کر پورے بدن پر شب خُون مارتا تھا اور میرے عصبی ریشے بری طرح ٹوٹنے لگتے تھے۔جب سارے ٹسٹ ہو چکے اور کہیں بھی کوئی خرابی نہ نکلی تو مجھے تشویش کے دورے پڑنے لگے میں اس ٹوٹ پھوٹ سے نڈھال تھا مگر یہ درد کیوں تھا، اس کی تشخیص ہی نہ ہو پا رہی تھی۔ اور یہی بات مجھے دہلائے دیتی تھی۔ بے پناہ تشویش کے ایسے ہی دورانیے میں میرا دھیان آنکھوں کی دُکھن کی جانب ہو گیا۔ بل کہ مجھے یوں کہنا چاہیے کہ جب سارا درد آنکھوں میں برچھی کی طرح کھُب گیا تو دھیان کے وہاں ارتکاز کے علاوہ میرے پاس کوئی اور صورت تھی ہی نہیں۔ بدن کا درد تو کسی کو نظر نہ آیا تھا مگر میری ان آنکھوں کو تو دیکھا جا سکتا تھا جو انگاروں کی طرح دہک رہیں تھیں۔ نافی کا خیال تھا :اس میں تشویش کا کوئی پہلو نہیں تھا۔ یہ بات اس نے میری آنکھوں میں دیکھے بغیر ہی کہہ دی تھی۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی مصنوعی پلکیں چپکا رہی تھی۔ مجھے اس کے روّیے پر طیش آ رہا تھا تاہم میں نہیں جانتا تھا کہ میں اس پر اپنے غصے کا اظہار کیسے کروں۔ ہم دونوں کے درمیان رشتہ کچھ ایسی نہج پر پہنچ چکا تھا کہ ہم ایک دوسرے پر غصہ کرنا لگ بھگ ہی بھول گئے تھے۔ میں نے ہمت جمع کی اور اس کے سامنے جا کھڑا ہوا، کچھ یوں کہ اس کی نظر آئینے کی بہ جائے میری سرخ بیرا بنی، ابلتی ہوئی آنکھوں پر پڑ جائے۔ نافی نے کندھے سکیڑ کر پہلو بدلتے ہوے اپنی داہنی کہنی کو قدرے باہر کو نکلی ہوئی میری توند کے بائیں جانب ٹکا دیا، یوں کہ آئینہ دیکھتی اس کی نیلی آنکھیں میری گردن کے ایک طرف سے بغیر کسی رکاوٹ کے دیکھتی رہیں۔ میں نے بائیں کو مزید کھسک کر درمیان میں حائل ہونا چاہا تو وہ میرے ارادے کو بھانپ گئی اور ’’اوں ہونہہ‘‘ کہتے ہوے میرے پیٹ پر ٹکی کہنی پر دائیں جانب دباؤ بڑھا دیا۔ میں مجبوراً ایک طرف کھسک گیا تاہم ہمت نہ ہاری اور لگ بھگ گھگھیا کر کہا ’’نافی دیکھو نا ڈارلنگ میری آنکھیں درد سے پھٹ رہیں ہیں۔‘‘ مجھے اپنی آواز اجنبی لگی تھی، اتنی کہ میں اَدبَدا کر آئینے میں خود کو دیکھنے لگا تھا۔ ایک ثانیے کے لیے، جی محض ایک ثانئے کے لیے۔ مجھے یوں لگا تھا جیسے میری آنکھیں سرخ نہیں تھیں، مگر دوسرے ہی لمحے سارے آئینے میں سرخ لوتھڑا بنی آنکھیں اُگ آئی تھیں۔ میں نے ادھر سے دھیان ہٹا کر ساری توجہ نافی پر مرتکز کر دی کہ شاید یوں وہ آئینے کے واسطے سے میری آنکھوں پر نظر ڈال لے۔ میں ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا مگر وہ اپنے آپ میں بری طرح مگن تھی کچھ اس محویت سے کہ اس سلسلے کو روک کر میری طرف دیکھنے کی گنجائش نکلتی ہی نہ تھی۔ تاہم ہمارے حسی نظام کی تربیت اس نہج پر ہو چکی تھی کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھے بغیر سہولت سے ضروری فیصلے کر سکتے تھے۔۔۔ اور اس نے فیصلہ کیا تھا کہ مجھے وہاں کھڑا رہنے کی بہ جائے اپنے لیے کوئی اور مصروفیت ڈھونڈنی چاہیے : ’’اوہ موظی ڈیئر، میں نے دیکھ لی ہیں نا تمہاری آنکھیں‘‘۔ وہ جھوٹ بول رہی تھی یا ممکن ہے اس نے میرا چہرہ دیکھے بغیر ہی میری آنکھیں دیکھ لی تھیں تاہم میں دیکھ رہا تھا ایک لمحے کے لیے بھی اس کی نگاہ اس کے اپنے چہرے سے جدا نہیں ہوئی تھی۔ مجھے اس کے جملے پر ایک بار پھر غور کرنا پڑا، اور جب میں اسے خوب جانچ چکا تو اس کا مطلب بھی سمجھ آ گیا تھا۔ وہ ہمیشہ سے نچلے ہونٹ کو قدرے ڈھلا چھوڑ کر مجھے معظم کی بہ جائے موظی کہتی چلی آ رہی تھی، حتی کہ ایسے کہنا اس کی عادت ہو گئی۔ تاہم ایک زمانہ تھا کہ موظی کہتے ہوے اس کا نچلا ہونٹ رسیلا ہو جایا کرتا تھا۔ جب پہلی بار اس نے مجھے موظی کہا تھا تو میں بہت ہنسا تھا۔ میں نے سیلاب جیسی ہنسی تھمتے ہی اس کے رسیلے ہونٹوں کے صدقے اس کا موظی کہنا قبول کر لیا تھا۔ اور جب اس نے پوچھا تھا کہ میں اسے نفیسہ کی بہ جائے محبت سے کیا کہا کروں گا تو مجھے کچھ نہ سوجھا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کے نام کو بدلنے کی مجھے طلب ہی نہ ہو رہی تھی۔ میں اسے نفیسہ کہتا تھا تو اس کا پورا وجود انتہائی نفاست ہے میرے سامنے ایستادہ ہو جاتا تھا لہذا میں نے کہہ دیا کہ محبت مجھے نفیسہ کہنے سے باز نہیں رکھے گی۔ مگر اس نے ضد کر کے اپنے لیے نافی سے پکارا جانا تجویز کر لیا تھا۔ نافی جہاں تھی وہاں اب میرا ٹکنا مشکل ہو رہا تھا مگر یوں تھا کہ میں اس کی توجہ کے لیے مرے جاتا تھا۔ اس طرح کا مرنا تو میں ایک مُدّت سے بھول چکا تھا۔۔۔ مگر آہ میری سرخ بوٹی کی سی آنکھیں۔۔۔ میں وہاں سے کیسے ٹل سکتا تھا کہ ابھی تک اس نے ان میں جھانکا ہی نہیں تھا۔ جب وہ آئنے کے اوپر جھک کر نفاست سے بنی اپنی بھنووں کو دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے باری باری سہلا کر جائزہ لے رہی تھی تو میری دُکھتی ہوئی آنکھیں آئینے ہی سے اس کے چکنے شانے سے پھسلتی ڈیپ وی میں گر گئی تھیں۔ روئی کے گالے جیسی نرمی ان کے لیے مرہم ہو گئی تھی۔ میں اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے وہاں، اُس گداز میں بھول سکتا تھا مگر عین اسی لمحے نرم اور ملائم جلد کٹتی چلی گئی، تیز نشتر کی نوک سے، بالکل ایک سیدھ میں۔ اور جب وہ پوری طرح کٹ گئی تو لہو شراٹے بھر کر بہنے لگا، اتنا کہ میری آنکھیں اس لہو میں ڈوب گئی تھیں ۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ دوسرا پارچہ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ میرے لیے وہ پہلا آپریشن نہیں تھا۔ اس عورت کی باری آنے سے پہلے اس جیسے لگ بھگ سات سو بائیس مریضوں کو چھ سال میں آپریٹ کر چکا تھا۔ ایک ایک پیشنٹ کا ریکارڈ میرے پاس تھا۔ اگر میں اس عرصے میں کام یاب نہ ہونے والے آپریشنز کی شرح نکالنا چا ہوں تو وہ محض ایک اشاریہ ایک صفر آٹھ فی صد بنتی ہے۔ اس عرصے میں آپریشن کے تختے پر یا پوسٹ آپریشن ٹریٹمنٹ کے دوران مرنے والوں میں سے پانچ کی عمر اٹھاون سے اوپر تھی دو لڑکے نو اور گیارہ برس کے تھے جبکہ ایک عورت عین اس عمر میں آپریٹ ہوئی تھی جس میں اب نافی تھی۔ جس کے لہو سے میری آنکھیں بھیگی تھیں وہ مرنے والی یہ عورت نہیں تھی۔ نہ یہ نہ باقی مرنے والی عورتیں۔وہ عورت تو زندگی کے ایسے دورانئے میں آپریشن تھیٹر میں لائی گئی تھی جو طویل
محمد حمید شاہد
تر ہو گیا تھا، اتنا کہ کاٹتے رہنے سے بھی کٹنے میں نہ آتا تھا۔ سات سو بائیس مریضوں کے آپریشن کے چھ برس کتنی جلدی بیت گئے تھے۔ میرا اپنا دل اُس سارے عرصے میں عین پسلیوں کے بیچ نشتر چلاتے ہوے ایک بار بھی نہیں کانپا تھا۔ جنہیں زندگی ملنا تھی، انہیں میرے نشتر کی دھار سے ملی اور جن کی سانسوں کا کوٹہ ختم ہو گیا تھا انہیں میرا خلوص اور انتھک محنت بھی زندگی نہ دلا سکا تھا۔ تاہم جب میری مہارت اور قابلیت کی شہرت دور دور تک پھیل گئی تو ڈاکٹر میر باز سے ملاقات ہو گئی۔ ڈاکٹر میر باز سے میں پہلے بھی مل چکا تھا غالباً پہلی بار ان دنوں جب وہ وفاقی علاقے میں اپنا ہسپتال بنانے کا منصوبہ بنا رہا تھا ان دنوں وہ اس سرکاری ہسپتال کے سربراہ سے ملنے آیا تھا جس میں، میں پریکٹس کرتا تھا۔ اسے بہت سے امور میں میرے باس کی مدد چاہیے تھی، یہ مدد اسے ملتی رہی ایک شاندار ہسپتال اس کے دیکھتے ہی دیکھتے بن گیا۔ جتنے سرکاری ادارے اس کے پینل پر آ سکتے تھے وہ لائے گئے اور اس میں بھی میرے باس کی مدد شامل تھی۔تاہم میں اسے دیکھتا تھا تو مجھے ابکائی آنے لگتی اور جب اس کے ہسپتال کے پاس سے گزرنے کا موقع نکلتا تو مرعوبیت مجھ پر چڑھ دوڑتی تھی۔ شاید یہی وہ اسباب تھے کہ میں اس کے قریب نہ ہو پا رہا تھا لہذا اپنے کام میں مگن ہو گیا حتی کہ وہ دن آ گیا کہ جس کی شام کو ہمیں کرائے کا مکان بدلنا تھا اور نفیسہ نے، جو ابھی نافی نہیں بنی تھی، ہاتھ ملتے ہوے کہا تھا کہ ہم کب تک کرائے کے مکان بدلتے رہے گے۔ یہ بات نفیسہ نے عین اس وقت کہی تھی جب اس نے سامان گھسیٹتے ہوے میری پشت سے اپنی پشت کو ٹکرا لیا تھا۔ اس ٹکرانے میں کچھ ایسا لطف تھا کہ وہ یونہی سی ایک بات سمجھ کر اپنے اس جملے کو بھول گئی تھی جس کی تلخی میرے اندر اتر گئی تھی۔ جب وہ مزے سے اور اپنے آپ سے بے پروا ہو کر ہنس رہی تھی تو اس کی آواز کے ہلکوروں میں ایک میٹھا سا بھید چھلکنے لگا تھا۔ اس بھید میں اس کا بدن ڈوب اُبھر رہا تھا۔ میں نے اُسے نظر بھر کر دیکھا تھا اور ساری تلخی بھول کران ہلکوروں میں خود بھی بہہ گیا تھا ۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری پارچہـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاسے سننا، اس کی آواز کے ہلکوروں میں بہہ جانا یا پھر اُس کے بدن کو یوں دیکھنا کہ لطف اور لذت ساری دُکھن سمیٹ لے ایک مُدّت کے بعد ہوا تھا۔ اتنی مُدّت کے بعد کہ اب یہ اندازہ کرنے کے لیے، کہ آخری بار ایسا کب ہوا تھا، مجھے ذہن پر بہت زور دینا پڑے گا۔ ذہن پر غیر معمولی زود دیئے بغیر یہ بات میں یقین سے کہہ سکتا تھا کہ یہ واقعہ سرکاری ہسپتال سے الگ ہونے اور ڈاکٹر میر باز کے نئے ہسپتال میں میرے پہلے آپریشن سے بھی پہلے کا تھا۔ جی، اس پہلے آپریشن کا جس نے ابھی ابھی میری آنکھیں خُون میں نہلا دی تھی۔ بعد کے برسوں کی تعداد اور یادیں میں نے قصداً سینت سینت کر نہیں رکھی تھیں کہ انہیں سوچوں تو مجھے خود پر ویسی ہی اُبکائی آنے لگتی جیسی کبھی ڈاکٹر میر باز خان کو دیکھ کر آتی تھی۔ تاہم اس وقت میرا مسئلہ ابکائی نہیں آنکھیں تھیں جو درد سے پھٹی جا رہی تھیں۔ ’’ دیکھو موظی ڈیئر بہتر یہ ہے کہ کچھ دیر کے لیے سو جاؤ، خود ہی آرام آ جائے گا‘‘ اس نے اس بار بھی میری آنکھوں میں دیکھے بغیر یہ کہا تھا۔ جملے کی ساخت میں بہ ظاہر محبت اور تشویش تھی مگر آواز جس مخرج سے برامد ہوئی تھی اس نے اسے سپاٹ اور سارے ممکنہ جذبوں سے عاری بنا دیا تھا۔ اس طرح بولنا اور اسی طرح کی آوازوں کو سننا اور ان کے مطابق اپنے آپ کو حرکت دینا اب ہماری زندگی کا معمول تھا۔ لہذا میرے لیے وہاں کھڑے رہنا ممکن نہیں رہا تھا۔ میں گذشتہ طویل عرصے سے مختلف دوائیں پھانک رہا تھا اور کچھ ہی دیر پہلے اپنی ابلتی آنکھوں میں قطرے بھی ڈال لیے تھے۔مگر وہ درد جس نے میری آنکھوں کو گروی رکھا ہوا تھا۔ ٹلتا ہی نہ تھا۔اور نافی کا کہنا تھا کہ مجھے آرام کرنا چاہیے۔ بیڈ پر بیٹھتے ہی میں نے زور سے خود کو پیچھے گرا دیا۔ خود کو یوں گرانے سے میں ایسی آواز پیدا کرنا چاہتا تھا جو نافی کو متوجہ کر لے مگر فومی گدے کی نرماہٹ پر میرا بدن جھول کر رہ گیا۔ اپنی اس کوشش کے بعد اس کو دیکھا۔ وہ پہلے کی طرح آئینے میں مگن تھی تاہم میں نے محسوس کیا تھا کہ جب تک میں وہاں کھڑا رہا، وہ بھی کھڑی رہی تھی، یوں جیسے آئینہ اس کے وجود سے کھڑا تھا۔ مگر اب وہ بیٹھ چکی تھی اور آئینہ اسے جھُک جھُک کر جھانک رہا تھا۔ دودھ جیسی گوری گردن تک سلیقے سے ترشے ہوے بالوں کو چھونے کے لیے جب نافی دونوں کہنیاں باہر کو اُٹھا کر ہاتھ پیچھے کو لے آئی تو ایک بار پھر میں اپنی اُبلتی آنکھوں کو بھول گیا۔ اس نے ہتھیلیوں کا رخ اپنے گالوں کی طرف کیا دونوں ہاتھوں کی چھوٹی انگلیوں کو اوپر اٹھایا اور پھر انہیں لچکا کر بالوں کے نیچے گردن پر رگڑتے ہوے باہم ملا لیا۔ اس کے سارے بال ان ننھّی مُنّی انگلیوں کے اوپر جمع ہوے گئے تھے۔ پھر اس نے یکدم ہاتھوں کو کچھ یوں جنبش دی کہ بالوں کے نیچے سے نکل آنے والی انگلیوں سمیت دونوں ہاتھوں کی آخری تین تین انگلیاں تتلی کے پروں کی طرح ہوا میں لہرا گئیں، کچھ اس ادا سے کہ باقی کی انگلیاں پہلے سے سمٹے سمٹائے بالوں کو دھیرے دھیرے اپنی پوروں سے بوسے دینے لگی تھیں۔ عین اس لمحے میں نے محسوس کیا تھا کہ وہ پہلے کے مقابلے میں بلکی ہو گئی تھی۔ قمیض کی سَلوٹیں اُس کے بدن کے گداز میں دھنس رہی تھیں۔ گلا آگے پیچھے دونوں طرف سے ڈیپ تھا جو اندر کی ساری نرمی باہر پھینک رہا تھا۔ بازو اوپر اٹھانے سے اس کے کولہے دائیں بائیں اور پیچھے کو کچھ اور پھول گئے تھے۔ اتنے کہ میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی تھی کہ میں اٹھ کر انہیں پیار سے تھپتھپا دوں۔ میں نے اٹھنا چاہا بھی مگر آنکھوں کی شدید چبھن نے مجھے اٹھنے ہی نہ دیا اور وہ خواہش قضا ہو گئی۔اتنی شدید اور اتنی خالص خواہش کے اس قدر مختصر دورانئے پر مجھے بہت دکھ ہوا۔ تاہم عین اسی لمحے پر حیران بھی تھا۔ اور حیرت اس بات پر تھی کہ یہ خواہش میرے اندر ابھی تک موجود تھی۔اب میں اسے دیکھتے رہنا چاہتا تھا مگر اسے یوں دیکھنا میرے لیے ممکن نہ رہا تھا کہ میرا سر گھومنے لگا۔اور میں قبر جیسے اندھیرے میں ڈوبتا چلا گیا۔ شان دار روشن قبر کے گہرے اندھیرے میں۔ جو نہی میں قبر کے پیندے سے جا لگا ٹیلی فون کی گھنٹی چیخنے لگی۔ میں گن نہیں پایا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی کتنی بار بجی تھی تاہم آخری بار ابھی اس کی گونج پوری طرح معدوم نہیں ہوئی تھی کہ نافی کے ہیلو کہنے کی آواز سنائی دی۔ دوسری طرف جو بھی تھا اسے نافی نے یہ نہ بتایا تھا کہ میں اس کے کہنے پر آرام کر رہا تھا۔ اُس نے اگلے آدھے گھنٹے کے اندر میرے پہنچنے کا خود ہی تخمینہ بھی لگا لیا تھا۔ بات مکمل کرتے ہی اس نے مجھے جھنجھوڑ ہی ڈالا تھا اتنی زور سے کہ اتنا جھنجھوڑنے پر مُردے بھی زندہ ہو سکتے تھے۔ وہ آپریشن ڈے تھا اور مجھے اُوپر تلے تین آپریشن کرنا تھے۔ جب میں تیار ہو کر اپنے خوب صورت گھر کے پورچ سے اپنی نئی گاڑی نکال رہا تھا تو نہیں جانتا تھا کہ ایک مرا ہوا شخص زندگی کے بخیے کیسے لگا پائے گا۔ ٍ

سوموار، 21 نومبر، 2011

ایک چہرہ


میرے ماتھے کی چمک میں ہے
کسی اور زمانے کی جھلک
میرے ہونٹوں پہ لرزتے ہیں
کسی اور ہی دل کے نغمے
میرے کاندھے پہ چہکتے ہیں
کسی اور زمیں کے پنچھی.....
دور افتادہ کسی بستی میں
بادلوں میں کہیں
برفیلی ہواؤں سے لرزتے ہوے دروازوں میں
یاد کرتا ہے مجھے
ایک چہرہ کوئی میرے جیسا
یا پھر آنکھیں ہیں کوئی ، گہرے سمندر جیسی
جن میں بہتا چلا جاتا ہے ، وہ چہرہ
کسی ٹوٹے ہوے پتے کی طرح
یا وہ چہرہ ہے کہیں مٹی میں
پاس آتا ہے ، بلاتا ہے مجھے
مجھ سے ملتا ہے نہ ملنے کی طرح
کسی آئندہ زمانے کی تھکن کی مانند
عہد رفتہ کی جھلک کی صورت
جانے اس چہرے کی پہچان ہے کیا
جانے اس کا یا مرا نام ہے کیا ؟؟
ابرار احمد

جمعہ، 11 نومبر، 2011

عا لم میر ے د ل کا ،جاوید صبا کا مجموعہ۔ سید انورجاویدہاشمی


معاشرتی اقدار،تہذیبی ورثے اور تاریخی روایات کے ساتھ ہی آفاقی حقائق کے امتزاج سےہم شخصی اور معاشرے کے مجموعے مزاج وکردار کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
معاشرے میں جو عمومی رویہفرد کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے اسے مشاہدے اور تجربے کی آمیزش کے ساتھ اظہار و بیان کی قوت تخلیقکار کو فراہم ہوجایا کرتی ہے۔
انسان کے ذہن میں بسا اوقات اوہام اور ان دیکھی دنیائوں کے تصورات بھی حقیقت کے روپ میں بار بار کی تکرار سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔۔۔۔۔اے کاش! ایسا ہوجاتا یا اے کاش کہ یہ ہوجائے کا ورد زبان کرتی ہے۔
فن کار اپنے گرد و پیش سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ صورتِ حال کی اصلاح کافریضہ اگر ادا نہیں کرپاتا تو کم از کم امکانی صورت تو ظاہر کرہی دیتا ہے۔
فطرت سے اکتساب کے ساتھ ہی چیزوں اور حالات و واقعات کو منطقی نقطہ ء نظر سے دیکھنے والے خصوصی حس کے مالک ہوتےہیں۔
ہمارے معاشرے میں خودآزاریوں ،مردم آزاریوں،اذیت کوشی اور اذیت پسندی کی لہر گزشتہ کئی برسوںدہشت گردوں کی لذت کوشی اور تسکین ِ نفس کا سامان بہم پہنچاتی رہی ہے۔
ایسے عالم میں اگر صرف سماجی،معاشرتی،مذہبی روایات و اقدار کی زبانی کلامی باتیں کرکے اصل معاملات کو نہ سمجھنا اور انکے رواج کے لیے کوشاں نہ رہنا ہر فرد کا مشغلہ بن گیا ہے۔ ہمیں دوسروں سے شکایت کا حق ہے مگر
خود اپنے کرداروافعال کا جائزہ لینےکی ہم میں ہمت باقی نظرنہیں آتی۔
گستاخی معاف یہ تلخ وترش گفتگوشاعری کے ضمن میں جچتی نہیں مگر ایسے حالات میں دل کا جو عالم ہوتا ہے وہ بیان کرنا ہی پڑے گا۔
جا و ید صبا سے ہماری شناسائی عزم بہزاد کے توسط سے ہے۔لیاقت علی عاصم،شاہد حمید،شاداب احسانی،خالد معین،اخترسعیدی،خواجہ رضی حیدر،ابرارعابد اور کئی دیگر شعرائ عصر سےہمیں عزم بہزاد نے متعارف کروایا ۔،
جاوید صبا سے رسمی سی شناسائی ہونے کے باعث ان کی کتاب بھی براہ راست نہیں ملی۔ان کا وعدہ ہے کہ تفصیلی ملاقات کے موقعے پر وہ ہمیں "عا لم میر ے دل کا"ضرور دیں گے۔
جاوید صبا کے نظریات شاعری کے بارے میں کیا ہیں، ان کا اندازہ "عالم میرے دل کا "کے فلیپپر فراق گورکھپوری کی 1942سن انیس سو بیالیس کی ایک رائے سے لگایا جاسکتا ہے جسے نقطہ نظر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
سرِ دست ہم جاوید صبا کی شاعری کو دیکھنے سمجھنے کی کوشش کریں کہ دل کا معاملہ کس طرح کُھل سکتا ہے:
شکر صد شکر کہ ا س شہر ِ غزل میں ہم کو
کو ئی لا یا نہیں ہم آ پ ہی چل کر آ ئے
یہ احساس ہوجانا اور پھر اس کا اظہار کرنا عرفان و آگہی کی دلیل ہے۔اپنی ذاتپر اعتماد رکھنے والا ہی ایسی بات کہ سکتا ہے
ا پنے ہو نے کی سند لا ئیں گے گھر سے ا پنے
کبھی مہکے بھی تو مہکیں گے ا ثر سے ا پنے
بلا شبہ مانگی ہوئی یا مستعار لی ہوئی خوشبو سے مہکنا اچھی بات نہیں ہے۔
جاوید صبا کو یہ معلوم ہے کہ ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ کوئی ان کا ہوجائے مگرباوجود اس کے اگر کوئی بات نہ ہوتی تو لوگ ان کے کیوں ہوتے! ہمارے سامنےاب کچھ ان کےدل کا عالم کھلتا جارہا ہے
تم سے نہیں ملے تو کسی سے نہیں ملے
ملنا بھی پڑ گیا تو خو شی سے نہیں ملے
جو بے طلب تھا اس کی ہمیں جستجو ر ہی
جو ملنا چا ہتا تھا اُ سی سے نہیں ملے
جا و ید صبا ہمارے عہد کے صاف گو، کھرے اور بے باک شعراء کے قبیلے کے ایک حوصلہمند شاعر ہیں۔ وہ اپنی خود کلامی سے بعض اہم نکات اس طرح بیان کرجاتے ہیں کہ ان کے لب ولہجے کا اعتبار اور زندگی کے ناگزیر احساسات کا اظہار واضح نظر آتا ہے
وفا ہے جرم تو اک دوسرے کے قاتل ہیں
اک اعتبار سے میں ،ایک اعتبار سے تُو
وہ حقیقتوں سے منہ موڑنے کے بجائے ان کا سامنا جرءات سے کرتے ہیں
زیر ِ شمشیر َ ستم طا ق َ معیشت کو سلام
نفسانفسی کو دُعا،زرکی شریعت کو سلام
اقرار ِ باللساں ہی بہت ہے مگر کوئی
اقرار باللساں تہہ شمشیر بھی کرے
جاوید صبا کبھی کبھی شاعری کو یہ درجہ دینے پر بھی آمادہ نظرآتے ہیں
نہ آ سما نوں کو دیکھے نہ یہ زمینوں کو
یہ شاعری ہے ،چڑہا تی ہے آستینو ں کو
میر انیس کی وہ غزل ذہن میں لائیے۔۔۔۔انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
اس طرح میں معاصرین کی غزلیں پڑھی سنی ہیں نصیر ترابی نے کیا اچھا لکھا تھا۔۔نہ دامنوں کو خبر ہے نہ آستینوں کو
آپ میں سے اگر کسی کا دل چاہے کہ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ نہیں شاعری کی یہ تعریف درست نہیں،عا لم میر ے د ل کا ،جاوید صبا کا مجموعہ
ایسا تو کُشتی لڑنے والے کہتے ہیں تو پھر اس اعتراض کا یہی جواب دیا جاسکتا ہے
میری غزل کے بعد نجانے کس کی روایت قائم ہو
میر سے لے کر میری غزل تک ایک کہانی بیچ میں ہے
تنہائی یا تنہا ہونے کا احساس ،اپنی ذات میں محبوس ہونا اور شعوروآگہی کی جستجو شعرائے کرام
کے خصوصی موضوعات ہوتے ہیں۔آئیے دیکھیں جاوید صبا کی تنہائیوں کی کیفیت کیا ہے
ا پنی آ و ا ز کی تکر ا ر سے با تیں کر نا
جشن ِ تنہائی ہے د یو ا ر سے باتیں کر نا
میں ا پنی خلو تیں کیسے مٹا د و ں
یہی لے د ے کے سر ما یہ ہے میر ا
اُ س سے بچھڑ کے ر و ح کا آ ز ا ر دیکھنا
اک خو ا ب اور وہ بھی لگا تار دیکھنا
رہتی ہے بے خودی میں بھی مجھ کو تری خبر
جو کام تُو کرے تری تصویر بھی کرے
ہے خبر انجمن آ ر ا ئی سے آگے کیا ہے
دیکھنا یہ ہے کہ تنہا ئی سے آ گے کیا ہے
خلق سے مل کر بھی اپنے آپ سے ملتا نہ ہو؛؛ آدمی تنہا ہو لیکن ا س قد ر تنہا نہ ہو
تم بھی چلے گئے تو ا ِ دھر کون آئے گا
تنہائی کے سوامرے گھر کون آئے گا
ان تمام کیفیتوں کے باوجود جاوید صبا اپنے دل کے عالم میں کسی کی شرکت
گوارانہیں کرتے۔وہ اپنے ہونے کی سند اپنے گھر سے لانے اور اپنے ہی اثر سے مہکنے کے قائل ہیں۔
ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر آپ نے خوش گواری کے ساتھ غیر جانب دارانہ انداز میں اچھی شاعری
سے محظوظ ہونا سیکھ لیا ہے تو آپ "عالم میرے دل کا "جیسے شعری مجموعے کے مطالعے کے بعد یہ
اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ جاوید صبا نے کسی سے سند حاصل کرنے کی بجائے اپنے ہی
گھر سے اپنے ہونے کی سند لی ہے اور وہ اپنے اثر سے نہ صرف خود مہک رہے ہیں بلکہ گلستان ِ
غزل کو بھی رنگارنگ شاداب اور تروتازہ گلوں سے مہکارہے ہیں۔
یہ گھر وہ ہے جہاں
کج کلاہی کا سبب یہ ہے کہ گھر لوٹ کے ہم
اُس کے قدموں پہ جھکادیتے ہیں پیشانی کو
یہ اپنی ماں کے نام انتساب کے حوالے سے ایک ایسا شعر کہا گیا ہے جو ماں کے لیے ہی کہا جاسکتا ہے
ماں کسی کی بھی ہو،اور کسی طرح کی بھی ہو ،ماں تو ماں ہی ہوتی ہے ،جس کے قدموں میں جنت ہے
بھلا اس جنت سے الگ ہونا کسے گوارا ہے۔
آخر میں ہماری دُعا ہے کہ جاوید صبا کی یہ کج کلاہی قائم و دائم رہے آمین
(دسمبر 1989ء کو حلقہ ء عزم بہزاد میں پیش کیا گیا)

غزل

ہفتہ، 5 نومبر، 2011

غزل۔سید انورجاوید ہاشمی


صحر ا نشیں نہ چو نکنا میر ی ا ذ ا ن پر
آ یا ہو ں کھیلتا ہو ا میں ا پنی جا ن پر

رکھتا ہو ں میں عز یز زمیں تیری خاک ابھی
قا ئم ہے ا عتبا ر مر ا آ سما ن پر

چلتا ر ہو ں گا د ھو پ میں ہمراہ سائے کے
جب تک نہیں بھر و سہ کسی سا ئبان پر

ر کھتے ہیں سب سنبھا ل کے سرما یہ علم کا
کیو ں کر نہ ہو تا نا ز مجھے خاندان پر

محفل میں آ ج مصرعہ اُٹھا تا نہیں کوئی
حیر ا ں تھے لوگ پہلے ذراسی اُٹھان پر

اُ ن ر فتگا ں کے نام لکھو ہاشمی غزل
ا حسا ن کر گئے ہیں جو اُردو زبان پر

سیدانورجاویدہاشمی

جمعرات، 3 نومبر، 2011

شعری مجموعہ ’’ محبت و ہم ہے شاید‘‘ کی تقریب رونمائی

فیصل آباد(نمائندہ ادبستان)پاکستانی نژاد کاشف کمال کا پہلا شعری مجموعہ ’’ محبت و ہم ہے شاید‘‘ منظر عام پرآگیا ہے اس حوالہ سے انٹرنیشنل سکول و کالج آف پاکستان کویت میں پاکستان فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک تقریب رونمائی منعقد ہوئی جس کی صدارت
رانا اعجاز حسین نے کی جبکہ پرنسپل انٹرنیشنل سکول و کالج کویت کرنل(ر) انجم مسعود مہمان اعزاز اورسفیر پاکستان افتخار عزیز عباس تقریب رونمائی کے مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر کاشف کمال‘ پروفیسر مرزا عبدالقدوس‘اکبرشاہ‘ فیاض چودھری‘ رانا اعجاز‘محترمہ غزالہ بانو‘ محمدارشد بھٹی‘ ندیم مغل ‘ میاں ریحان لطیف سمیت دیگر نے بھی شرکت کی ۔ تقریب رونمائی کے دوران پروفیسر ریاض احمد قادری، ڈاکٹر ریاض مجید اور معروف شاعر و کالم نگار عطاء الحق قاسمی کے ویڈیو تاثرات بھی پیش کئے گئے۔مقررین نے شاعر کاشف کمال کو کتاب کے اجراء پر مبارکباد پیش کی اور مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کی طرف سے ایگزیکٹو و کونسل نے کاشف کمال کو ایک یادگاری شیلڈ پیش کی ۔

جمعرات، 27 اکتوبر، 2011

حلقہ ء ارباب ذوق کراچی کا تاسیسی اجلاس

حلقہ ء ارباب ذوق کراچی کا تاسیسی اجلاس أرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوا۔ صدارت پروفیسر سحر انصاری صدرنشین ادبی کمیٹی آرٹس کونسل نے کی،توقیر تقی کی غزل اور آصف فرخی کا افسانہ ایجنڈے میں شامل تھا۔نرجس افروز زیدی اور سید کاشف رضا راولپنڈی اسلام آباد،پشاور سے آئے،عقیل عباس جعفری،عقیل ملک،احمدشاہ،سہیل اخترہاشمی،ڈاکٹر عبدالمختار،سجاد ہاشمی،عاطف مرزا،شبیر نازش،اخترعبدالرزاق،سیدہ تزئین فاطمہ زیدی،شاہد رضاموسوی،ممتاز
عباس،کرن سنگھ،فہیم شناس کاظمی،یامین اختر،آئرین فرحت،واجد اصفہانی اور دیگر شرکاء نے پیش کی گئی تخلیقات پر اظہار خیال کیا۔
کراچی سے سیدانورجاویدہاشمی کی رپورٹ

حلقہ ء ارباب ذوق کراچی کا أئندہ اجلاس
حلقہ ارباب ذوق کے اکتوبر 30کےتنقیدی اجلاس میں عقیل عباس جعفری کی غزل
اور رفاقت حیات رکن راولپنڈی کا افسانہ ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔شام 6بجے ہم تمام
ادب دوستوں،سخنوران کراچی اور اہل فن کی آمد کے منتظر رہیں گے

سوموار، 24 اکتوبر، 2011

غزل۔اعجاز گل

ہر چند اس سے پہلے بھی رسوا کیا گیا
اس بار کچھ زیادہ تماشا کیا گیا
پھیلا کے آفتاب سے پرچھائیوں کا خوف
ظلمت میں بستیوں کو اکیلا کیا گیا
ہانکا گیا سوار کو پیدل کے زور سے
اور آخری لکیر پہ پسپا کیا گیا
آہو قفس میں ڈال کے کھیلا گیا شکار
اس کی کمین گاہ کو صحرا کیا گیا
پھولوں کے رنگِ سعد میں ملبوس شاخ کو
کانٹوں کی دلگی میں برہنا کیا گیا
جو کام ہو گیا اسے رکھا گیا الگ
اک اور کارِ نو کا تقاضا کیا گیا
ہر اک جواب صفر پہ رکھنے کے واسطے
جو ہندسہ تھا جمع کا منہا کیا گیا
اعجاز گل

بدھ، 12 اکتوبر، 2011

سوموار، 19 ستمبر، 2011

متولّی ۔ علی اکبر ناطق

آغا نجف کی اچانک موت نے مہرالنساخانم کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔یعنی جودس ہزار کا مشاہرہ حویلی سے آتا تھا، اب اس کی بھی کوئی صورت نہ تھی ۔ادھر لاکھ سمجھانے پربھی شرف النسا کسی اورکی رکھیل بننے سے انکاری تھی اور خود وہ اس عمر میں دھندہ کرنے سے رہی جب کہ ثمینہ کی عمر ابھی اس قابل نہیں تھی کہ اس کی نتھ کھلوائی جاتی ۔ پھر اس نے پچھلے دس سال سے کسی اورسے واسطہ بھی تو نہ رکھا کہ کوئی اس کی پرسش کوآتا۔ کہنے کوتو پینتیس سال سے اسی ہیرا منڈی میں اس کا کوٹھا تھا مگر ایرے غیرے کو منہ لگانا توایک طرف کسی دلال سے بھی تعلق نہ کیا۔یہاںتک کہ مجلس،ماتم داری اور منت ووظائف کی تمام رسوم بجائے محلے کے امام باڑے کے مرکزی امام بارگاہ میں جاکر اداکرتی۔دراصل مہروخانم کی نظر میں وہ تصویریں پھرتی تھیں جب وہ اپنی ماںکے ساتھ فیض آبادسے یہاں آئی تھی اورشاہی محلے میں ان کا کوٹھا گویا ایک دربارتھاجہاںایک سے بڑھ کر ایک، بیسیوں رنڈیاں ان کے ہاںپناہ لیے ہوئے تھیں۔ ہروقت رقص و آوازکا سامان اورآٹھ پہررونقیں تھیں۔ اگرچہ فیض آباد کی طرح یہاں نواب نہ تھے مگر مہروکی ماں خورشید آرا اب بھی اپنے ہاںکم نسب اور ذلیل کو پھٹکنے نہ دیتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے ہاں آنے والا نواب نہیں تو نہ سہی کم سے کم شرفا میں تو ہو،مگر خورشید آرا کے مرنے کے بعد تو ایسی منحوس ہوا چلی کہ محلہ صرف لچّو ںلفنگوں کا اڈا بن کے رہ گیا ۔ حکومت نے ایسے قانون بنائے کہ شرفا نے آنا بند کردیا۔ البتہ آغا نجف،کہ پرانے ملنے والوں میں تھا جو ایک طرح سے مہروخانم کا داماد بھی تھا،اس نے آخری دم تک ساتھ نبھایا۔ وہ خود تو نہ آتا تھامگر دس ہزار ماہانہ بھیجتا رہا۔ اب جب کہ آغا نجف کا سہارا بھی نہ رہا تو اس کی نشانی خادم حسین کی کفالت کی فکردامن گیرہوئی۔کوئی چھ مہینے تو اسی حالت میں گذرے لیکن کب تک ؟ جب جمع شدہ سرمایہ آخری سانسیں لینے لگاتو مہر النسا خانم نے کوٹھے کے باہر پان سگریٹ کا کھوکھا لگا لیا اورکتھا چونا بیچنے لگی ۔ چنددنوں میں کھوکھا چل نکلا اوردن میں دوچار سوآنے لگے یوںیہ فکر تو کسی حدتک کم ہوئی مگر وہ خادم حسین کے حال سے تشویش میںگُھلنے لگی جو ابھی تین ہی سال کا تھا۔اسے ثمینہ کی توایسی فکر نہ تھی کہ وقت آنے پر جیسے وہ نقش نین بنا رہی تھی، سو آدمی اس کے لیے تیارہوجاتے لیکن وہ سمجھتی تھی کہ خادم حسین نواب کالڑکا ہے، اسے محلے میںنہیں رہنا چاہیے۔ اسی شش وپنج میں ایک سال اور نکل گیا۔ ایک دن اس نے خادم حسین کو شرف النسا کی گود میں کھیلتے دیکھا تو اس کا جی بھر آیا ۔ وہ یہ سوچ کر کُڑھنے لگی کہ ایسا چاند کا ٹکڑا محلے کے شہدوںاور لفنگوںمیں کیو ں کر زندگی کاٹے گا۔بالآخر اس نے شرف النسا سے کہا "جس قدر جلدہوسکے لڑکے کو رنڈیوں کی صحبت سے دور کر دو ۔آج چھوکرے کی عمر ہی کیا ہے۔ ہوش لینے سے پہلے محلے سے ہٹاؤگی تو پلٹ کر نہ آئے گا۔ "
"لیکن کہاں بھیجوں؟ یہاںتو دوردور تک کسی شریف زادے سے تعلق نہیں ۔ البتہ آغا نجف زندہ ہوتے تو ضرور لے جاتے کہ خون کا کچھ توخیال ہوتا ہے"،شرف النسا نے فکر مندی سے جواب دیا۔
"مگریہاں محلے میں ضرور خراب ہوگا۔"مہروخانم نے دوبارہ زوردیتے ہوئے کہا ،" ایک سے ایک بدمعاش رنڈی بیٹھی ہے۔ مسیں بھیگنے سے پہلے ہی لونڈے کو چاٹ لیں گی۔ دیکھ تو کیسے ہاتھ پاؤں نکال رہا ہے اور پھر میں تو کسی طرح نہ چاہوں گی کہ لڑکا محلے کے رذیلوں میں اٹھے بیٹھے۔"
"مگر کہاں بھیجوں؟ کوئی ٹھکانہ بھی تو ہو۔"شرف النسا اکتائے ہوئے لہجے میں بولی۔
"میں نے ایک جگہ سوچی ہے۔" مہرالنسا نزدیک ہوکرکہنے لگی،" سید صادق تقی ہے نا ،مرکزی حسینیہ امام بارگاہ کا متولّی، لڑکے کو اس کی کفالت میں دے دیتے ہیں۔ خرچہ چپکے سے بھیجتے رہیں گے ۔ وہیں سے مکتب میں جائے اور وہیں رہے۔ کانوں کان کسی کوخبر نہ ہوگی۔خود ہم بھی کم ہی واسطہ رکھیںگی۔ سیّد زادوں اور شریفوں میں رہے گا تو دنیا کی عزت اور دین کی دولت دونوںپائے گا۔"
"مگر اماں!"شرف النسا بولنے لگی پھرگویا دل ہی دل میں اپنی ماںکی عقل کوداد دیتے ہوئے چپ کرگئی۔ پھراچانک تردّدسے بولی،" مگراماںسیّد صادق کیوں کر ایک رنڈی کے بیٹے کو لے گا ؟اس کے تو جنموں میں بھی رنڈیوں سے واسطہ نہیں ۔ ایسا فرشتہ سیرت اور شب بیدار کیسے ہمارے پاپ کا ذمہ اٹھائے گا ؟ پھر خادم ابھی چارہی سال کاتو ہے۔وہ تو اس کی ناک پونچھنے سے رہا۔"
"تو فکر نہ کر"، مہرالنسا فیصلہ کن لہجے میں بولی "سیّد تقی سے بات میں کروںگی۔ ہماری تو جو قسمت میں لکھا تھا بھوگ لیا، پرمیں لڑکے کو ذلیل نہ ہونے دوںگی اور پھر اِسی عمر میں یہ یہاں سے نکلے تو اچھا ہے۔"

گذشتہ سال اس کڑاکے کی سردی پڑی کہ ہرشے سکڑ کے رہ گئی۔ مہروخانم جو رات گئے تک کھوکھے پر بیٹھتی تھی اسی سردی سے نمونیے میں گرفتار ہوگئی۔ لاکھ دوادارو کیے مگر افاقہ نہ ہوا ۔ اگرچہ وہ ساٹھ سے اوپر نہ تھی مگر عمر کے اس حصے میں تھی جہاںدواؤںکے ساتھ دعاؤں کی بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ قبول نہ ہوئیں اورمہروخانم دس دن کے اندر ہی قضاہوگئی۔اِس اچانک موت نے شرف النسا کو ہلا کے رکھ دیامگراس نے چند ہی دنوںمیں اپنے آپ کو بحال کیا اور کھوکھے کے کام کو سنبھال کرگھر چلانے کا بندوبست کرلیا۔ وہ خود تو کھوکھے پر بیٹھنے لگی جب کہ گھر کی دیکھ بھال ثمینہ کے حوالے کردی۔ کئی مہینے اِسی طرح معاملہ چلتا رہا اس کے ساتھ ساتھ ثمینہ کی دلچسپیاں بھی بڑھتی گئیں۔ حتٰی کہ مہروخانم کو مرے ابھی سال نہ ہواتھاکہ اس نے پر نکالنے شروع کردیے ۔ شرف النساکے لاکھ سمجھانے پر بھی تانک جھانک سے نہ رکی بلکہ کچھ دنوںسے تو سر عام رنڈیوں کی صحبت پکڑلی۔ شرف النسا نے یہ حالت دیکھی تو فکر میں پڑی۔فوراََ کبیر دلال سے رابطہ کرکے سردار جہانگیر احمد کے ساتھ تین لاکھ کے عوض گانٹھ دی۔ سردار جہانگیر احمد ثمینہ کو اپنی زمینوںپر پتّوکی لے گیا جہاں اس کے بے شمار باغات تھے۔ اول تین ماہ تک تو ثمینہ کو اپنا کوٹھا یاد آتا رہا لیکن اب آہستہ آہستہ جہانگیر کی ناز برداریوںسے وہ اس جگہ کی عادی ہو گئی پھر اسے کچھ اور امید بھی بندھ گئی تھی کہ شایدجہانگیر اس سے شادی کرلے اور یہ ہوبھی جاتا کہ قسمت نے ایک اور پلٹا کھایا ۔انھی دنوںجہانگیر احمد کی ماںکو کسی طرح خبر ہوگئی کہ لاڈلے میاں نے گھر سے بالا بالا رنڈی رکھی ہوئی ہے۔ وہ انھی قدموں پتّو کی پہنچی اور ثمینہ کو میڈھیوں سے پکڑ کردروازے سے باہر کردیا۔جہانگیرنے اُف تک نہ کی۔ حالاں کہ ثمینہ کے پیٹ میں اس کا چارماہ کا بچہ ہوچکا تھا جسے اس نے شادی کی امیدپر جننے کا سوچا تھا۔دروازے سے باہر نکلتے ہوئے ثمینہ باربار جہانگیر احمد کا منہ دیکھتی رہی کہ شاید ماں کو کھری کھری سنا دے مگر جہانگیر تو بھیگی بلی بنا کھڑا تھا اپنی ماں کے آگے جیسے کل کا بچہ ہو۔ ثمینہ نے یہ حالت دیکھی تو دونوں کو کوسنے دینے لگی۔اس نے ایسے مردکہاں دیکھے تھے۔ بالآخرتین حرف بھیج کر کوٹھے پر آگئی۔ ایک دومہینے تو اسے یہ امید رہی کہ شاید جہانگیررابطہ کرے لیکن جب ادھر سے کسی نے خبر نہ لی تو اِس نے دھندا کرنے کی ٹھان لی۔ مگر مصیبت یہ تھی کہ پیٹ کا بچہ اب چھ مہینے کا ہوچکا تھا، لہٰذا مایوس ہوکر کھوکھے کے کام میں شرف النسا کا ہاتھ بٹانے لگی اور دن گذرتے گئے۔
لڑکا پیداہوا تو ثمینہ نے اپنے کام کا آغاز کردیا اگرچہ رکھیل بنانے کو سینکڑوں تیارتھے لیکن اب وہ مستقل کسی کی ہوکے رہنے کو راضی نہ تھی ۔ لہٰذا، آلات رباب سے گرد جھاڑ کر ایک سلیقے سے دھندہ شروع کردیا۔ پھرتو چند ہی ماہ میں دوردور بات نکل گئی اور محلے میں ایک قسم کی جان آگئی۔

ایسی عزاداری تو لوگوںنے اپنی ہوش میں دیکھی نہ تھی۔ خادم نے انتظامات کچھ ایسے ڈھب سے کیے کہ ہر آدمی واہ وا کر کے رہ گیا۔ عزاداروںکے لیے شامیانوں اور سبیلوں کا انتظام، ماتمیوں اور زنجیر زنوں کے لیے فرسٹ ایڈ سے لے کر مکمل میڈیکل سنٹر کا قیام اور چاک چوبند حفاظتی دستے کی عمل داری، ہرکام میں ایک سلیقہ تھا۔ اس کے علاوہ پہلی دفعہ پولیس انتظامیہ سے مل کر مرکزی امام باڑے سے لے کر گول چوک تک کا تمام رستہ دوطرفہ زنجیروں سے باندھ دیا گیا تاکہ جلوس اور ماتمیوں کوکوئی بیرونی رکاوٹ پیش نہ آئے اور وہ خطرے سے دور رہیں۔ اگرچہ آمدنی سابقہ سے زیادہ نہ تھی مگر حسن انتظام ایسا تھا کہ کسی کو شکایت کی گنجائش نہ ہوئی ۔ انھیں پیسوں میں ملک کے نامور ذاکرین، سوز خواں اور نوحہ خواں بلوائے گئے۔ عوام الناس کے لیے دودھ کی سبیلوںکا اہتمام الگ تھا۔ خیر یہ سب تو ایک طرف، اس دفعہ لوگوں نے بھی وہ جوش و خروش دکھایاگویا پورا شہر اثنا عشری ہوگیاہو۔ عزاداروں کا ایسا جم غفیر پہلے کبھی دیکھنے میںنہ آیا تھا۔ دسویں کو زنجیر زنی اور کوئلوں پہ ماتم تو ایساہوا کہ کسی نے خواب میں بھی نہ دیکھا ہوگا۔جس شخص نے پہلے کبھی بغلوں سے ہاتھ نہ نکالے تھے، اب وہ بھی سینہ کوبی کرتے نظر آئے۔ ہرایک کا خیال تھا یہ سب اسی وجہ سے ہوا کہ انتظام اب کے خادم کے ہاتھ میں تھا۔ یوں تو ہر شخص سیّد صادق کی وفات کے بعد خادم سے مشورے کے بغیر امام باڑے یا عزاداری کے متعلق کوئی کام نہ کرتا تھا مگر یہ اہمیت اعجاز رضوی کی شہادت پر اور بڑھ گئی ۔ جب خادم نے اپنی جان پر کھیل کرقاتلوں کا پیچھاکیا اورایک کو مارگرایا۔ اس عمل میں اس کی اپنی ٹانگ بھی زخمی ہوگئی جس کی وجہ سے مہینہ بھر ہسپتال میں رہا۔ اوراس دوران کوئی فرد ایسا نہیں تھاجو خادم کے لیے فکرمند نہ ہوا ہو۔سادات وغیرسادات سب نے اس کی صحت یابی کے لیے دعا کی اورتیمارداری میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ صحت مند ہوکر آیا تو ہرایک کو بے پناہ خوشی ہوئی اور اس صلے میں کوثر شاہ نے عزاداری کے انتظامات اسے سونپ دیے جس کا نتیجہ توقع سے زیادہ اچھا نکلا۔ ذاکر جیسے ہی مصائب کی طرف پلٹتا سب سے پہلے اسی کا بین اٹھتا اور اس قدر روتا کہ امام باڑے کے درودیوار لرزلرز اٹھتے ۔ ہرنماز کے وقت رائفل لے کر دروازے پر بیٹھ جاتا اور جب تک ایک بھی فردنمازمیں ہوتا ، محافظت نہ چھوڑتا۔ امام باڑے سے ملحقہ کمرہ اس کے جینے مرنے کا سامان تھا۔ چونکہ ہوش اِسی کمرے میں سنبھالے تھے، لہٰذا ایک قسم کا وہ اس کا اپنا گھر تھا اورکبھی یہ گمان بھی نہ رہا کہ یہ جگہ امام باڑے کی ہے۔ کمیٹی نے خادم حسین کا ماہانہ آٹھ ہزارمشاہرہ مقررکردیا جو اس سے پہلے سیّد صادق تقی کو ملتا تھا۔ خادم حسین کو اگرچہ کئی سبب سے یہ معلوم تھا کہ اس کا سلسلہ ہیرامنڈی سے ہے مگر اس نے کبھی شرف النسا کے ساتھ اس طرح کی بات نہ کی تھی اور نہ ہی شرف النسا نے اس موضوع کو کبھی چھیڑا۔ ماںبیٹے کے درمیان گویا ایک خاموش سمجھوتا تھا۔ البتہ ہرماہ اپنی ماں کو ان آٹھ میں سے چارہزار باقاعدگی سے دیتا تھا۔ خادم اپنی خالہ کی عزت بھی ویسے ہی کرتا جیسے شرف النسا خانم کی کرتا۔اسے شاید ان کے دھندوںسے کوئی غرض نہ تھی بلکہ ہرطرف سے بے نیازایک ہی دُھن تھی کہ امامِ مظلوم کی عزاداری اب کے کیسے زورشور سے کی جائے۔ وہ ہمیشہ انھی ذرائع پر غور کرتا جو عزاداری سے متعلق ہوتے۔خاص کر ذوالجناح کو سجانے اور زیور سے آراستہ کرنے میں توایساجگرکوخون کرتاکہ عزاداروںکوبھی رشک آنے لگا تھا۔اس نے اپنی تنخواہ کا ایک حصہ ذوالجناح کے زیورات کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا۔ اگرچہ عشرے کے روز ذوالجناح کی باگ پکڑ کر چلنے کی اسے بہت حسرت تھی لیکن یہ کسی سیّدکا کام ہوتا تھاپھربھی ہر حالت میں ذوالجناح کے ساتھ ساتھ چلتا ۔ الغرض خادم کے بارے میں یہ طے تھا کہ اسے سوائے عزاداری کے کسی سے کچھ غرض نہیں تھی۔

جمعہ، 16 ستمبر، 2011

منگل، 13 ستمبر، 2011


کراچی(سیدانورجاویدہاشمی) متحدہ عرب امارات دبئی میں مقیم کراچی کے شاعر محمد نعیم
المعروف سحر تاب رومانی مختصر دورے پر کراچی پہنچے تو ان کے اعزاز میں
پہلے گلرنگ کے رمزی آثم نے آرٹس کونسل کے گلرنگ کارنر میں لیاقت علی عاصم
کی صدارت میں محفل شعروسخن کا اہتمام کیا جس میں رمزی آثم،عمار اقبال،
علی تاصف،شین زاد، افتخارحیدر،محبوب حسین محبوب،قیصرمنور،ضیاشاہد،
فیض عالم بابر،محمد ظہیر قندیل ؛سجاد ہاشمی،سیف الرحمان سیفی،سہیل احمد،
سیدانورجاویدہاشمی،یاد صدیقی کے ساتھ ہی مہمان شاعر سحرتاب رومانی اور
لیاقت علی عاصم نے اپنا کلام نذرِ سامعین و حاضرین کیا۔دوسری نشست محسن
اسرار کی قیام گاہ پر ہوئی جس میں کاشف حسین غائر،سحرتاب رومانی،
سیدانورجاویدہاشمی اور صاحب ِ خانہ نے تازہ کلام سنایا سحرتاب نے اپنا مجموعہ
’ گفتگوہونے کے بعد‘مہمانوں کو پیش کیا۔ان کی روانگی سے قبل ادب رنگ پاکستان
نامی بزم نے ارتقا ادبی فورم کے اشتراک سے جو شعری نشست منعقد کی اس میں
میزبانوں میں ڈاکٹرعبدالمختار، ضیا شاہد اور حامد علی سید جبکہ ناظم سلمان صدیقی
شامل تھے۔ مسند نشینان کو پھولوں کے ہار پہناتے گئے۔سلمان صدیقی نے صاحبِ
اعزاز کا مختصر تعارف پیش کیا۔لیاقت علی عاصم کی صدارت میں منعقدہ اس شعری
نشست کے مہمان خصوصی ’گنجلک‘ کے شاعر سبکتگین صبا مہمان اعزاز
سحرتاب رومانی،سیدانورجاوید ہاشمی،انورکیف،فیض عالم بابر،پروفیسرضیاشاہد،
سجادہاشمی،مقبول زیدی ، محبوب حسین،شین زاد،علی تاصف، کاشی شاہ،دلاورعباس،
حامد علی سید،ڈاکٹرعبدالمختار،سلیم عکاس،حمیدہ بانوسحراورناظم ِمشاعرہ نے اپنا کلام پیش کیا۔سیدانورجاویدہاشمی نے مہمان اعزازی جبکہ انورکیف نے صدرِ محفل کو
بزم کی جانب سے تحائف پیش کیے ۔

اتوار، 11 ستمبر، 2011

اتوار، 4 ستمبر، 2011

گڈ مارننگ۔۔ظہیر جاوید


بس سٹینڈ پر ۔۔ مجید امجد

”خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئی“
” خدا سے کیا گلہ بھائی!
خدا تو خیر کس نے اس کا عکسِ نقش پا دیکھا
نہ دیکھا بھی تو کیا دیکھا اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا
مگر توبہ میری توبہ، یہ انساں بھی تو آخر اک تماشا ہے
یہ جس نے پچھلی ٹانگوں پہ کھڑے ہونا بڑے جتنوں سے سیکھا ہے
ابھی کل تک جب اس کے ابروؤں تک موئے پیچاں تھے
ابھی کل تک جب اس کے ہونٹ محرومِ زنَخداں تھے
ردائے صد زماں اوڑھے لرزتا، کانپتا بیٹھا
ضمیرِ سنگ سے بس ایک چنگاری کا طالب تھا
مگر اب تو یہ اونچی ممٹیوں والے جلو خانوں میں بستا ہے
ہمارے ہی لبوں سے مسکراہٹ چھین کر اب ہم پہ ہنستا ہے
خدا اس کا، خدائی اس کی، ہر شے اس کی، ہم کیا ہیں
چمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کا ناچیز ذرہ ہیں
ہماری ہی طرح جو پائمالِ سطوتِ میری و شاہی ہیں
لکھوکھا، آبدیدہ، پا پیادہ، دل زدہ، واماندہ راہی ہیں
جنہیں نظروں سے گم ہوتے ہوئے رستوں کی غم پیما لکیروں میں
دکھائی دے رہی ہیں آنے والی منزلوں کی دھندلی تصویریں “
” ضرور اک روز بدلے گا نظام قسمتِ آدم
بسے گی اک نئی دنیا،سجے گا اک نیا عالم
شبستاں میں نئی شمعیں، گلستاں میں نیا موسم “
” وہ رُت اے ہم نفس جانے کب آئے گی
وہ فصلِ دیر رس جانے کب آئے گی
یہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی؟ “
مجید امجد

أٹوگراف۔،مجید امجد


کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے
کتابچے لئے ہوئے
کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بےخبر حسین لڑکیاں
مہیب پھاٹکوں کے ڈولتےکو اڑ چیخ اٹھے
ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے
پُر ہراس قافلے
گرے، بڑھے، مُڑے بھنور ہجوم کے
کھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف
بیاضِ آرزو بکف
نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں
لرز رہا ہے دم بہ دم
کمان ابرواں کا خم
کوئی جب ایک نازِ بےنیاز سے
کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا
حروفِ کج تراش کی لکیر سی
تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی
کسی عظیم شخصیت کی تمکنت
حنائی اگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی
تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز
نبض رُک گئی
وہ باؤلر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا
وہ صفحہِ بیاض پر بصد غرورکلکِ گوہروں پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری
میں اجنبی میں بے نشاں
میں پا بہ گل !
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل ۔۔۔۔۔ یہ لوحِ دل !
نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ س پہ کوئی نام ہے
مجید امجد

اتوار، 28 اگست، 2011

اوور کوٹ



جنوری کی ایک شام کو ایک خوش پوش نوجوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور چیئرنگ کراس کا رُخ کر کے
خراماں خراماں پٹڑی پر چلنے لگا۔ یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔ لمبی لمبی قلمیں، چمکتے ہوئے بال، باریک باریک مونچھیں، گویا سرمے کی سلائی سے بنائی گئی ہوں، بادامی رنگ کا گرم اوور کوٹ پہنے ہوئے جس کے کاج میں شربتی رنگ کے گلاب کا ایک ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا، سر پر سبز فلیٹ ہیٹ ایک خاص انداز سے ٹیڑھی رکھی ہوئی، سفید سلک کا گلوبند گلے کے گرد لپٹا ہوا، ایک ہاتھ کوٹ کی جیب میں دوسرے میں بید کی ایک چھوٹی چھڑی پکڑے ہوئے جسے کبھی کبھی وہ مزے میں آ کے گھمانے لگتا تھا۔
یہ ہفتے کی شام تھی۔ بھرپور جاڑے کا زمانہ۔ سرد اور تند ہوا کسی تیز دھات کی طرح جسم پر آ کے لگتی تھی۔ مگر اس نوجوان پر اس کا کچھ اثر نہیں معلوم ہوتا تھا اور لوگ خود کو گرم کرنے کے لیے تیز تیز قدم اٹھا رہے تھے، اسے اس کی ضرورت نہ تھی جیسے اس کڑکڑاتے جاڑے میں اسے ٹہلنے میں بڑا مزا آ رہا ہو۔ اس کی چال ڈھال سے ایسا بانکپن ٹپکتا تھا کہ تانگے والے دور ہی سے دیکھ کر سرپٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اس کی طرف لپکتے، مگر وہ چھڑی کے اشارے سے نہیں کر دیتا۔ ایک خالی ٹیکسی بھی اسے دیکھ کر رکی، مگر اس نے ”نو تھینک یو“ کہہ کر اسے بھی ٹال دیا۔ جیسے جیسے وہ مال کے زیادہ بارونق حصے کی طرف پہنچتا جاتا تھا، اس کی چونچالی بڑھتی ہی جاتی تھی۔ وہ منہ سے سیٹی بجا کے رقص کی ایک انگریزی دھن نکالنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے پاؤں بھی تھرکتے ہوئے اٹھنے لگے۔ ایک دفعہ جب آس پاس کوئی نہیں تھا تو یکبارگی کچھ ایسا جوش آیا کہ اس نے دوڑ کر جھوٹ موٹ بال دینے کی کوشش کی۔ گویا کرکٹ کا میچ ہو رہا ہے۔ راستے میں وہ سڑک آئی جو لارنس گارڈن کی طرف جاتی تھی، مگر اس وقت شام کے دھندلکے اور سخت کہرے میں اس باغ پر کچھ ایسی اداسی برس رہی تھی کہ اس نے ادھر کا رُخ نہ کیا اور سیدھا چیئرنگ کراس کی طرف چلتا رہا۔ ملکہ کے بت کے قریب پہنچ کر اس کی حرکات و سکنات میں کسی قدر متانت پیدا ہو گئی۔ اس نے اپنا رومال نکالا جسے جیب میں رکھنے کے بجائے اس نے کوٹ کی بائیں آستین میں اڑس رکھا تھا اور ہلکے ہلکے چہرے پر پھیرتا تاکہ کچھ گرد جم گئی ہو تو اتر جائے۔ پاس گھاس کے ایک ٹکڑے پر کچھ انگریز بچے ایک بڑی سی گیند سے کھیل رہے تھے۔ وہ بڑی دلچسپی سے ان کا کھیل دیکھنے لگا۔ بچے کچھ دیر تک اس کی پرواہ کیے بغیر کھیل میں مصروف رہے، مگر جب وہ برابر تکے ہی چلا گیا تو وہ رفتہ رفتہ شرمانے سے لگے اور پھر اچانک گیند سنبھال کر ہنستے ہوئے اور ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ گھاس کے اس ٹکڑے ہی سے چلے گئے۔ نوجوان کی نظر سیمنٹ کی ایک خالی بینچ پر پڑی اور وہ اس پر آ کے بیٹھ گیا۔ اس وقت شام کے اندھیرے کے ساتھ ساتھ سردی اور بھی بڑھتی جا رہی تھی، اس کی یہ شدت ناخوشگوار نہ تھی، بلکہ لذت پرستی کی ترغیب دیتی تھی۔ شہر کے عیش پسند طبقے کا تو کہنا ہی کیا، وہ تو اس سردی میں زیادہ ہی کھل کھیلتا ہے، تنہائی میں بسر کرنے والے بھی اس سردی سے ورغلائے جاتے ہیں اور وہ اپنے اپنے کونوں کھدروں سے نکل کر محفلوں اور مجمعوں میں جانے کی سوچنے لگتے ہیں۔ حصول لذت کی یہی جستجو لوگوں کو مال پر کھینچ لائی تھی اور وہ حسب توفیق ریسٹورانوں، کافی ہاؤسوں، رقص گاہوں، سینماؤں اور تفریح کے دوسرے مقاموں پر محفوظ ہو رہے تھے۔ مال روڈ پر موٹروں، تانگوں اور بائیسکلوں کا تانتا بندھا ہوا تو تھا ہی پٹڑی پر چلنے والوں کی بھی کثرت تھی۔ علاوہ ازیں سڑک کی دو رویہ دکانوں میں خرید و فروخت کا بازار بھی گرم تھا۔ جن کم نصیبوں کو نہ تفریح طبع کی استطاعت تھی نہ خرید و فروخت کی وہ دور ہی سے کھڑے کھڑے ان تفریح گاہوں اور دکانوں کی رنگا رنگ روشنیوں سے جی بہلا رہے تھے۔ نوجوان سیمنٹ کی بینچ پر بیٹھا اپنے سامنے سے گزرتے ہوئے زن و مرد کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظر ان کے چہروں سے کہیں زیادہ ان کے لباس پر پڑتی تھی۔ ان میں ہر وضع اور ہر قماش کے لوگ تھے۔ بڑے بڑے تاجر، سرکاری افسر، لیڈر، فنکار، کالجوں کے طلبہ اور طالبات، نرسیں، اخباروں کے نمائندے، دفتروں کے بابو، زیادہ تر لوگ اوور کوٹ پہنے ہوئے تھے، ہر قسم کے اوور کوٹ قراقلی کے بیش قیمت اوور کوٹ سے لے کر خاکی پٹی کے پرانے فوجی اوور کوٹ تک جنہیں نیلام میں خریدا گیا تھا۔ نوجوان کا اپنا اوور کوٹ تھا تو خاصا پرانا، مگر اس کا کپڑا خوب بڑھیا تھا، پھر وہ سلا ہوا بھی کسی ماہر درزی کا تھا۔ اس کو دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا کہ اس کی بہت دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ کالر خوب جما ہوا تھا۔ بانہوں کی کریزیں بڑی نمایاں، سلوٹ کہیں نام کو نہیں، بٹن سینگ کے بڑے بڑے چمکتے ہوئے۔ نوجوان اس میں بہت مگن معلوم ہوتا تھا۔ ایک لڑکا پان بیڑی سگرٹ کا صندوقچہ گلے میں ڈالے سامنے سے گزرا تو نوجوان نے آواز دی۔ ”پان والا“ ”جناب“ ”دس کا چینج ہے؟“ ”ہے تو نہیں۔ لا دوں گا۔ کیا لیں گے آپ؟“ ”نوٹ لے کے بھاگ گیا تو؟“ ”اجی واہ۔ کوئی چور اچکا ہوں جو بھاگ جاؤں گا۔ اعتبار نہ ہو تو میرے ساتھ چلیے۔ لیں گے کیا آپ؟“ ”نہیں نہیں ہم خود چینج لائیں گے۔ لو یہ اکنی نکل آئی۔ ایک سگریٹ دے دو اور چلے جاؤ“۔ لڑکے کے جانے کے بعد مزے مزے سے سگریٹ کے کش لگانے لگا۔ وہ ویسے ہی بہت خوش نظر آتا تھا۔ سگریٹ کے مصفا دھوئیں نے اس پر سرور کی کیفیت طاری کر دی۔ ایک چھوٹی سی سفید رنگ کی بلی سردی میں ٹھٹھری ہوئی بینچ کے نیچے اس کے قدموں کے پاس آ کر میاؤں میاؤں کرنے لگی۔ اس نے پچکارا تو اچھل کر بینچ پر آ چڑھی۔ اس نے پیار سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور کہا ”پیور لِٹل سول!“ اس کے بعد وہ بینچ سے اٹھ کھڑا ہوا اور سڑک کو پار کر کے اس طرف چلا جدھر سینما کی رنگ برنگی روشنیاں جھلملا رہی تھیں۔ تماشا شروع ہو چکا تھا۔ سینما کے برآمدے میں بھیڑنہ تھی، صرف چند لوگ تھے جو آنے والی فلموں کی تصویروں کا جائزہ لے رہے تھے۔ یہ تصویریں چھوٹے بڑے کئی بورڈوں پر چسپاں تھیں۔ ان میں کہانی کے چیدہ چیدہ مناظر دکھائے گئے تھے۔ تین نوجوان اینگلو انڈین لڑکیاں ان تصویروں کو ذوق و شوق سے دیکھ رہی تھیں، ایک خاص شان استغنا کے ساتھ، مگر صنف نازک کا پورا پورا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے۔ وہ بھی ان کے ساتھ ساتھ مگر مناسب فاصلے سے ان تصویروں کو دیکھتا رہا۔ لڑکیاں آپس میں ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتی جاتی تھیں اور فلم پر رائے زنی بھی۔ اچانک ایک لڑکی نے، جو اپنی ساتھ والیوں سے زیادہ حسین بھی تھی اور شوخ بھی، ایک قہقہہ لگایا اور پھر وہ تینوں ہنستی ہوئی باہر نکل گئیں۔ نوجوان نے اس کا کچھ اثر قبول نہ کیا اور تھوڑی دیر کے بعد وہ خود بھی سینما کی عمارت سے باہرنکل آیا۔ اب7 بج چکے تھے اور وہ مال کی پٹڑی پر پھر پہلے کی طرح مٹر گشت کرتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ ایک ریسٹوران میں آرکسٹرا بج رہا تھا۔ اندر سے کہیں زیادہ باہر لوگوں کا ہجوم تھا۔ ان میں زیادہ تر موٹروں کے ڈرائیور، کوچوان، پھل بیچنے والے جو اپنا مال بیچ کے خالی ٹوکرے لیے کھڑے تھے، کچھ راہ گیر جو چلتے چلتے ٹھہر گئے تھے، کچھ مزدوری پیشہ لوگ تھے اور کچھ گداگر۔ یہ اندر والوں سے کہیں زیادہ گانے کے رسیا معلوم ہوتے تھے، کیونکہ وہ غل غپاڑا نہیں مچا رہے تھے، بلکہ خاموشی سے نغمہ سن رہے تھے۔ حالانکہ دھن اور ساز اجنبی تھے۔ نوجوان پل بھر کے لیے رکا اور پھر آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی دور چل کے اسے انگریزی موسیقی کی ایک بڑی سی دکان نظر آئی اور وہ بلاتکلف اندر چلا گیا۔ ہر طرف شیشے کی الماریوں میں طرح طرح کے انگریزی ساز رکھے تھے۔ ایک لمبی میز پر مغربی موسیقی کی دو ورقی کتابیں چنی تھیں۔ یہ نئے چلنتر گانے تھے۔ سرورق خوبصورت رنگ دار مگر دھنیں گھٹیا۔ ایک چھچلتی ہوئی نظر ان پر ڈالی، پھر وہاں سے ہٹ آیا اور سازوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔ ایک ہسپانوی گٹار، جو ایک کھونٹی سے ٹنگی ہوئی تھی، پر ناقدانہ نظر ڈالی، اور اس کے ساتھ قیمت کا جوٹکٹ لٹک رہا تھا اسے پڑھا۔ اس سے ذرا ہٹ کر ایک بڑا جرمن پیانو رکھا تھا۔ اس کا کور اٹھا کے انگلیوں سے بعض پرزوں کو ٹٹولا اور پھر کوربند کردیا۔ دکان کا ایک کارندہ اس کی طرف بڑھا۔ ”گڈا یوننگ سر۔ کوئی خدمت؟“ ” نہیں شکریہ۔ ہاں اس مہینے کی گرامو فون ریکارڈوں کی فہرست دے دیجئے“۔ فہرست لے کے اوور کوٹ کی جیب میں ڈالی۔ دکان سے باہر نکل آیا اور پھر چلنا شروع کردیا۔ راستے میں ایک چھوٹا سا بک سٹال پڑا۔ نوجوان یہاں بھی رکا۔ کئی تازہ رسالوں کے ورق الٹے۔ رسالہ جہاں سے اٹھاتا بڑی احتیاط سے وہیں رکھ دیتا اور آگے بڑھا تو قالینوں کی ایک دکان نے اس کی توجہ کو جذب کیا۔ مالک دکان نے، جو ایک لمبا سا چغہ پہنے اور سر پر کلاہ رکھے تھا، نے گرم جوشی سے اس کی آؤ بھگت کی۔ ”ذرا یہ ایرانی قالین دیکھنا چاہتا ہوں۔ اتاریئے نہیں یہیں دیکھ لوں گا۔ کیا قیمت ہے اس کی؟“ ”چودہ سو بتیس روپے“۔ نوجوان نے اپنی بھنوؤں کو سکیٹرا، جس کا مطلب تھا ”اوہو اتنی“۔ دکاندار نے کہا ”آپ پسند کر لیجئے۔ ہم جتنی بھی رعایت کرسکتے ہیں کردیں گے“۔ ”شکریہ لیکن اس وقت تو میں صرف ایک نظر دیکھنے آیا ہوں“۔ ”شوق سے دیکھیے۔ آپ ہی کی دکان ہے“۔ وہ تین منٹ کے بعد اس دکان سے بھی نکل آیا۔ اس کے اوور کوٹ کے کاج میں شربتی رنگ کے گلاب کا جو ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا تھا وہ اس وقت کاج سے کچھ زیادہ باہر نکل آیا تھا۔ جب وہ اس کو ٹھیک کر رہا تھا تو اس کے ہونٹوں پر ایک خفیف اور پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے پھر اپنی مٹرگشت شروع کردی۔ اب وہ ہائیکورٹ کی عمارتوں کے سامنے سے گزررہاتھا۔ اتنا کچھ چل لینے کے بعد اس کی طبیعت کی چونچالی میں کچھ فرق نہیں آیا تھا۔ نہ تکان محسوس ہوئی تھی نہ اکتاہٹ۔ یہاں پٹڑی پر چلنے والوں کی ٹولیاں کچھ چھٹ سی گئی تھیں اور ان میں کافی فاصلہ رہنے لگا تھا۔ اس نے اپنی بید کی چھڑی کو ایک انگلی پر گھمانے کی کوشش کی۔ مگر کامیابی نہ ہوئی اور چھڑی زمین پر گر پڑی ”او سوری“ کہہ کر زمین پر جھکا اور چھڑی کو اٹھا لیا۔ نوجوان نے شام سے اب تک اپنی مٹرگشت کے دوران میں جتنی انسانی شکلیں دیکھی تھیں ان میں سے کسی نے بھی اس کی توجہ کو اپنی طرف منعطف نہیں کیا تھا۔ فی الحقیقت ان میں کوئی جاذبیت تھی ہی نہیں۔ یا پھر وہ اپنے حال میں ایسامست تھا کہ کسی دوسرے سے اسے سروکاری ہی نہ تھا۔ مگر اس دلچسپ جوڑے نے، جس میں کسی افسانے کے کرداروں کی سی ادا تھی، جیسے یکبارگی اس کے دل کو موہ لیا تھا اور اسے حددرجہ مشتاق بنادیا کہ وہ ان کی اور بھی باتیں سنے اور ہوسکے تو قریب سے ان کی شکلیں بھی دیکھ لے۔ اس وقت وہ تینوں بڑے ڈاک خانے کے چوراہے کے پاس پہنچ گئے تھے۔ لڑکا اور لڑکی پل بھرکورکے اور پھر سڑک پار کر کے میکلوڈ روڈ پر چل پڑے۔ نوجوان مال روڈ پر ہی ٹھہرا رہا۔ شاید وہ سمجھتا تھا کہ فی الفور ان کے پیچھے گیا تو ممکن ہے انہیں شبہ ہوجائے کہ ان کا تعاقب کیا جارہا ہے۔ اس لیے اسے کچھ لمحے رک جانا چاہیے۔ جب وہ لوگ کوئی سو گز آگے نکل گئے تو اس نے لپک کر ان کا پیچھا کرنا چاہا۔ مگر ابھی اس نے آدھی ہی سڑک پار کی ہوگی کہ اینٹوں سے بھری ہوئی ایک لاری پیچھے سے بگولے کی طرح آئی اور اسے روندتی ہوئی میکلوڈ روڈ کی طرف نکل گئی۔لاری کے ڈرائیور نے نوجوان کی چیخ سن کر پل بھر کے لیے گاڑی کی رفتار کم کی۔ وہ سمجھ گیا کہ کوئی لاری کی لپیٹ میں آگیا اور وہ رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاری کو لے بھاگا۔ وہ تین راہ گیر جو اس حادثے کو دیکھ رہے تھے شور مچانے لگے نمبر دیکھو۔ مگر لاری ہوا ہوچکی تھی۔ اتنے میں کئی اور لوگ جمع ہوگئے۔ ٹریفک کا ایک انسپکٹر جو موٹرسائیکل پر جارہا تھا رک گیا۔ نوجوان کی دونوں ٹانگیں بالکل کچل گئی تھیں۔ بہت سا خون نکل چکا تھا اور وہ سسک رہا تھا۔ فوراً ایک کار کو روکا گیا اور اسے جیسے تیسے اس میں ڈال کے بڑے ہسپتال روانہ کردیا گیا۔ جس وقت وہ ہسپتال پہنچا تو اس میں ابھی رمق بھر جان باقی تھی۔ اس ہسپتال کے شعبہ حادثات میں اسسٹنٹ سرجن مسٹر خان اور دونو عمر نرسیں مس شہناز اور مس گل ڈیوٹی پر تھیں۔ جس وقت اسے سٹریچر پر ڈال کے آپریشن روم میں لے جایا رہا تھا تو ان نرسوں کی نظر اس پر پڑی۔ اس کا بادامی رنگ کا اوور کوٹ ابھی تک اس کے جسم پر تھا اور سفید سلک کا مفلر گلے میں لپٹا ہوا تھا۔ اس کے کپڑوں پر جا بجا خون کے بڑے بڑے دھبے تھے۔ کسی نے ازراہ درد مندی اس کی سبز فلیٹ ہیٹ اٹھا کے اس کے سینہ پر رکھ دی تھی تاکہ کوئی اڑانہ لے جائے۔ شہناز نے گل سے کہا” کسی بھلے گھر کا معلوم ہوتا ہے بے چارہ“۔ گل دبی آواز میں بولی۔” خوب بن ٹھن کے نکلا تھا بے چارہ ہفتے کی شام منانے“۔ ڈرائیور پکڑا گیا یا نہیں؟“ ”نہیں بھاگ گیا۔“ ”کتنے افسوس کی بات ہے“۔ آپریشن روم میں اسٹنٹ سرجن اور نرسیں چہروں پر جراحی کے نقاب چڑھائے جنہوں نے ان کی آنکھوں سے نیچے کے سارے حصے کو چھپارکھا تھا۔ اس کی دیکھ بھال میں مصروف تھے۔ اسے سنگ مرمر کی میز پر لٹادیا گیا۔ اس نے سر میں جو تیز خوشبودار تیل ڈال رکھا تھا۔ اس کی کچھ کچھ مہک ابھی تک باقی تھی۔ پٹیاں ابھی تک جمی ہوئی تھیں۔حادثے سے اس کی دونوں ٹانگیں تو ٹوٹ چکی تھیں مگر سر کی مانگ نہیں بگڑنے پائی تھی۔ اب اس کے کپڑے اتارے جارہے تھے۔ سب سے پہلے سفید سلک کا گلو بند اس کے گلے سے اتارا گیا۔ اچانک نرس شہناز اور نرس گل نے بیک وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھا، اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتی تھیں۔ چہرے جو دلی کیفیات کا آئینہ ہوتے ہیں، جراحی کے نقاب تلے چھپے ہوئے تھے اور زبانیں بند۔ نوجوان کے گلو بند کے نیچے نکٹائی اور کالر، کیا سرے سے قمیض ہی نہیں تھی۔ اوور کوٹ اتارا گیا تو نیچے سے ایک بہت بوسیدہ اونی سویٹر نکلا جس میں جابجا بڑے بڑے سوراخ تھے۔ ان سوراخوں سے سویٹر سے بھی زیادہ بوسیدہ اور میلا کچیلا ایک بنیان نظر آرہا تھا۔ نوجوان سلک کے گلوبند کو کچھ اس ڈھب سے گلے پر لپیٹے رکھتا تھا کہ اس کا سارا سینہ چھپارہتا تھا۔ اس کے جسم پر میل کی تہیں بھی خوب چڑھی ہوئی تھیں۔ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کم سے کم پچھلے دو مہینے سے نہیں نہایا البتہ گردن خوب صاف تھی اور اس پر ہلکا ہلکا پوڈر لگا ہوا تھا۔ سویٹر اور بنیان کے بعد پتلون کی باری آئی اور شہناز اور گل کی نظریں پھر بیک وقت اٹھیں۔ پتلون کو پیٹی کے بجائے اک پرانی دھجی سے جوشاید کبھی نکٹائی ہوگی خوب کس کے باندھا گیا تھا۔ بٹن اور بکسوے غائب تھے۔ دونوں گھنٹوں پر سے کپڑا مسک گیا تھا۔ اور کئی جگہ کھونچیں بھی لگی تھیں۔ مگر چونکہ یہ حصے اوور کوٹ کے نیچے رہتے تھے اس لیے لوگوں کی ان پر نظر نہیں پڑتی تھی۔ اب بوٹ اور جرابوں کی باری آئی اور ایک مرتبہ پھر مس شہناز اور مس گل کی آنکھیں چار ہوئیں۔ بوٹ تو پرانے ہونے کے باوجود خوب چمک رہے تھے۔ مگر ایک پاؤں کی جراب دوسرے پاؤں کی جراب سے بالکل مختلف تھی۔ پھر دونوں جرابیں پھٹی ہوئی بھی تھیں۔ اس قدر کہ ان میں سے نوجوان کی میلی میلی ایڑیاں نظر آرہی تھیں۔بلاشبہ اس وقت تک وہ دم توڑچکا تھا۔ اسی کا جسم سنگ مرمر کی میز پر بے جان پڑا تھا۔ اس کا چہرہ جو پہلے چھت کی سمت تھا کپڑے اتارنے میں دیوار کی طرف مڑ گیا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ جسم اور اس کے ساتھ روح کی اس برہنگی نے اسے خجل کردیا ہے اور وہ اپنے ہم جنسوں سے آنکھیں چرارہا ہے۔ اس کے اوور کوٹ کی مختلف جیبوں سے جو چیزیں برآمد ہوئیں وہ یہ تھیں۔ ایک چھوٹا ساسیاہ کنگھا، ایک رومال، ساڑھے چھ آنے، ایک بجھا ہوا آدھا سگریٹ، ایک چھوٹی سی ڈائری جس میں لوگوں کے نام اور پتے لکھے تھے، نئے گراموفون ریکارڈوں کی ایک ماہانہ فہرست اور کچھ اشتہار جو مٹرگشت کے دوران میں اشتہار بانٹنے والوں نے اس کے ہاتھ میں تھمادیئے تھے اور اس نے انہیں اوور کوٹ کی جیب میں ڈال لیا تھا۔
افسوس کہ اس کی بید کی چھڑی جو حادثے کے دوران میں کہیں کھوگئی تھی اس فہرست میں شامل نہ تھی۔

فنون



فنون

مدیر: نیّر حیات قاسمی

مدیر اعزازی: ڈاکٹر ناہید قاسمی

صفحات: 320

قیمت: 200 روپے

رابطہ: 251 بلاک، F-2 واپڈا ٹاؤن۔لاہور quarterlyfunoon@gmail.com

اردو ادب کے جاننے والوں میں شاید ہی کوئی ہو جو احمد ندیم قاسمی اور ان کی ادارت میں شائع ہونے والے جریدوں کے بارے میں نہ جانتا ہو۔ فنون کا پہلا شمارہ اپریل تا جون 1963 تھا۔ اس شمارے کے اداریے میں انہوں نے بڑی حقیقت پسندانہ بات کہی تھی: ’فنون اس کے مرتبین کے ذوقِ فن کا اظہار ہے‘۔ اس میں صرف اتنا اضافہ کیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ادبی جریدے سے ذوقِ فن کا یہ اظہار تگ و دو کے ساتھ ساتھ خوش نصیبی سے بھی مشروط ہوتا ہے کیونکہ اگر مرتبین کو تمام تر تگ و دو کے باوجود اپنے ذوق کے معیار پر پورے اترنے والی تخلیقات میسر نہیں آتیں تو محض ذوق کچھ نہیں کر سکتا۔

احمد ندیم قاسمی نے جب فنون شروع کیا تھا تو شاعری کے ساتھ ساتھ اردو فکشن اپنی بلندیوں پر تھا اور مزید اوپر جانے کے اشارے دے رہا تھا لیکن پھر یہ سلسلہ فکشن میں صرف ناول تک سمٹ کر رہ گیا کیونکہ گزشتہ پچاس سال کے دوران اردو میں لکھنا شروع کرانے والوں میں ایک بھی افسانہ یا کہانی نگار ایسا نہیں ہے جو اپنی تخلیقی شناخت اور اسلوب میں الگ بھی ہو اور پڑھنے والوں سے وسیع تر رشتہ بھی رکھتا ہو۔اس بارے میں اگر مگر تو کی جا سکتی لیکن شاید اس حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اس لیے احمد ندیم قاسمی کو جو آسانی میسر تھی وہ اب نہیں ہے۔ شاید اسی نے اردو کے ادبی پرچوں کی زندگیوں، آزادیوں اور رسائی کو متاثر کیا ہے۔

کیا کیا جائے کے اوّل تو مشاعرے نہیں ہیں اور ہیں تو ان میں پانے والی شاعری صفحے پر آنے کے بعد ہانپنے اور ریں ریں کرنے لگتی ہے۔ یہی حال تنقید کا بھی ہے۔ تنقید کا منصب تخلیق سے دو قدم آگے چلنے کا ہے لیکن وہ نہ صرف پیچھے چل رہی ہے بلکہ گھسٹتی ہوئی چل رہی ہے۔

اس پس منظر میں فنون نے ذرا دم لے کر آگے چلنے کا قصد کیا ہے اور شمارہ 130 اکتوبر 2010 سے جون 2011 تک کی مدت کا ہے یعنی دو سہ ماہیوں کا ایک۔ اس میں پہلےانچاس صفحوں پر اداریہ، بین السطور، حمد و نعت، قندِ مقرر کے طور پر ابوالخیر مودودی کا ایک ترجمہ، احمد ندیم قاسمی اور مسعود مفتی کی تحریریں اور فیض احمد فیض صد سالہ یومِ ولادت سے فیض کی دو غزلیں اور تین نظمیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس حصے میں احمد ندیم قاسمی کا فیض احمد فیض کی شاعری پر ایک مضمون ہے جس کے بارے میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ پہلے بھی شائع ہو چکا ہے یا نہیں۔ یہ حصہ یقیناً دلچسپی کا حامل ہے۔

--------------------------------------------------------------------
احمد ندیم قاسمی سہ ماہی فنون کی روحِ رواں ہیں، نیّر حیات اور ڈاکٹر ناہید نے ان کے ذوقِ اظہار کو برقرار رکھنے کو کوشش کی ہے۔
---------------------------------------------------------------------
اس کے بعد مقالات کا حصہ ہے جس میں ڈاکٹر سلیم احمد نے دوستوفسکی کے ناول ’نوٹس فرام انڈر گراؤنڈ‘ کا جائزہ ’تہہ خانے سے‘ کے عنوان سے لیاہے لیکن اس کے مقابلے میں ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کا مضمون ’ورجینیا وولف سے سب ڈرتے کیوں ہیں؟‘ زیادہ دلچسپ، وسیع اور گہرا ہے۔ یہ مضمون قراۃالعین حیدر اور ان کے ناولوں کے بارے میں ہے۔ اس میں صرف وہ حصہ مضمون سے لگا نہیں کھاتا جس میں انہوں نے شفیق الرحمٰن، قدرت اللہ شہاب اور خواجہ احمد عباس کی قراۃالعین حیدر سے قربیتں اور فاصلے بیان کیے ہیں۔ تین مضمون ان مدرسین کی دلچسپی کے ہیں جو پڑھتے بھی ہوں۔ یہ مضمون ڈاکٹر یار محمد، پروفیسر عامر سہیل اور ہارون رشید کے ہیں۔ ظفر سپل کا مضمون ’منطقی اثباتیت‘ کے بارے میں ہے اور یقیناً طلبا کی دلچسپی کا حامل ہے۔

فن فنکار کے عنوان سے قائم کیے جانے والے حصے میں پہلا مضمون سید قمر حیدر قمر کا ہے اور نورین طلعت عروبہ کی نعتوں کے مجموعے ’حاضری ‘ کے بارے میں ہے اور خاصا جذباتی ہے، نہیں لگتا کہ اس سے شاعرہ اور نعت کہنے کے ہنر کا کوئی بھلا ہو سکتا ہے۔ اس حصے میں جمیل یوسف نے سلطان سکون کی شاعری کا جائزہ لیا ہے اور ان کا کہنا ہے ’سید عبدالحمید عدم کے بعد شاید ہی کسی نے غزل میں اس قدر سادہ اور روز مرہ کی زبان استعمال کی ہو، ہر شعر سہلِ ممتنع ہے‘۔ شاید جمیل یوسف کے پاس معاصر غزل کو غور سے دیکھنے کا وقت نہیں ہے۔ اسی حصے میں ڈاکٹر خورشید جہاں کی انشائیہ نگاری کے بارے میں پروفیسر افتخار اجمل شاہین کا اور ’بیان سے جانا۔ کرشن کمار طور‘ کے عنوان سے ڈاکٹر جمال نقوی کے مضمون ہیں۔ ڈاکٹر نقوی کا مضمون خاصی شکر گزاری پر مبنی ہے۔

نظموں کے حصے میں احمد ندیم قاسمی کے علاوہ آفتاب اقبال شمیم، احسان اکبر، خورشید رضوی، امجد اسلام امجد، ایوب خاور، امتیاز الحق امتیاز، نصیر احمد ناصر، سید عارف، اعجاز رضوی، احمد حسین مجاہد، طالب انصاری، رانا ذکا اللہ، اقتدار جاوید، شہزاد نیر، سیدہ آمنہ بہار، عنبریں صلاح الدین، عامر سہیل، عاصم خورشید، سلمٰی افتخار، بہزاد برہم، حسین رحمان، نیّر حیات قاسمی اور ناہید قاسمی کی تخلیقات ہیں۔ نصیر احمد ناصر اور نیّر قاسمی کی نظمیں زیادہ قابلِ توجہ ہیں۔ ناہید قاسمی کی نظم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ نظم میں ایڈیٹنگ کتنی اہم ہوتی ہے۔

غزلوں کا حصہ بھی احمد ندیم قاسمی صاحب سے شروع ہوتا ہے اور اس میں مشکور حسین یاد، جمیل یوسف، احسان اکبر، آصف ثاقب، امجد اسلام امجد، خورشید رضوی، سلطان شکوہ، شبنم شکیل، جلیل عالی، نجیب احمد، یوسف حسن، سید عارف، نصیر احمد ناصر، امتیاز الحق امتیاز، اشرف جاوید، ہارون رشید، حسن عباس رضا، عابد ودود، قمر الدین خورشید، احمد حسین مجاہد، رانا ذکا اللہ، اوصاف شیخ، ثاقب مجید، آغا نثار، شہاب صفدر، انیل چوہان، سعید خان، آمنہ بہار، حسین اختر، صائمہ اسماء، عنبرین صلاح الدین، محمد مختار علی، عامر سہیل، توقیر ارتضٰی، اطہر شاہ جعفری، سرفراز زاہد، مبشر سعید، نصرت زہرہ، زاہد نبی اور نیّرحیات قاسمی کی تخلیقات ہیں۔
-----------------------------------------------

امجد اسلام امجد نے مصحفی کے پنجم، ششم اور ہفتم دواوین سے انتخاب کیا ہے اور خاصے اچھے شعر نکالے ہیں۔
-----------------------------------------------------------
افسانوں کے حصے میں ضیا بٹ، نگہت مرزا، نصرت منیر، علی تنہا، فرحت پروین، نیلم بشر احمد، رئیس فاطمہ، نجیحہ عارف، سلمٰی افتخار صدیقی، عطرت بتول، محمد نعیم دیپالپوری اور نیّر حیات قاسمی کی تخلیقات ہیں۔ دو افسانے زیادہ توجہ کے قابل ہیں ایک تو ’لا مکاں میرا مکاں‘ ہے اور دوسرا ’بھول کی گھنٹیاں‘، بھول کی گھنٹیاں اس لیے اہم ہے کہ اس میں بہت کچھ کہنے کوشش میں افسانہ عمدہ ہوتے ہوتے رہ گیا ہے۔ نیّر کا افسانہ تجرید کی تجسیم اور اسے کہانی میں ڈھالنے کی کوشش ہے اگر اسے اتنا کھولا نہیں جاتا تو یہ ایک انتہائی عمدہ کہانی بن سکتی تھی۔ دیگر افسانے اگر ساٹھ ستر سال قبل شائع ہوتے تو بہت توجہ حاصل کرتے اور افسانہ نگاروں کو اس بات کی داد ضرور ملتی کہ ان میں امکانات ہیں۔

اس شمارے کی اور اہم، پڑھنے اور کئی بار پڑھنے لائق چیزوں میں حمید اختر کی کتاب ’کال کوٹھری‘ سے اقتباس، سلمٰی اعوان کا سفر نامہ ’پڑھنے چلی ہوں نوحہ بغداد کا‘ اور مصحفی کا انتخاب ہیں۔ یہ انتخاب امجد اسلام امجد نے کیا ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ یہ شمارہ اول تا آخر پڑھنے لائق ہے، اس میں قارئین کی دلچسپی کے لیے بھی بہت کچھ ہے۔


جمعہ، 26 اگست، 2011

اتوار، 21 اگست، 2011

جمعہ، 19 اگست، 2011

تماش بین ۔۔محمد حمید شاہد

عورت اور خُوشبو ہمیشہ سے میری کمزوری رہے ہیں۔
شاید مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ عورت اور اس کی خُوشبو میری کمزوری رہے ہیں۔
یہ جو‘ اَب میں عورت کو بہ غور دیکھنے یا نظر سے نظر ملا کر بات کرنے سے کتراتا ہوں تو میں شروع سے ایسا نہیں ہوں۔
ہاں تو میں کَہ رہا تھا‘ عورت اور اُس کی خُوشبو ہمیشہ سے مجھے مرغوب رہے ہیں۔
اس روز‘ جب وہ میرے آفس میں داخل ہوئی تھی ‘ عورت کو چہرے کی بہ جائے نیچے سے اوپر قسطوں میں دیکھنے کی خواہش میرے اَندر شدّت سے مچل رہی تھی۔
ہوا یوں کہ میں نے جیفرے آرچر کی کہانیوں کی کتاب”اے ٹوسٹ اِن دی ٹیل“ رات ہی ختم کی تھی اور اسکی کہانی جو ایمینڈا کرزن نامی دِل کش دوشیزہ کے گرد گھومتی تھی‘ میرے حواس پربُر ی طرح چھائی ہوئی تھی۔
میں رات بھر وقفے وقفے سے خواب دیکھتا رہا۔ نامکمل خواب۔
نامکمل کی بہ جائے مجھے تشنہ کہنا چاہیے ۔
پہلے سارے میں دُھند ہی دُھند ہوتی ‘پھر اُونچی اِیڑی والے سیاہ جوتوں اور سٹاکنگ سے جھانکتی گوری گوری سڈول ٹانگیں نظر آتیں‘ پھر مجھے یوں لگتا جیسے کوئی شطرنج کی چال چل رہا ہو۔ اس کے ساتھ ہی خواب رِی وائنڈ ہو کر رِی پلے ہونے لگتا۔
ایک ہی منظر باربار دیکھ کر میں خواب میں جھنجھلاہٹ کا شکار ہوا ۔ میں نے لڑکی کا پورا ہیولا دِیکھنا چاہا مگر ہر بار میرا تصور ٹوٹ ٹوٹ جاتا۔
جب وہ میرے آفس میں داخل ہوئی تب تک میں اُس کہانی کے چنگل سے نہ نکلا تھا۔ اُس کی آواز سن کر چونکا تو اس کا چہرہ دیکھنے کی بہ جائے نگاہ اس کے قدموں کی طرف لپکی ۔ میں نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ میں عموماً لڑکیوں کو کس ترتیب سے دِیکھنے کا عادی رہا ہوں۔ ٹھہرےے‘مجھے سوچ لینے دِیجئے۔ شاید میں پہلے ہونٹ دیکھتا ہوں گا۔ رَس بھری قاشوں کی طرح سرخ ‘ تروتازہ چھوٹے بڑے ‘ادا سے کھلتے آپس میں جڑتے ہونٹ۔ یا پھر آنکھیں دِیکھتا ہوں گا‘ گہری جھیل جیسی آنکھیں ‘ بڑی بڑی آنکھیں کہ جن میں کائنات سما جائے۔ کالی‘ نیلی یا پھر بھوری آنکھیں۔ نہیں میرا خیال ہے میں چہرہ لخت لخت نہیں بل کہ مکمل دِیکھتا رہا ہوں۔ جب کبھی کوئی چہرہ مجھے متاثرکرتا ہو گا تو اُسے مُفصَّل دِیکھتا ہوں گا۔
لیکن یہ کبھی بھی نہیں ہوا کہ میں نے کسی کو قدموں سے دِیکھنا شروع کیا ہو۔ تاہم جیفرے آرچر کی کہانی کے زِیر اَثر میری نظر اُس کے قدموں پر پڑی۔ ایمینڈاکرزن جب اس کلب کی عمارت میں داخل ہوئی تھی‘ جہاں شطرنج کا ٹورنامنٹ ہو رہا تھاتو اس نے اونچی اِیڑی والے سیاہ ویلوٹ کے جوتے پہن رکھے تھے۔ میں گذشتہ رات اِنہی سیاہ جوتوں کے اُوپر گوری گوری سڈول پنڈلیاں دِیکھتا رہا تھا۔ میں نے جب اُس کے قدموں کو دِیکھا تو مجھے پہلا دھچکا لگا۔
اس کے پاﺅں میں جو سینڈل تھے ‘وہ کبھی سیاہ رہے ہوں گے‘ لیکن کثرت اِستعمال اور پالش نہ ہونے کے سبب اب ان کا کوئی رنگ نہ تھا۔
دوسرا دھچکا مجھے اس وقت لگا‘ جب میں نے بے رنگ سینڈلوں میں سے جھانکتے سانولے پاﺅں اور ٹخنے دیکھے۔ میں بے دلی سے اوپر دیکھتا چلا گیا۔
راہ میں کوئی رکاوٹ نہ تھی جو میری نظر کوگرفت میں لے لیتی۔
ہاں‘ یہ بتانا تو میں ہی بھول گیا کہ جب میں نے جھولتے پائنچوں کے نیچے اس کے سانولے ٹخنوں کو دیکھا تھاا ور گوری شفاف جلد کا تصور ٹوٹ گیا تھا ‘تو میرا باطن مشتعل ہو گیا تھا۔ دِل کرتا تھا اُٹھوں اور اُس کے پائنچے نیچے کھینچ کر اُس کے سانولے ٹخنے ‘ پاﺅں اور بے رنگ جوتے اُن میں چھپا ڈالوں۔
میں جانتا ہوں یہ ایک بے ہودہ خیال تھا۔ مگر میں اس شاعرانہ خیال کا شدّت سے حامی رہا ہوں کہ.... وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ.... ایسے رَنگ جو میںاَدھورے اَدھورے گذشتہ رات خواب میں دیکھتا رہا تھا‘ اب دَھنک کی طرح اِدھر اُدھر بکھرے دیکھنا چاہتا تھا۔
غالباً میں یہ بتا چکا ہوں کہ ٹخنوں سے اُس کے چہرے تک بیچ میںرُکنے کا کوئی مَقام نہ آتا تھا۔
وہ آگے بڑھی اور میرے مقابل کرسی پر بیٹھ گئی۔
”جی میں بشریٰ ہوں.... شاہنواز کی بیوہ۔“
شاہنواز کو میں جانتا تھا۔ میں کیا دفتر کا ہر فرد جانتا تھا۔
اِس تعارف کے بعد میں نے بشریٰ کو غور سے دیکھا۔ وہ کیا بات تھی کہ کمہاروں کی اِس لڑکی کے لےے شاہنواز کو اپنے خاندان کی لڑکی سے منگنی توڑ کر عزیزوں کی ناراضی مول لینا پڑی۔
میں نے آنکھوں میں جھانکا۔ بہ ظاہر آنکھیں کالی تھیں مگر بہ غور دیکھنے پر بھورا رنگ غالب آنے لگتا تھا۔ پلکیں اُٹھا کر جب وہ اُوپر دِیکھتی تھی تو کوئی بھی دِل والا اُن میں ڈوب سکتا تھا۔ چہرہ گول نہ لمبوترا‘ بھرابھرا ‘ سانولا مگر شفاف ۔ منھ کا دہانہ چھوٹا تھا۔ ہونٹوں پر عموداً نفاست سے بنی لکیریں ‘ یوں جیسے پیمانہ رکھ کر اور مناسب فاصلے دے کر کھنچی گئی ہوں۔ وہ بات ٹھہر ٹھہر کر کرتی تھی‘ ایسے کہ سیدھی دل میں جا اُترتی ۔
یہ تسلیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ بشریٰ جیسی لڑکی کے لےے کچھ ناراضیاں مول لی جا سکتی تھیں۔
شاہنواز سے سب ناراض تھے مگر وہ بشریٰ کے ساتھ خُوش تھا۔
یہ بات اس نے کوئی ڈیڑھ برس پہلے تب بتائی تھی‘ جب اُس کی شادی کو صرف دوماہ گزرے تھے۔ تب وہ میرے پاس صدردفتر میں کام کرتا تھا۔ جب اُسے کوئی کام ہوتا تھا تو وہ باربار سامنے آکر کھڑا ہوجاتا۔ منھ سے کچھ نہ کہتا۔ حتّٰی کہ میں خود پوچھنے پر مجبور ہو جاتا۔
ایک روز وہ حسب معمول جب تیسری بار میرے سامنے چپ چاپ کھڑا ہو گیا تو میں نے معنی خیز نظروں سے اُسے دِیکھا۔ اُس نے جیب سے تہہ کی ہوئی درخواست نکالی‘ اُسے سیدھا کیا اور میرے سامنے رَکھ دی۔
وہ کینٹ برانچ میں تبادلہ چاہتا تھا۔
میں نے وجہ پوچھی توکہنے لگا:
”وہ جی یہاں سے روز گاﺅں جانا مشکل ہو جاتا ہے۔“
اس نے یہ اس قدر شرماتے ہوے کہا کہ میں ہنسے بنا نہ رہ سکا۔
اس کا تبادلہ کینٹ برانچ ہو گیا۔
یہ تبدیلی اس کے حق میں بہتر ثابت نہ ہوئی ۔کینٹ برانچ میں دِن دِہاڑے ڈاکہ پڑا۔گولی چلی اور وہ مزاحمت کرتے ہوے گولیوں کا نشانہ بن گیا۔
برانچ لٹنے سے بچ گئی تھی۔
مجھے شاہنواز کے مارے جانے کا بڑا دُکھ تھا۔ میں نے مناسب اِمدادی رقم کا کیس بنا کر اعلیٰ حکام کو بھیجا‘ جو منظور ہو گیا۔
میں نے مرحوم کی بیوہ کو اِطلاع کے لےے چٹھی لکھ دی۔
جب وہ آئی تو میں نے جیفرے آرچر کی کہانی زیرِاَثر اُسے ایک نئے ڈھنگ سے دیکھا۔ پھر جب وہ سامنے بیٹھ گئی اور دِھیرے دِھیرے گفتگو کرنے لگی تو مجھے اُس کے ہونٹوں کی جنبش بہت اچھی لگی تھی۔ اِس قدر اچھی کہ میں نے اُس روزاُسے چیک نہ دینے کا فیصلہ کیا۔
مجھے یاد نہیں پڑتا میں نے اُس سے کیا گفتگو کی تھی۔ ہاں اِتنا یاد ہے کہ اُس کے شوہر کی ہمت اور جرا ´ت کی تعریف کی تھی تو اُس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔ یوں کہ مجھے اُس کے ہونٹوں پر توجہ مرکوز رَکھنے میں دِقت ہو رہی تھی۔ پھر جب اُس کے اور شاہنواز کے عزیزوں کا تذکرہ چھیڑا تو اس نے بتایا‘اسے منحوس گردانا جا رہا تھا اور یہ کہ وہ بالکل اکیلی ہو گئی تھی۔ اُسے زمانے کے خراب ہونے کا بھی گلہ تھا۔ وہ اکیلی شہر آنا نہیں چاہتی تھی مگر کسی کو ساتھ لاتی تو کیسے؟ کہ جوان جہان تھی اور لوگ تو ایسے ہی موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ لوگوں کی زبانیں بھلا کیسے بند کی جاسکتی تھیں؟ لہٰذا وہ احتیاطاً کسی کو بھی ساتھ نہ لائی تھی۔
جب وہ زمانے کی خرابی کا ذِکر کر رہی تھی تو میں نے دِل ہی دِل میں خدا کا شکر ادا کیاکہ میں خراب نہ تھا۔ میری خواہشات ہمیشہ سے بے ضرر رہی ہیں۔ میں فقط پھول کو دِیکھتا اور خُوشبو سے مشامِ جاں معطر کرتا ہوں۔ ہنستی مسکراتی تروتازہ چہروں والی لڑکیاں کسے اَچھی نہیں لگتیں مجھے بھی اَچھی لگتی ہیں۔ میں ذرا ہمت والا ہوں اور اُن سے راہ ورسم بڑھا لیتا ہوں کہ اُن سے باتیں کر سکوں۔ اُن کی آنکھوں میں جھانک سکوں اور اُن کے کھنکتے قہقہوں کے پھولوں سے سماعت کی کارنس کو سجا لوں۔
غالباً میں نے آپ کو یہ نہیں بتایا کہ بشریٰ اُس روز جلد ی میں تھی۔ اُسے خدشہ تھا‘ گاﺅں جانے والی آخری گاڑی نکل جائے گی۔ مجھے اُس کی یہ بات اچھی نہ لگی تھی۔ جی چاہتا تھا ‘وہ کچھ اور بیٹھے۔ مگر جب وہ اُٹھ کھڑی ہوئی تو میں نے اس سے معذرت کی کہ چیک اُسے آج نہ مل سکے گا۔
میں نے اُسے آئندہ بدھ آنے کا کہا۔ وہ نہایت لجاجت سے کہنے لگی:
”اس روز چیک ضرور مل جانا چاہئے کہ باربار شہر آنا ممکن نہیں۔“
میں نے اُسے یقین دلایا: ”ایسا ہی ہوگا۔“
مگر جب اگلا بدھ آیا‘ میں دفتر میں کچھ فائلیں نکال رَہا تھااور بشریٰ ابھی تک نہیں آئی تھی کہ شکیلہ کا فون آگیا۔
وہی شکیلہ جو بات کرتی ہے تو اُس کے گال اُوپر کو اُچھلتے ہیں‘ ہنستی ہے تو آنکھیں میچ لیتی ہے اور بولتی ہے تو پہروں بولتے ہی چلی جاتی ہے۔
اُس کا فون بہت دِنوں بعد آیا تھا۔ وہ شہر سے باہر تھی۔ اب آئی تھی تو چاہتی تھی‘ میںاِسی وقت دفتر سے نکلوں‘ اُسے پک کروں اور کہیں بیٹھ کر ڈِھیر ساری باتیںسنوں۔
مجھے اس کی آفر اچھی لگی۔
میرے فرائض میں شامل ہے کہ میں وقتاً فوقتاً ذیلی دفاتر کوسرپرائز دوں۔ اُن کی کارکردگی چیک کروں۔ لہٰذا میرا دفتر سے بغیر اِطلاع غائب ہو جانا بھی اِسی زمرہ میں آتا ہے۔
پھر یوں ہوا کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا اور وہ بیت گیا۔
شکیلہ جیسی لڑکی کا ساتھ ہوتو وقت پلک جھپکتے میں گزر جاتا ہے۔
اُس روز دوبارہ دفتر نہ جاسکا۔
اور اگلے روز جب میں دفتر پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ بشریٰ آئی تھی اور یہ کہ وہ دفتر بند ہونے تک اِنتظار کرتی رہی۔
”مگر اس کی آخری گاڑی تو ساڑھے تین بجے جاتی تھی؟“
”جی ۔ وہ بھی یہی کہتی تھی پھر بھی اِنتظار کرتی رہی“
”پھر کہاں گئی؟“
”جی پتہ نہیں۔“
میں رات دیر سے سونے اور صبح دیر سے اُٹھنے کے باعث جلدی جلدی دفتر کے لےے تیاری کرتا ہوں۔ یوںنہ تو ناشتہ سکون سے کر سکتا ہوں اور نہ ہی اخبار پڑھ پاتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دفتر آتے ہی پہلے اخبار پڑھتا ہوں۔
اخبار میرے سامنے تھا اور روز مرہ کی طرح سیاست دانوں کے بیانات ‘ حادثات‘ قتل واغوا کی خبریں شائع ہوئی تھیں۔ من چلے نوجوان‘ جو راہ چلتی لڑکیوں پر آوازےں کستے ہیں۔ نئے نئے طریقوں سے ستاتے ہیں ۔ جدید ماڈل کی کاروں میں لفٹ دیتے ہیں۔ یا پھر سائلنسر اُترے شور مچاتے موٹر سائیکلوںپر سوار ہو کر آتے ہیں اور پرس لے اُڑتے ہیں۔ اِن مَن چلوں کی سرگرمیاں بھی اَخبارات کے چوکھٹوں میںجگہ پانے میں کام یاب ہوگئی ہیں۔ میں نے اَخبار تہہ کر کے ایک طرف رَکھ دِیا اور ہاتھ فائلوں کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ بشریٰ آگئی۔
اَب کے وہ آئی تو میرے اَندر اُسے نیچے سے اُوپر قسط دَرقسط دِیکھنے کی مطلق خواہش نہ تھی۔ تاہم نہ چاہتے ہوے بھی میں اُسے اُوپر سے نیچے اور نیچے سے اُوپر دِیکھ رہا تھا۔ اور دِل سینے کے اَندر ہی کہیں گہرا اور گہرا ڈوبتا جارہا تھا۔
اُس نے دروازے سے کرسی تک کا فاصلہ یوں طے کیا تھا جیسے اُس پر صدیوں کی مسافت طے کرنے کی تھکن ہو۔
وہ کرسی پر گر گئی۔ نظر سیدھی اُس کے ہونٹوں پرپڑی تو کلیجہ منھ کو آگیا۔
ہونٹ‘ یوں لگتا تھا‘ کسی نے چبا ڈالے تھے۔
اُس نے آنکھیں اُوپر اُٹھائیں۔ سوجی اور اُجڑی آنکھوں سے آنسو کب کے خشک ہو چکے تھے۔
میں بے قرار ہوگیا۔
”خیریت تو ہے نا خاتون؟“
”خیریت؟“
وہ سامنے خلا کو دِیکھ رہی تھی۔
میرے اَندر بے شمار وسوسے سر اُٹھانے لگے‘ مگر پوچھنے کا حوصلہ نہ تھا۔ میں نے گھنٹی دِے کر چپڑاسی کو بلایا۔ اُسے چیک لانے کو کہا۔ اور جب وہ چیک لے آیا تو اُسے تھمانے کے لےے بڑھایا۔
”یہ رہا آپ کا چیک“
وہ سسک پڑی ۔ منھ ہی منھ میں بڑبڑائی:
”چیک .... معاوضہ.... کس بات کا؟.... میرے شوہر کے مارے جانے کا
یاپھر....؟“
وہ اور کچھ نہ کَہ سکی ۔ اَپنے کٹے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبا لیا۔
اور مجھے یوں لگا جیسے اس کے گاﺅںجانے والی آخری گاڑی مجھے روندتی کچلتی گزر رہی تھی اور میرے سامنے آخری بازی جیتنے والی ایمینڈا نہیں آخری بازی ہارنے والی ایک دوسری بشریٰ تھی۔